Code of destiny or the effect of actions? Epigenetics: The science that proved that your 'DNA' is not a line in stone! تقدیر کا کوڈ یا اعمال کا اثر؟ ایپی جینیٹکس: وہ سائنس جس نے ثابت کر دیا کہ آپ کا ’ڈی این اے‘ پتھر پر لکیر نہیں!

Code of destiny or the effect of actions? Epigenetics: The science that proved that your 'DNA' is not a line in stone!
تقدیر کا کوڈ یا اعمال کا اثر؟ ایپی جینیٹکس: وہ سائنس جس نے ثابت کر دیا کہ آپ کا ’ڈی این اے‘ پتھر پر لکیر نہیں!

ہم سب بچپن سے ایک جملہ سنتے آ رہے ہیں: 

"اس کی ناک دادا جیسی ہے، اس کا غصہ باپ جیسا ہے، اور اس کی شوگر ماں کی طرف سے آئی ہے۔"

ہمیں سکولوں میں، کالجوں میں اور میڈیکل کی کتابوں میں صدیوں تک یہی پڑھایا گیا کہ انسان اپنے ڈی این اے (DNA) کا قیدی ہے۔ 

ہمیں بتایا گیا کہ ہماری آنکھوں کا رنگ، ہمارا قد، ہماری بیماریاں، اور ہماری عادات سب کچھ پیدائش سے پہلے طے ہو چکا ہے۔ 

ہم بس ایک "پروگرامڈ روبوٹ" ہیں جو اپنے جینز کے حکم پر چل رہے ہیں۔

لیکن دوستو! رک جائیں۔ 

یہ سائنس اب "پرانی" ہو چکی ہے۔ یہ نظریہ "ایکسپائر" ہو چکا ہے۔

اکیسویں صدی میں ایک نیا دھماکہ ہوا ہے جس کا نام ہے "ایپی جینیٹکس" (Epigenetics)۔

اس سائنس نے آ کر حیاتیات (Biology) کی دنیا میں وہ زلزلہ برپا کیا ہے جس نے انسان کو "کٹھ پتلی" کے مقام سے اٹھا کر "ماسٹر" (Master) کی کرسی پر بٹھا دیا ہے۔ 

آج میں آپ کو بتاؤں گا کہ کیسے آپ کی ایک سوچ، آپ کا ایک نوالہ، اور آپ کا ماحول آپ کے ڈی این اے کو بدل کر رکھ سکتا ہے۔

یہ تحریر پڑھنے کے بعد آپ یہ نہیں کہیں گے کہ 

"میں کیا کروں؟ میرا ڈی این اے ہی ایسا ہے۔" 

بلکہ آپ کہیں گے: 

"میں اپنے ڈی این اے کو اب خود ڈیزائن کروں گا!"

آئیے مشکل الفاظ کو کوڑے دان میں پھینکیں اور سادہ مثالوں سے بات کریں۔

مثال نمبر 1: ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر!

سمجھیں کہ آپ کا جسم ایک کمپیوٹر ہے۔

آپ کا ڈی این اے (DNA) اس کمپیوٹر کا "ہارڈ ویئر" ہے۔ (یعنی کی بورڈ، اسکرین، پروسیسر)۔ یہ بدلا نہیں جا سکتا۔

لیکن "ایپی جینیٹکس" اس کمپیوٹر کا "سافٹ ویئر" (ونڈوز/ایپس) ہے۔

ہارڈ ویئر وہی ہے، لیکن آپ اس پر کون سا سافٹ ویئر چلاتے ہیں، یہ آپ کی مرضی ہے۔ 

آپ چاہیں تو اس پر "گیم" کھیلیں (صحت مند رہیں) یا "وائرس" ڈاؤنلوڈ کر لیں (بیمار ہو جائیں)۔ 

ایپی جینیٹکس وہ آپریٹنگ سسٹم ہے جو بتاتا ہے کہ ہارڈ ویئر کو کیسے کام کرنا ہے۔

مثال نمبر 2: باورچی اور ریسیپی (Recipe)

سمجھیں کہ ڈی این اے ایک "کھانے کی کتاب" (Recipe Book) ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ "بریانی" کیسے بنانی ہے۔

لیکن کیا ہر باورچی کی بریانی کا ذائقہ ایک جیسا ہوتا ہے؟ 

نہیں!

