Just Remembrance and Glorification is Enough for Me.
ذکر و تسبیح ہی میرے لئے کافی ہے
ولید بن عبدالملک نے اپنے دورِ حکومت میں حضرت عروہ بن زبیر رحمۃ اللّٰہ علیہ کو دمشق آنے کی دعوت دی تا کہ ملاقات اور زیارت ہو سکے
چنانچہ انہوں نے دعوت قبول کر لی اور اپنے ساتھ اپنے بڑے صاحبزادےکو لے کر دمشق پہنچ گئے
جب آپ امیرالمؤمنین (ولید بن عبدالملک) کے پاس پہنچے تو انہوں نے بڑا شاندار استقبال کیا اور شاہی مہمان کی طرح ان کی عزت و اکرام کیاگیا
پھر اس کے بعداللّٰہ تعالیٰ کی مشیت اور مرضی سےایک ایسا حادثہ پیش آیاجو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا
ہوا یوں کہ حضرت عروہ R.Aکا بیٹا
ولید اصطبل کی طرف گیا
جہاں گھوڑے اور دوسرے قیمتی جانور رکھے گئے تھے
تاکہ کسی عمدہ گھوڑے کو سواری کے لئے منتخب کر لے
لیکن گھوڑے دیکھنےکے دوران اصطبل میں موجود ایک گھوڑے نے انہیں لات ماری
جو ان کے لئے جان لیوا ثابت ہوئی
یعنی ان کا انتقال ہوگیا
جوان بیٹے کی اچانک موت ظاہر ہے ایک باپ کےلئے بہت دُکھ کی بات ہے
پھر بیٹے کے کفن دفن کامعاملہ آیااور اسے بھی نمٹادیاگیا
اس وقت یہ امیرالمؤمنین کے مہمان تھے
ابھی ان کے بیٹے کی موت کا واقعہ تازہ ہی تھا کہ انکے پاؤں پر ایک پھوڑا نکل آیاجس نےانکے پاؤں کواندر سےکھوکھلا کرناشروع کر دیااوراس تکلیف کے باعث انکی پنڈلی سوج گئی
اور بہت تیزی سے یہ ورم بڑھتاگیااور تکلیف میں اضافہ ہوتا چلا گیا
امیرالمؤمنین نے ہر طرح سےاپنے مہمان کےعلاج کیلئے حکیموں اورطبیبوں کوبلایااورانہیں تاکید کی کہ جسطرح بھی ممکن ہوانکاعلاج کیاجائے
چنانچہ انکےعلاج کےلئے ہرطرح سے کوشش شروع کردی گئی لیکن کافی علاج معالجےاور سوچ بچار کے بعد تمام حکیم
اور طبیب اس نتیجے پر پہنچ کر متفق ہو گئےکہ
آپکی ٹانگ کاٹنے کے سوا کوئی چارہ نہیں
کیونکہ اس کے علاوہ یہ ورم پورے بدن میں پھیل کرانکی موت کاسبب بن سکتا تھا
آپ نے بھی حکماء حضرات کی
اس تجویز سےاتفاق کرلیا کیونکہ
اس کے علاوہ اورکوئی راستہ نظر نہیں آتا تھا
چنانچہ ان کی ٹانگ کاٹنے کے لئے جراح بلوا لئے گئے
جب جراح انکی ٹانگ کاٹنے کےلئے اپنےتمام آلات لے آئے
اور گوشت کاٹنے کےلئے قینچی اور ہڈی کاٹنے کےلئےآری لائی گئی
تو جب ٹانگ کاٹنےکاوقت آیا تو جراح کہنےلگے
حضرت
ہمارا ارادہ ہےکہ آپ کو ایک گھونٹ شراب پلا دی جائے تاکہ پاؤں کےکاٹنے کی تکلیف آپ کو محسوس نہ ہو
یہ سن کر آپ کہنےلگے
میں یہ نہیں چاہتاکہ میرے جسم کا کوئی حصہ کاٹ کرالگ کر لیاجائے
