‘Liberal Sophistry’ Exposed in the Name of Science: Are Biological Facts ‘Exaggerated’? A Scientific Charge Sheet!
سائنس کے نام پر ’لبرل سوفسٹری‘ کا پردہ چاک: کیا حیاتیاتی حقائق ’مبالغہ‘ ہیں؟ ایک سائنسی چارج شیٹ!
جب منطق کی موت واقع ہو جائے تو الفاظ کی بازی گری (Sophistry) شروع ہوتی ہے۔
میرے حالیہ مضمون پر ایک ناقد نے بڑا ”سلجھا ہوا“ تبصرہ کیا اور مجھ پر ”مبالغہ آرائی“، ”سائنس کے غلط استعمال“ اور ”خوف پھیلانے“ کا الزام لگایا۔
ان کا لب و لہجہ بظاہر علمی تھا، مگر ان کے دلائل اسی کھوکھلی بنیاد پر کھڑے ہیں جس پر آج کا پورا ’لبرل آرڈر‘ کھڑا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ میں نے ہم جنس پرستی اور فیمنزم کے اثرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ رویہ ہمیشہ ”اقلیت“ میں رہا ہے، بیماریوں کا تعلق ”شناخت“ سے نہیں، اور خوشی کا تعلق ”معیشت“ سے ہے۔
آئیے! جذبات کو ایک طرف رکھتے ہیں اور ”خالص ڈیٹا“ (Pure Data) کی عدالت میں چلتے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ ”مبالغہ“ کون کر رہا ہے اور ”حقائق“ کس کے پاس ہیں۔
1۔ ”اقلیت“ کا دھوکہ اور ”معاشرتی سرایت“ (The Myth of Minority):
ناقد کا سب سے بڑا استدلال یہ ہے کہ
”ہم جنس رویہ ہمیشہ اقلیت میں رہا ہے، اس لیے اسے پوری نوعِ انسانی کے لیے خطرہ کہنا مبالغہ ہے۔“
یہ دلیل سوشیالوجی کے بنیادی اصول ”Social Contagion“ (معاشرتی سرایت) سے لاعلمی کا نتیجہ ہے۔
اعداد و شمار دیکھیے!
گیلپ (Gallup) کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق، امریکہ میں Baby Boomers (پرانی نسل) میں LGBTQ شناخت کا تناسب صرف 2.6% تھا، جبکہ Gen Z (موجودہ نوجوان نسل) میں یہ تناسب چھلانگ لگا کر 20.8% تک پہنچ چکا ہے۔
ریاضی کا اصول ہے کہ جو چیز ایک نسل میں 2 فیصد سے 20 فیصد ہو جائے، وہ ”اقلیت“ نہیں رہتی، وہ ایک ”وبائی رجحان“ (Epidemic Trend) بن جاتی ہے۔
اگر اگلی نسل میں یہ شرح اسی جیومیٹرک پروگریشن (Geometric Progression) سے بڑھی، تو 40 سے 50 فیصد آبادی تولیدی عمل (Reproduction) سے باہر ہو جائے گی۔
کیا آبادی کے نصف حصے کا تولیدی عمل سے نکل جانا ”نوعِ انسانی کے لیے خطرہ“ نہیں ہے؟
یہ مبالغہ نہیں، یہ ”شماریاتی وارننگ“ (Statistical Warning) ہے۔
(حوالہ: Gallup Poll Data, 2022 - "LGBT Identification in U.S. Ticks Up to 7.1%, Gen Z at 20.8%")
2۔ ”فطرت کا انتقام“ یا ”اناٹومی کی بغاوت“؟ (Biological Mismatch):
اعتراض کیا گیا کہ
”بیماریاں شناخت کی وجہ سے نہیں، غیر محفوظ رویوں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ اسے فطرت کا انتقام کہنا غلط ہے۔“
یہ ایک خطرناک سائنسی مغالطہ ہے۔
سائنس ”شناخت“ (Identity) کو نہیں، ”Anatomy“ (جسمانی ساخت) کو دیکھتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مرد کا فضلہ خارج کرنے والا مقام (Rectum) رگڑ اور دخول (Friction/Penetration) کے لیے ڈیزائن ہی نہیں ہوا۔ اس کی جھلی (Mucosa) صرف ایک خلیے جتنی پتلی ہوتی ہے (Single cell layer)، جو فوراً پھٹ جاتی ہے اور وائرس سیدھا خون میں داخل ہوتا ہے۔
اس کے برعکس، فطری تولیدی مقام (Vagina) کی جھلی کئی تہوں پر مشتمل (Multi-layered) اور لچکدار ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ امریکہ کی سرکاری ویب سائٹ (HIVdotgov) کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ایچ آئی وی کے 71% (اکثریت) نئے کیسز صرف "Gay & Bisexual Men" میں ہیں۔
یہ کوئی ”اتفاق“ نہیں ہے۔ یہ ”Cause and Effect“ ہے۔ جب آپ جسم کے ایک حصے کو اس کام کے لیے استعمال کریں گے جس کے لیے وہ ”ارتقائی طور پر“ (Evolutionarily) بنا ہی نہیں، تو نتیجہ ”تباہی“ ہی نکلے گا۔
میں اسے ”فطرت کا انتقام“ کہتا ہوں، آپ اسے ”حیاتیاتی نتیجہ“ کہہ لیں, انجام ایک ہی ہے۔
(حوالہ: HIVdotgov Statistics - "Gay, bisexual, and other men who have sex with men are the population most affected by HIV")
3۔ ”Born This Way“ کا سائنسی جنازہ (Genetic Reality):
ناقد نے تسلیم کیا کہ ”کوئی Gay Gene نہیں ہے“ مگر پھر بھی اسے نارمل رویہ کہا۔
یہاں لبرل بیانیے کا سب سے بڑا تضاد کھل کر سامنے آتا ہے۔
دہائیوں تک دنیا کو یہ جھوٹ بیچا گیا کہ "Born this way" (یہ لوگ ایسے ہی پیدا ہوتے ہیں)۔
2019 میں Science Magazine میں 5 لاکھ لوگوں پر ہونے والی تاریخ کی سب سے بڑی جینیاتی تحقیق (GWAS) نے واشگاف الفاظ میں اعلان کر دیا کہ:
"There is no single gay gene."