ڈی این اے کتاب ہے، اور "ایپی جینیٹکس" وہ باورچی ہے۔

باورچی چاہے تو ریسیپی میں نمک کم کر دے، چاہے تو مرچیں بڑھا دے، یا چاہے تو کھانا جلا دے۔ 

کتاب (DNA) وہی ہے، لیکن نتیجہ (آپ کی صحت/کردار) بدل گیا۔ یہ اختیار ایپی جینیٹکس ہے۔

سائنسی تعریف:

لفظ "Epi" کا مطلب ہے "اوپر"۔ یعنی Genetics کے اوپر۔

یہ وہ کیمیکل مارکرز ہیں جو آپ کے جینز کے اوپر بیٹھتے ہیں اور انہیں حکم دیتے ہیں کہ: 

"تم چپ رہو (Switch Off)" 

یا 

"تم اپنا کام کرو (Switch On)"۔

اب سوال یہ ہے کہ ہمارے جسم کے اندر یہ "سوئچ" دباتا کون ہے؟

آپ کے ڈی این اے کے دھاگے بہت لمبے ہیں (تقریباً 2 میٹر ہر سیل میں)۔ قدرت نے انہیں ایک خاص طریقے سے لپیٹ کر رکھا ہے۔

میتھائلیشن (DNA Methylation) "اسٹیکر لگانا":

تصور کریں کہ جینز ایک "لائٹ بلب" ہیں۔ ایپی جینیٹکس ایک "اسٹیکر" (Methyl Group) ہے۔ اگر یہ اسٹیکر کسی جین (مثلاً کینسر والے جین) کے سوئچ پر لگ جائے، تو وہ جین "آف" (Off) ہو جاتا ہے۔ اگر یہ اسٹیکر ہٹ جائے، تو جین "آن" (On) ہو جاتا ہے۔

آپ کی اچھی خوراک اور ورزش یہ "اسٹیکرز" لگاتی اور ہٹاتی ہے۔

ہسٹون موڈیفکیشن (Histone Modification) "گیند اور دھاگہ":

ہمارا ڈی این اے پروٹین کی گیندوں (Histones) کے گرد لپٹا ہوتا ہے۔ اگر یہ دھاگہ بہت ٹائٹ (Tight) لپٹا ہو، تو اسے پڑھا نہیں جا سکتا (جین خاموش ہے)۔ اگر یہ ڈھیلا (Relaxed) ہو، تو جین ایکٹیو ہو جاتا ہے۔

آپ کی ٹینشن اور ڈپریشن اس دھاگے کو ٹائٹ یا ڈھیلا کرتی ہے۔

سائنس بغیر ثبوت کے بات نہیں کرتی۔ یہاں دو ایسے تجربات ہیں جنہوں نے دنیا ہلا دی۔

شہد کی مکھی کا جادو (The Queen Bee Effect):

ایک چھتے میں ہزاروں مکھیاں ہوتی ہیں۔ سب کا ڈی این اے بالکل، 100 فیصد ایک جیسا ہوتا ہے۔ 

لیکن ان میں سے ایک مکھی "ملکہ" (Queen) بن جاتی ہے جو سائز میں بڑی ہوتی ہے، انڈے دیتی ہے اور کئی سال زندہ رہتی ہے۔ 

باقی مکھیاں "مزدور" بنتی ہیں اور چند ہفتے جیتی ہیں۔

فرق کیا ہے؟ 

ڈی این اے تو ایک تھا؟

فرق صرف "خوراک" کا ہے۔ ملکہ مکھی کو بچپن میں "رائل جیلی" (Royal Jelly) کھلائی جاتی ہے۔ 

یہ خوراک اس کے جینز کو "ری-پروگرام" کر دیتی ہے اور اسے ایک عام مکھی سے "ملکہ" بنا دیتی ہے۔

سبق: خوراک جینز کو بدل سکتی ہے۔

آگاؤٹی چوہے (The Agouti Mice Study):

سائنسدانوں نے دو چوہے لیے جو جڑواں تھے (Identical DNA)۔ دونوں کے پاس ایک "بیماری والا جین" (Agouti Gene) تھا جو انہیں موٹا اور پیلا (Yellow) بناتا تھا اور کینسر پیدا کرتا تھا۔

ایک چوہے کی ماں کو نارمل کھانا دیا گیا۔ وہ بچہ موٹا، پیلا اور بیمار پیدا ہوا۔

دوسرے چوہے کی ماں کو "فولک ایسڈ اور وٹامنز" (B12) سے بھرپور کھانا دیا گیا۔

نتیجہ؟ 

وہ بچہ دبلا پتلا، بھورے رنگ کا اور صحت مند پیدا ہوا! حالانکہ اس کے اندر بھی وہی "بیماری والا جین" موجود تھا، لیکن اچھی خوراک نے اس جین کو "سوئچ آف" کر دیا تھا۔

