*A Friend of Mine said that when I Returned from Studying in England.*
*میرے ایک دوست نے کہا کہ میں جب انگلینڈ سے پڑھ کر لوٹا۔*
اگلے روز ناشتے پر ابا جی نے پوچھا کیا پڑھا ہے تم نے۔
میں نے کہا ابا جی میں نے منطق کا علم حاصل کیا ہے
سادہ لوح باپ نے پوچھا،
"اَیدا کی فَیدہ"
میں نے جوش میں آ کر کہا،
"ابا جی یہ میرے سامنے جو ایک انڈا پڑا ہوا ہے میں اپنے علم کی رُو سے ثابت کر سکتا ہوں کہ یہ ایک نہیں بلکہ دو انڈے ہیں۔"
اس کے بعد میں نے دلائل کے انبار لگا دئیے اور پھر بات ختم کر کے ابا جی کو فخریہ نظروں سے دیکھنے لگا۔
تب ابا جی نے میرے سامنے سے وہ انڈا اُٹھا کر کھا لیا اور بولے،
"چنگا فیر اے میں کھا لیندا واں، دُوجا جیہڑا توں ثابت کیتا، او تُوں کھا لے۔"
سبق: باپ کے سامنے ہوشیاری نہیں، باپ باپ ہی ہوتا ہے
اس تحریر کا مقصد آپ کے چہرے پر مسکراہٹ لانا ہے 🥹
| *A Friend of Mine said that when I Returned from Studying in England.* *میرے ایک دوست نے کہا کہ میں جب انگلینڈ سے پڑھ کر لوٹا۔* |