*The Instructive Incident of the Wise Socrates* *حکیم سقراط کا سبق آموز واقعہ*

*The Instructive Incident of the Wise Socrates*
*حکیم سقراط کا سبق آموز واقعہ*

سقراط ایک بہت بڑا حکیم تھا، اور گویا ایک درجہ میں طب کا موجد سمجھا جاتا ہے۔ وہ رات دن پہاڑوں میں جڑی بوٹیوں کا امتحان کیا کرتا تھا۔


ایک دن سارا دن گھومتے گھامتے تھک گیا، ایک دکان پر بیٹھا، پیر زمین پر رکھے ہوئے تھے اور دکان کے تختے پر بیٹھا ہوا تھا کہ آنکھ لگ گئی۔


اسی دوران بادشاہِ وقت کی سواری گزر رہی تھی۔ نقیب و چوبدار آگے آگے چلتے ہوئے آوازیں لگا رہے تھے: "ہٹو! بچو!" لیکن سقراط کو کچھ خبر نہ ہوئی۔ یہاں تک کہ بادشاہ کی سواری بالکل قریب آ گئی۔


بادشاہ کو ناگوار گزرا کہ پبلک کا ایک عام آدمی پیر پھیلائے بیٹھا ہے، نہ بادشاہ کی تعظیم، نہ عظمت کا لحاظ — یہ تو بہت بے ادب اور گستاخ معلوم ہوتا ہے!


بادشاہ کو غصہ آیا، سواری سے اترا اور سقراط کو ایک ٹھوکر ماری۔


اب سقراط کی آنکھ کھل گئی، اور اس نے اٹھ کر بادشاہ کی طرف دیکھا۔


بادشاہ نے کہا: “جانتا بھی ہے تو کہ میں کون ہوں؟”


سقراط نے نہایت اطمینان سے جواب دیا: “جی ہاں، میں یہی جاننے کی کوشش کر رہا ہوں کہ آپ کون ہیں، اور اب تک اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ شاید آپ جنگل کے کسی درندے معلوم ہوتے ہیں، کیونکہ ٹھوکر مارنے کا کام درندے ہی کرتے ہیں۔”


بادشاہ کو یہ بات اور زیادہ ناگوار گزری۔ اس نے کہا: “تو جانتا نہیں کہ میں بادشاہِ وقت ہوں؟ میرے پاس بےشمار خزانے ہیں، فوجیں ہیں، قلعے ہیں، شہر ہیں!”


سقراط نے بڑی متانت سے کہا:

“بندۂ خدا! تو نے اپنی بڑائی کے لیے جن چیزوں کا ذکر کیا ہے — فوج، خزانے، ہتھیار، دولت — ان میں سے کوئی بھی چیز تیرے اندر کی تو نہیں۔ یہ سب باہر کی چیزیں ہیں۔ تیرے اندر کیا کمال ہے جس کی وجہ سے تو دعویٰ کرے کہ تُو باکمال ہے؟


یہ سب بیرونی سہارے ہیں۔ اگر یہ چھن جائیں — خزانہ، فوج، تاج و تخت — تو تیری عزت بھی ختم ہو جائے گی۔

یہ تو کیا کمال ہوا کہ اندر کچھ نہیں، اور باہر کی عارضی چیزوں پر فخر کر رہا ہے؟


اگر واقعی تُو باکمال ہے تو اپنا اندرونی کمال دکھا، جو تیرے ساتھ ہمیشہ رہنے والا ہے۔”


یہ سن کر بادشاہ حیران رہ گیا، جواب نہ دے سکا۔


سقراط نے کہا:

“چلو، ہم دونوں اپنے کپڑے اتار کر دریا میں کودتے ہیں اور وہاں اپنے اپنے کمالات دکھاتے ہیں۔ اُس وقت معلوم ہو جائے گا کہ تُو باکمال ہے یا میں باکمال ہوں۔”


گویا سقراط نے یہ سبق دیا کہ اصل کمال وہ ہے جو انسان کے اندر ہو۔

اگر باطن میں کمال نہ ہو اور آدمی صرف بیرونی چیزوں — مال، دولت، حکومت، لباس یا رتبے — پر فخر کرے، تو یہ سب زوال پذیر چیزیں ہیں۔

جب یہ جدا ہو جائیں گی تو انسان بےکمال اور ذلیل ہو جائے گا۔

لہٰذا اگر کسی کو فخر کرنا ہے تو وہ اندرونی کمالات پر کرے — کردار، علم، عقل اور حکمت پر، جو ہمیشہ اس کے ساتھ رہتے ہیں۔

*The Instructive Incident of the Wise Socrates*  *حکیم سقراط کا سبق آموز واقعہ*
*The Instructive Incident of the Wise Socrates*  *حکیم سقراط کا سبق آموز واقعہ*

Post a Comment

Previous Post Next Post