A Woman Who Talks in Quranic Verse
ایک عورت جو ہمیشہ قرآنی آیات سے گفتگو کرتی تھی
حضرت عبداللّٰہ بن مبارک فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حج کو گیا ...
ایک سفر کے دوران راستے میں مجھے ایک بڑھیا بیٹھی ہوئی ملی جس نے اون کا مَلبوس پہنا ہوا تھا اور اون ہی کی اوڑھنی اوڑھے ہوئے تھی ...
میں نے اسے سلام کیا ...
تو اس نے جواب میں کہا:
"سلام قولا من رب رحيم"
میں نے پوچھا:
”اللّٰہ تم پر رحم کرے ...
یہاں کیا کر رہی ہو؟“
کہنے لگی:
"ومن يضلل اللّٰه فلا هادي له"
میں سمجھ گیا کہ وہ راستہ بھول گئی ہے، اس لئے میں نے پوچھا:
کہاں جانا چاہتی ہو؟
کہنے لگی:
"سبحان الذي اسرى بعبده ليلاً من المسجد الحرام إلى المسجد الأقصى"
(پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے وقت مسجد حرام سے مسجد اقصىٰ تک لے گئی)
میں سمجھ گیا کہ وہ حج ادا کر چکی ہے اور بیت المقدس جانا چاہتی ہے۔
میں نے پوچھا:
”کب سے یہاں بیٹھی ہو؟“
کہنے لگی:
"ثلث ليال" (تین راتیں)۔
میں نے کہا:
”تمہارے پاس کچھ کھانا وغیرہ نظر نہیں آرہا، کیا کھاتی ہو؟“
جواب دیا:
"هو يطعمني ويسقين" (وہ اللّٰہ مجھے کھلاتا پلاتا ہے)۔
میں نے پوچھا:
”وضو کس چیز سے کرتی ہو؟“
کہنے لگی:
"فتيمموا صعيداً طيباً" (پاک مٹی سے تیمم کرلو)۔
میں نے کہا:
”میرے پاس کچھ کھانا ہے، کھاؤ گی؟“
جواب میں اس نے کہا:
"أتموا الصيام إلى الليل" (رات تک روزوں کو پورا کرو)۔
میں نے کہا:
”یہ رمضان کا تو زمانہ نہیں ہے۔“
بولی:
"ومن تطوع خيراً فإن اللّٰه شاكر عليم"
(اور جو بھلائی کے ساتھ نفلی عبادت کرے تو اللّٰہ شکر کرنے والا اور جاننے والا ہے)۔
میں نے کہا:
”سفر کی حالت میں تو فرض روزہ نہ رکھنا بھی جائز ہے۔“
میں نے کہا:
”میری طرح کیوں بات نہیں کرتیں؟“
جواب ملا:
"ما يلفظ من قول إلا لديه رقيب عتيد"
(انسان جو بات بھی بولتا ہے، اس کے لئے ایک نگہبان فرشتہ مقرر ہے)۔
میں نے پوچھا:
”تم ہو کون؟ کس قبیلے سے ہو؟“
کہنے لگی:
"ولا تقف ما ليس لك به علم"
(جس بات کا تمہیں علم نہیں اس کے پیچھے مت پڑو)۔
میں نے کہا:
”مجھ سے غلطی ہوئی۔“
بولی:
"لا تثريب عليكم اليوم يغفر اللّٰه لكم"
(آج تم پر کوئی ملامت نہیں، اللّٰہ تمہیں معاف کرے)۔
میں نے کہا:
”اگر تم چاہو تو میری اونٹنی پر سوار ہو جاؤ اور اپنے قافلے سے جاملؤ۔“
کہنے لگی:
"وما تفعلوا من خير يعلمه اللّٰه"
(تم جو بھلائی کرو، اللّٰہ اسے جانتا ہے)۔
میں نے یہ سن کر اپنی اونٹنی کو بٹھا لیا،
مگر سوار ہونے سے پہلے وہ بولی:
"قل للمؤمنين يغضوا من أبصارهم"
(مومنوں سے کہہ کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں)۔
میں نے اپنی نگاہیں نیچی کر لیں اور اس سے کہا:
”سوار ہو جاؤ۔
“ لیکن جب وہ سوار ہونے لگی تو اچانک اونٹنی بگڑ کر بھاگ کھڑی ہوئی اور اس جدوجہد میں اس کے کپڑے پھٹ گئے۔
اس پر وہ بولی:
"ما أصابكم من مصيبة فبما كسبت أيديكم"
(تمہیں جو مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے اعمال کے سبب ہوتی ہے)۔
میں نے کہا:
”ذرا ٹھہرو، میں اونٹنی کو باندھ دوں پھر سوار ہونا۔“
وہ بولی:
"ففهمناها سليمان"
(ہم نے یہ مسئلہ سلیمان علیہ السلام کو سمجھا دیا)۔
میں نے اونٹنی کو باندھا اور اس سے کہا:
اب سوار ہو جاؤ۔
وہ سوار ہوگئی اور یہ آیت پڑھی:
"سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين وإنا إلى ربنا لمنقلبون"
(پاک ہے وہ ذات جس نے اس سواری کو ہمارے لئے رام کر دیا، اور ہم اس کو قابو میں کرنے والے نہیں تھے، اور بلا شبہ ہم سب اپنے پروردگار کی طرف لوٹنے والے ہیں)۔
میں نے اونٹنی کی مہار پکڑی اور چل پڑا ...