سبق: آپ کا لائف اسٹائل آپ کے جینز کو خاموش کر سکتا ہے۔

آپ نے دیکھا ہوگا کہ جڑواں بچے (Identical Twins) جن کا ڈی این اے ایک جیسا ہوتا ہے، جب بڑے ہوتے ہیں تو ایک کو کینسر ہو جاتا ہے اور دوسرا 90 سال تک صحت مند رہتا ہے۔ 

کیوں؟

اگر ڈی این اے ہی سب کچھ ہوتا تو دونوں کو بیمار ہونا چاہیے تھا۔

وجہ "ایپی جینیٹکس" ہے۔

ایک بھائی نے سگریٹ پی، ٹینشن لی، فاسٹ فوڈ کھایا۔ اس نے اپنے "کینسر پروٹیکشن جینز" کو آف کر دیا۔

دوسرے بھائی نے ورزش کی، خوش رہا، اچھا کھایا۔ اس نے اپنے "بیماری والے جینز" کو آف رکھا۔

یعنی بندوق (DNA) دونوں کے پاس تھی، لیکن ٹریگر (Epigenetics) صرف ایک نے دبایا۔

تحریر کا یہ حصہ سب سے زیادہ حیران کن ہے۔ ایپی جینیٹکس کہتی ہے کہ آپ صرف اپنی زندگی نہیں جی رہے، آپ اپنے والدین اور نانی دادی کی زندگی بھی جی رہے ہیں۔

ہالینڈ کا قحط (Dutch Hunger Winter - 1944):

دوسری جنگ عظیم میں ہالینڈ میں شدید قحط پڑا۔ جو خواتین اس وقت حاملہ تھیں، انہوں نے بھوک کاٹی۔ ان کے بچے جب پیدا ہوئے تو وہ کمزور تھے۔ لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ جب ان بچوں کے بچے (تیسری نسل) پیدا ہوئے، تو وہ موٹاپے اور شوگر کا شکار تھے۔ حالانکہ انہوں نے کبھی قحط نہیں دیکھا تھا۔

کیوں؟

کیونکہ نانی کی "بھوک اور خوف" نے ان کے جینز پر ایک "مارکر" لگا دیا تھا کہ "دنیا میں کھانا کم ہے، جو ملے اسے چربی بنا کر ذخیرہ کر لو۔" یہ پیغام تیسری نسل تک پہنچا۔

 * سبق: آپ آج جو گناہ، جو ٹینشن، یا جو نشہ کر رہے ہیں، یہ صرف آپ کو خراب نہیں کر رہا؛ یہ آپ کے پوتے پوتیوں کے ڈی این اے میں "بیماری کا کوڈ" لکھ رہا ہے۔

تو میرے دوستو! 

خلاصہ کیا ہے؟

خلاصہ یہ ہے کہ آپ "مجبور" نہیں ہیں۔

سائنس نے ثابت کر دیا ہے کہ:

آپ کا سجدہ، آپ کا ذکر، اور آپ کا مراقبہ برے جینز کو "آف" کر سکتا ہے۔

آپ کی حلال خوراک آپ کے خلیات کی مرمت کر سکتی ہے۔

آپ کی مثبت سوچ آپ کے ڈی این اے کی وائرنگ بدل سکتی ہے۔

ڈی این اے ایک "پروپوزل" (تجویز) ہے، "فیصلہ" نہیں۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔

آپ اپنی کہانی کے مصنف (Writer) خود ہیں۔ آج سے، ابھی سے، اپنے خیالات، اپنی خوراک اور اپنے اعمال کو بدلیں، کیونکہ آپ صرف اپنی اصلاح نہیں کر رہے، آپ اپنی آنے والی نسلوں کی "جینیاتی تقدیر" لکھ رہے ہیں۔

یاد رکھیں: جینز بندوق جیسے ہیں، لیکن لائف اسٹائل ٹریگر جیسا ہے۔

Code of destiny or the effect of actions? Epigenetics: The science that proved that your 'DNA' is not a line in stone!  تقدیر کا کوڈ یا اعمال کا اثر؟ ایپی جینیٹکس: وہ سائنس جس نے ثابت کر دیا کہ آپ کا ’ڈی این اے‘ پتھر پر لکیر نہیں!
Code of destiny or the effect of actions? Epigenetics: The science that proved that your 'DNA' is not a line in stone!  تقدیر کا کوڈ یا اعمال کا اثر؟ ایپی جینیٹکس: وہ سائنس جس نے ثابت کر دیا کہ آپ کا ’ڈی این اے‘ پتھر پر لکیر نہیں!

Post a Comment

Previous Post Next Post