سائنس کی رو سے، اگر کوئی رویہ جینیاتی (Genetic) نہیں ہے، تو وہ لازمی طور پر ماحولیاتی، نفسیاتی یا نشوونما (Developmental) کا نتیجہ ہے۔
ارتقائی حیاتیات (Evolutionary Biology) کا اصول ہے کہ ہر وہ رویہ جو کسی جاندار کو ”افزائشِ نسل“ (Reproduction) سے روک دے، وہ ”Maladaptation“ (غیر موزوں) یا ”Disorder“ سمجھا جاتا ہے۔
سیاست اسے جو مرضی نام دے، بائیولوجی اسے ”Evolutionary Dead-end“ (ارتقائی بند گلی) ہی کہتی ہے۔
(حوالہ: Science Magazine, 2019 - "Large-scale GWAS reveals insights into the genetic architecture of same-sex sexual behavior")
4۔ فیمنزم اور عورت کی خوشی کا معمہ (The Happiness Paradox):
ناقد نے کہا کہ
”عورتوں کا ڈپریشن معاشی حالات کی وجہ سے ہے، فیمنزم کی وجہ سے نہیں۔“
یہ دعویٰ بھی تحقیق کے خلاف ہے۔ NBER (National Bureau of Economic Research) کی مشہورِ زمانہ تحقیق "The Paradox of Declining Female Happiness" بتاتی ہے کہ پچھلے 35 سالوں میں مغرب میں عورتوں کو ہر طرح کی آزادی، حقوق اور معاشی خودمختاری ملی، مگر اس کے باوجود ان کی ”Subjective Well-being“ (ذہنی سکون) مردوں کے مقابلے میں ریکارڈ سطح پر نیچے گر گئی۔
اگر ”پیسہ“ اور ”کیریئر“ ہی خوشی کی ضمانت ہوتے، تو آج کی مغربی عورت تاریخ کی خوش ترین عورت ہوتی۔ مگر وہ اینٹی ڈپریسنٹس (Antidepressants) پر زندہ ہے۔
وجہ کیا ہے؟
وجہ ”Biological-Cultural Mismatch“ ہے۔
فیمنزم نے عورت کو اس کی فطرت (Mammary Instinct/Bonding) سے لڑا دیا ہے۔
عورت کا جسم ”ممتا“ اور ”تعلق“ مانگتا ہے، اور کارپوریٹ کلچر اسے ”مشین“ بنانا چاہتا ہے۔ یہ اندرونی جنگ ہی ڈپریشن کی اصل وجہ ہے۔
(حوالہ: NBER Working Paper - "The Paradox of Declining Female Happiness")
5۔ آبادی کا بحران اور نظریات (The Demographic Collapse):
آخر میں یہ کہنا کہ آبادی میں کمی ”مہنگائی“ کی وجہ سے ہے، ایک بھونڈا مذاق ہے۔
اگر غربت وجہ ہوتی تو افریقہ، بنگلہ دیش اور پاکستان کی آبادی سکڑ رہی ہوتی۔
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے امیر ترین ممالک (جاپان، جنوبی کوریا، جرمنی) جہاں ”چائلڈ سپورٹ“ اور بہترین سہولیات ہیں، وہ بانجھ ہو رہے ہیں۔
مسئلہ ”جیب“ کا نہیں، مسئلہ ”ذہن“ (Mindset) کا ہے۔
ایلون مسک (Elon Musk) جیسے لوگ چیخ رہے ہیں کہ "Population Collapse" تہذیب کا سب سے بڑا خطرہ ہے۔
اور یہ خطرہ ان ممالک میں ہے جنہوں نے ”انفرادیت“ (Individualism) اور LGBTQ/Feminism کو گلے لگایا۔
جنہوں نے ”خاندان“ کو توڑ دیا، وہ اب ”قوم“ کو بچانے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ یہ معاشی نہیں، ”نظریاتی خودکشی“ ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے اے میرے محترم ناقد!
آپ نے جسے ”مبالغہ“ کہا، سائنس اسے ”Selection Pressure“ کہتی ہے۔
قدرت (Nature) سیاسی درستگی (Political Correctness) کی پرواہ نہیں کرتی۔ اس کا قانون اٹل ہے:
”جو اپنی حیاتیاتی جڑوں سے کٹ جائے گا، وہ معدوم (Extinct) ہو جائے گا۔“
میرا مقدمہ اخلاقیات سے زیادہ ”بقا“ (Survival) کا ہے۔ اور بقا کے لیے جذبات کی نہیں، فطرت کی پیروی ضروری ہے۔