Very Strange and Unusual Questions were Asked of Imam Abu Hanifa (May Allah Have Mercy on Him).
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللّٰہ علیہ سے کیے گے نہایت عجیب و غیر معمولی سوالات۔
ایک شخص امام ابو حنیفہ رحمۃ اللّٰہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: "مجھے ایک شخص نے نہایت عجیب و غیر معمولی سوالات کیے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ آپ ان کا جواب عنایت فرمائیں۔"
امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا: "پوچھو، کیا سوال ہیں؟"
اس شخص نے کہا: "آپ اس انسان کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو—
1 : بغیر دیکھے گواہی دیتا ہے،
2 : یہود و نصاریٰ کے اقوال کی تصدیق کرتا ہے،
3 : اللّٰہ کی رحمت سے بھاگتا ہے،
4 : بغیر ذبح کیے کھاتا ہے،
5 : جس چیز کی طرف اللّٰہ نے بلایا ہے اس کی پرواہ نہیں کرتا،
6 : جس چیز سے اللّٰہ نے ڈرایا ہے، اس سے نہیں ڈرتا،
7 : اور جسے فتنہ پسند ہے۔"
یہ سن کر امام ابو حنیفہؒ مسکرائے اور فرمایا: "یہ شخص درحقیقت ایک مومن ہے۔"
سوال کرنے والا حیرت زدہ رہ گیا اور بولا: "حضرت! یہ کیسے ممکن ہے؟"
امام ابو حنیفہؒ نے نہایت حکمت سے ایک ایک نکتہ واضح فرمایا:
پہلا نکتہ:
تم نے کہا کہ وہ "بغیر دیکھے گواہی دیتا ہے"، تو غور کرو — مومن اپنے ربّ پر ایمان لاتا ہے، حالانکہ اس نے اسے دیکھا نہیں۔ وہ غیب پر ایمان رکھتا ہے، اور اسی ایمان کے سبب بن دیکھے گواہی دیتا ہے کہ اللّٰہ برحق ہے۔
دوسرا نکتہ:
تم نے کہا کہ وہ "یہود و نصاریٰ کے قول کی تصدیق کرتا ہے"۔ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ "یہود کہتے ہیں نصرانی حق پر نہیں اور نصرانی کہتے ہیں یہود حق پر نہیں۔" مومن ان دونوں کے اس بیان کی تصدیق کرتا ہے، کیونکہ واقعی دونوں اپنے اپنے قول میں سچے ہیں کہ ایک دوسرے کی راہ حق نہیں۔
تیسرا نکتہ:
تم نے کہا کہ وہ "اللّٰہ کی رحمت سے بھاگتا ہے"۔ یاد رکھو! بارش اللّٰہ کی رحمت ہے، مگر جب بارش برستی ہے تو ہر انسان اس سے بچنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ کپڑے نہ بھیگیں۔ یوں وہ اللّٰہ کی رحمت سے بظاہر بھاگتا ہے، مگر دراصل اس کی نعمت سے فائدہ اٹھاتا ہے۔
چوتھا نکتہ:
تم نے کہا کہ وہ "بغیر ذبح کیے کھاتا ہے"۔ غور کرو، مچھلی ایسی چیز ہے جسے ذبح کرنا ضروری نہیں، پھر بھی اسے کھانا جائز ہے۔ پس یہ بات ایمان کے خلاف نہیں۔
پانچواں نکتہ:
تم نے کہا کہ وہ "اس چیز کی پرواہ نہیں کرتا جس کی طرف اللّٰہ نے بلایا ہے"۔ اللّٰہ نے انسانوں کو جنت کی طرف بلایا ہے، مگر مومن کے دل میں اپنے ربّ کی رضا اور دیدار کا شوق اس قدر غالب ہوتا ہے کہ وہ جنت سے بھی زیادہ اپنے محبوب حقیقی کی قربت کو چاہتا ہے۔ اسی لیے وہ جنت کی طرف توجہ نہیں کرتا۔
چھٹا نکتہ:
تم نے کہا کہ وہ "اس سے نہیں ڈرتا جس سے اللّٰہ نے ڈرایا ہے"۔ اللّٰہ نے دوزخ سے ڈرایا ہے، مگر مومن کا دل اپنے ربّ کی ناراضی کے خوف سے اس قدر لرزاں رہتا ہے کہ وہ جہنم کے عذاب سے زیادہ اپنے محبوب کی ناراضی کو بڑا عذاب سمجھتا ہے۔
ساتواں نکتہ:
تم نے کہا کہ وہ "فتنے کو محبوب رکھتا ہے"۔ قرآن میں اولاد کو "فتنہ" کہا گیا ہے، اور ہر شخص اپنی اولاد سے فطری طور پر محبت رکھتا ہے۔ لہٰذا جو اولاد سے محبت کرتا ہے، وہ فتنہ سے محبت کرنے والا ہے — مگر یہ محبت فطرتی ہے، گناہ نہیں۔
امام ابو حنیفہؒ نے بات مکمل کی تو مجلس میں سکوت چھا گیا۔ سب کے چہرے حیرت و عقیدت سے جگمگا اٹھے۔ اتنی سادہ باتوں میں کتنی گہری حکمت پوشیدہ تھی!
(ماخذ: سیرت امام اعظم)
| Very Strange and Unusual Questions were Asked of Imam Abu Hanifa (May Allah Have Mercy on Him). امام ابو حنیفہ رحمۃ اللّٰہ علیہ سے کیے گے نہایت عجیب و غیر معمولی سوالات۔ |