اور مجھے اسکی تکلیف نہ ہو بلکہ آپ بغیر نشہ کے میری ٹانگ کاٹیں تاکہ مجھے درد ہو اور اللّٰہ تعالیٰ کیطرف سے مجھےاس پراجروثواب ملے
جب جراح حضرات نے ٹانگ کاٹنے کاارادہ کیا تو مضبوط اور طاقتور مردوں کی ایک جماعت آگے بڑھی
انہیں دیکھ کرآپ نے پوچھا
یہ کون لوگ ہیں اور کیوں آ رہے ہیں؟
طبیب کہنے لگے
ان لوگوں کو اس لئے بلایا ہے کہ یہ آپ کو پکڑ کر رکھیں تاکہ زیادہ درد کیوجہ سے آپ اپنی ٹانگ نہ کھینچ لیں
یہ سن کر آپ حضرت نے وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا
ان لوگوں کو واپس کر دو
مجھے ان کی ضرورت نہیں
مجھے امید ہے کہ ذکروتسبیح ہی میرے لئے کافی ہے
اور جب تک میں ذکروتسبیح میں مشغول رہوں گا ایسی کوئی نوبت نہیں آئے گی کہ مجھے پکڑنے کی ضرورت پڑے
پھر جراح نے قینچی کے ساتھ آپ کا گوشت چیرنا شروع کیا اور کاٹتے کاٹتے ہڈی تک پہنچ گیا
پھر جراح نے ہڈی پر آری رکھ کر چلانا شروع کیا
اور آپ مسلسل
"لا إله إلا اللّٰہ، واللّٰہ اکبر"
کہتے رہے
ہڈی کٹ گئی
پھر لوہے کی ایک کڑاہی میں تیل اُبالا گیااور آپکی زخمی ٹانگ کو اس میں ڈبویا گیا تاکہ خون رک جائے اور زخم کو داغ لگے
اس علاج کے بعد آپ بہت دیر تک بے ہوش رہے
اوراس دن بے ہوشی کیوجہ سے وہ قرآن کااتنا حصہ تلاوت نہ کر سکے جو ان کی روزانہ کی ترتیب (ایک منزل) تھی
مورخین لکھتے ہیں کہ انکی جوانی سے لےکر وفات تک کے درمیان صرف یہی ایک دن ایساگزرا جسمیں وہ قرآن مجید کی تلاوت معمول کے مطابق نہ کرسکے
اسکے بعد جب آپ صحت یاب ہوئے تو انہوں نے اپنی کٹی ہوئی ٹانگ منگوائی
جب وہ ان کے سامنے آئی تو اس کو اپنے ہاتھوں سے اُلٹ پلٹ کر دیکھتے جاتےاور عربی میں کہتے جاتے
ترجمہ
قسم ہے اس ذات کی جو مجھے تجھ پر لاد کر رات کی تاریکیوں میں مسجد کی طرف لے جاتی تھی
وہ ذات جانتی ہے کہ میں تجھ پر چل کر کبھی کسی حرام کام کی طرف نہیں گیا
پھر انہوں نے معن بن اوس رحمۃ اللّٰہ علیہ کے یہ اشعار پڑھے
جنکا ترجمہ ہے کہ
(اے اللّٰہ! میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ)
میں نے اپنا ہاتھ کبھی کسی مشکوک چیز کی طرف نہیں بڑھایا
اور نہ میری ٹانگ مجھے کسی گناہ کی طرف لے گئی
اور نہ میرے کان اور نہ میری آنکھ کبھی کسی برائی
کیطرف مائل ہوئے
اورنہ میری عقل یارائے نے مجھے کسی برائی پرآمادہ کیا
اور میں جانتا ہوں کہ مجھے کوئی مصیبت ایسی نہیں پہنچی
جو مجھ سے پہلے کسی جوان کو نہ پہنچی ہو
بلکہ مجھ سے پہلے یہ مصیبت کسی نہ کسی کو ضرور پہنچی ہو گی
(از تابعین کے واقعات)
| Just Remembrance and Glorification is Enough for Me. ذکر و تسبیح ہی میرے لئے کافی ہے |