میں بہت تیز دوڑا جارہا تھا اور ساتھ ہی زور زور سے چیخ کر اونٹنی کو ہانک بھی رہا تھا ....
یہ دیکھ کر وہ بولی:
"واقصد في مشيك واغضض من صوتك"
(اپنے چلنے میں اعتدال سے کام لو اور اپنی آواز پست رکھو)۔
اب میں آہستہ آہستہ چلنے لگا اور کچھ اشعار ترنم سے پڑھنے شروع کئے ....
اس پر اس نے کہا:
"فاقرءوا ما تيسر من القرآن"
(قرآن میں سے جتنا حصہ پڑھ سکو وہ پڑھو)۔
میں نے کہا:
”تمہیں اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے بڑی نیکیوں سے نوازا گیا ہے۔“
بولی:
"وما يذكر إلا أولو الألباب"
(نصیحت صرف عقل والے ہی حاصل کرتے ہیں)۔
کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد میں نے اس سے پوچھا:
”تمہارا شوہر ہے؟“
بولی:
"لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم"
(ایسی چیزوں کے بارے میں مت پوچھو جو اگر تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں بری لگیں)۔
اب میں خاموش ہو گیا اور جب تک قافلہ نہیں مل گیا، میں نے اس سے کوئی بات نہیں کی ....
قافلہ سامنے آگیا تو میں نے اس سے کہا:
”یہ قافلہ سامنے آگیا ہے، اس میں تمہارا کون ہے؟“
کہنے لگی:
"المال والبنون زينة الحياة الدنيا"
(مال اور بیٹے دنیوی زندگی کی زینت ہیں)۔
میں سمجھ گیا کہ قافلے میں اس کے بیٹے موجود ہیں۔
میں نے پوچھا:
”قافلے میں ان کا کام کیا ہے؟“
بولی:
"وعلامات وبالنجم هم يهتدون"
(علامتیں ہیں اور ستارے ہی سے وہ راستہ معلوم کرتے ہیں)۔
میں سمجھ گیا کہ اس کے بیٹے قافلے کے رہبر ہیں۔ چنانچہ میں اسے لے کر خیمے کے پاس پہنچ گیا اور پوچھا:
”خیمے آگئے، اب بتاؤ تمہارا بیٹا کون ہے؟“
کہنے لگی:
"واتخذ اللّٰه إبراهيم خليلاً، وكلم اللّٰه موسى تكليماً .... يا يحيى خذ الكتاب بقوة"
یہ سن کر میں نے آواز دی:
یا ابراہیم ....
یا موسیٰ ....
یا یحییٰ ....
تھوڑی سی دیر میں چند نوجوان جو چاند کی طرح خوبصورت تھے ....
میرے سامنے آکھڑے ہوئے۔
جب ہم سب اطمینان سے بیٹھ گئے تو اس عورت نے اپنے بیٹوں سے کہا:
"فابعثوا أحدكم بورقكم هذه إلى المدينة فلينظر أيها أزكى طعاماً فليأتكم برزق منه"
(اب اپنے میں سے کسی کو یہ روپیہ دے کر شہر کی طرف بھیجو، پھر وہ تحقیق کرے کہ کون سا کھانا زیادہ پاکیزہ ہے، سو وہ تمہارے واسطے کچھ کھانا لے آئے)۔
یہ سن کر ان میں سے ایک لڑکا گیا اور کچھ کھانا خرید لایا ...
وہ کھانا میرے سامنے رکھا گیا تو عورت نے کہا:
"كلوا واشربوا هنيئاً بما أسلفتم في الأيام الخالية"
(خوشگواری کے ساتھ کھاؤ پیو، ان اعمال کے بدلے جو تم نے پچھلے دنوں میں کئے ہیں)۔
اب مجھ سے نہ رہا گیا ...
میں نے لڑکوں سے کہا:
”تمہارا کھانا مجھ پر حرام ہے جب تک مجھے اس عورت کی حقیقت نہ بتلاؤ۔“
لڑکوں نے بتایا کہ:
ہماری ماں کی چالیس سال سے یہی کیفیت ہے ....
چالیس سال سے اس نے قرآنی آیات کے سوا کوئی جملہ نہیں بولا اور یہ پابندی اس نے اپنے اوپر اس لئے لگائی ہے کہ کہیں زبان سے کوئی ناجائز یا نامناسب بات نہ نکل جائے جو اللّٰہ کی ناراضی کا سبب بنے ....
میں نے کہا:
"ذلك فضل اللّٰه يؤتيه من يشاء واللّٰه ذو الفضل العظيم"
(یہ اللّٰه کا فضل ہے جسے چاہے اپنا فضل دے،اور اللّٰہ تعالیٰ
بہت بڑے فضل کا مالک ہے)
بے شک۔۔۔۔۔
| A Woman Who Talks in Quranic Verse ایک عورت جو ہمیشہ قرآنی آیات سے گفتگو کرتی تھی |