Trade Between a Jin and Pakistani Farmer
ایک جن نے ایک پاکستانی سے سودا کیا
*مسکرانا بھی سنت ہے....!* 😍
*ایک جن نے ایک پاکستانی سے سودا کیا کہ وہ کھیت بھی دے گا اور بیج بھی، اور پاکستانی اس میں فصل اُگائے گا۔
طے پایا کہ فصل کا آدھا حصہ پاکستانی کا اور آدھا حصہ جن کا ہوگا۔*
جن نے کہا:
"یاد رکھنا، فصل کے اوپر والا حصہ میرا ہوگا، باقی تمہارا۔"
پاکستانی بولا:
"ٹھیک ہے جناب!"
پاکستانی نے آلو کی فصل اگائی۔ جب فصل تیار ہوئی تو معاہدے کے مطابق جن کو فصل کا اوپر والا حصہ ملا...
یعنی سوکھی ڈنڈیاں اور بھوسہ...
جبکہ پاکستانی آلو اٹھا کر خوشی خوشی گھر لے گیا۔
اگلی بار جن نے کہا:
"اس دفعہ میں فصل کا نچلا حصہ لوں گا، باقی تمہارا۔"
پاکستانی نے مسکرا کر کہا:
"جی جناب، جیسے آپ کی مرضی۔"
اس مرتبہ پاکستانی نے گندم کاشت کی۔ جب فصل تیار ہوئی تو جن کو جڑیں اور خشک تنکے ملے، اور پاکستانی سونے جیسی چمکتی گندم گھر لے گیا۔
اب کی بار جن نے جھنجھلا کر کہا:
"اچھا، اس بار اوپر اور نیچے والا حصہ میرا ہوگا، درمیان والا تمہارا!"
پاکستانی نے چالاکی سے سر ہلایا اور مکئی کی فصل کاشت کر دی۔
جب فصل تیار ہوئی تو معاہدے کے مطابق جن کو اوپر کی بالیاں اور نیچے کی جڑیں ملیں، اور پاکستانی درمیان والے بھٹے اٹھا کر ہنستے ہوئے چل دیا۔
یہ دیکھ کر جن نے ہاتھ جوڑ کر کہا:
"پناہ اے اللّٰہ! اب دوبارہ کسی پاکستانی کے ساتھ تجارت نہیں کروں گا!"
| Trade Between a Jin and Pakistani Farmer ایک جن نے ایک پاکستانی سے سودا کیا |