73 Sects and the 'Single Ticket' to Heaven: Is Paradise a Sect or a 'Quantum State'? 73 فرقے اور جنت کا ’سنگل ٹکٹ‘: کیا جنتی کوئی فرقہ ہے یا ایک ’کوانٹم اسٹیٹ‘؟

73 Sects and the 'Single Ticket' to Heaven: Is Paradise a Sect or a 'Quantum State'?
73 فرقے اور جنت کا ’سنگل ٹکٹ‘: کیا جنتی کوئی فرقہ ہے یا ایک ’کوانٹم اسٹیٹ‘؟

یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر قلم اٹھانا "بارودی سرنگوں" کے میدان میں چلنے کے مترادف ہے، کیونکہ ہمارے معاشرے میں جنت کے "الاٹمنٹ لیٹرز" ہر مسجد اور امام بارگاہ کے باہر بانٹے جا رہے ہیں۔ 

ہر فرقہ، ہر مسلک اور ہر گروہ یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ "ناجی" (نجات پانے والا) ہے اور باقی سب "ناری" (جہنمی) ہیں۔ 

لیکن اگر ہم تعصب کی عینک اتار کر، قرآن کے آفاقی اصولوں، رسول اللہ ﷺ کی احادیث کے سیاق و سباق، اور جدید منطق (Logic) و سیٹ تھیوری (Set Theory) کی روشنی میں اس مسئلے کا تجزیہ کریں، تو ایک بہت ہی مختلف اور حیران کن تصویر سامنے آتی ہے۔

چونکہ ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم نے دین کو "سمجھنے" کے بجائے اسے "گروہ بندی" (Groupism) کے لیے استعمال کر لیا ہے تو آج کا مسلمان جب حدیثِ مبارکہ سنتا ہے کہ 

"میری امت تہتر (73) فرقوں میں بٹ جائے گی، سوائے ایک (گروہ/جماعت) کے سب جہنم میں جائیں گے" (جامع ترمذی: 2641، سنن ابنِ ماجہ: 3992)۔

تو اس کا پہلا ردعمل خوف کا نہیں، بلکہ "تکبر" (Narcissism) کا ہوتا ہے۔ 

وہ اپنے کرتے کی جیب سے ایک "مہر" نکالتا ہے جس پر اس کے مسلک (دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث، شیعہ وغیرہ) کا نام لکھا ہوتا ہے اور خود کو اس "ایک" گروہ میں شامل کر کے باقی 72 کو جہنم رسید کر دیتا ہے۔ 

یہ رویہ نہ صرف "Divine Justice" (عدلِ الٰہی) کی توہین ہے بلکہ ریاضی اور منطق (Mathematics and Logic) کے بھی خلاف ہے۔ 

ذرا ٹھنڈے دماغ سے سوچیں! 

اگر جنت صرف "بریلویوں" کے لیے ہے، تو کیا دیوبند بننے سے پہلے کے کروڑوں مسلمان جہنمی تھے؟ 

اگر جنت صرف "اہلحدیث" کا ٹھیکہ ہے، تو کیا اس لیبل کے لگنے سے پہلے والے اولیاء اللہ بھٹکے ہوئے تھے؟ 

یہ تنگ نظری دراصل اس حدیث کی غلط تشریح اور اللہ کی رحمت کو محدود کرنے کی ناکام کوشش ہے۔

آج میں ایک ایسا ہائپوتھیسز (Hypothesis) پیش کرنے جا رہا ہوں جو شاید آپ کے روایتی عقائد کو جھنجھوڑ دے، لیکن یہ "عدل" اور "عقل" دونوں پر پورا اترتا ہے۔ 

میرا ماننا یہ ہے کہ "فرقہِ ناجیہ" (نجات پانے والا گروہ) دنیا میں موجود کوئی ایک مخصوص سیاسی یا مذہبی جماعت نہیں ہے جس کا نام بورڈ پر لکھا ہو۔ 

یہ کوئی "سوشل کلب" نہیں ہے جس کی ممبرشپ لے کر آپ جنتی ہو گئے۔ 

بلکہ، یہ "گروہ" ابھی تشکیل کے مرحلے میں ہے۔ یہ ایک "Future Assembly" (مستقبل کا اجتماع) ہے جو روزِ قیامت میدانِ حشر میں بنے گا۔

سائنس کی زبان میں اسے "Set Theory" سے سمجھیں۔ 

فرض کریں کہ تمام انسان ایک بڑا سیٹ (Universal Set) ہیں۔ ان میں سے مختلف سب سیٹس (Sub-sets) ہیں: شیعہ، سنی، وہابی، صوفی وغیرہ۔ 

جنت میں جانے والا گروہ ان میں سے کوئی "ایک سب سیٹ" نہیں ہوگا، بلکہ یہ ان تمام سیٹس کا "Intersection" (مشترکہ حصہ) ہوگا۔ 

یعنی تمام فرقوں میں سے وہ افراد نکالے جائیں گے جو ایک خاص "معیار" (Criteria) پر پورا اترتے ہوں گے، اور ان "فلٹر شدہ" (Filtered) افراد کو ملا کر اللہ تعالیٰ وہ "ایک جماعت" تشکیل دے گا جو جنت میں جائے گی۔

اب سوال یہ ہے کہ وہ "فلٹر" کیا ہے؟ 

وہ کون سا "ڈی این اے ٹیسٹ" ہے جو یہ طے کرے گا کہ کون اس حتمی جماعت کا حصہ بنے گا؟

حدیثِ مبارکہ میں اس کا اشارہ موجود ہے۔ جب صحابہؓ نے پوچھا کہ 

"یا رسول اللہﷺ وہ ایک جنتی گروہ کون ہوگا؟"

تو آپ ﷺ نے نام نہیں لیا، آپ نے "صفات" بتائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: 

"مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي" (جس راستے پر میں اور میرے صحابہ ہیں) — (جامع ترمذی: 2641)

غور کریں! 

صحابہ کرامؓ کے دور میں نہ کوئی سنی تھا، نہ شیعہ، نہ دیوبندی نہ بریلوی۔ وہاں صرف "مسلم" اور "مومن" تھے۔ وہاں معیار "لیبل" نہیں تھا، معیار "عقیدہ اور عمل" تھا۔

سائنسی اور منطقی طور پر اس "جنتی گروہ" کے تین بنیادی ستون ہیں، اور جو شخص (چاہے وہ کسی بھی مسلک کے خانے میں ہو) ان تین ستونوں پر پورا اترتا ہے، وہ ان شاء اللہ اس "جماعت" کا ممبر ہوگا:

1.عقیدہ توحید (The Frequency of Oneness):

سب سے پہلی اور بنیادی شرط "توحید" ہے۔ 

شرک (Polytheism) ایک ایسی "Spiritual Entropy" (روحانی بگاڑ) ہے جو انسان کی فریکوئنسی کو کائنات کے خالق سے کاٹ دیتی ہے۔ 

شرک کرنے والا انسان "Cognitive Dissonance" (ذہنی انتشار) کا شکار ہوتا ہے اور اس کا "روحانی کنکشن" ٹوٹ جاتا ہے۔ 

چاہے کوئی شخص خود کو کتنا ہی بڑا مومن کہے، اگر وہ اللہ کی صفات میں کسی اور کو شریک کرتا ہے (چاہے بتوں کو، یا انسانوں کو)، تو وہ اس "فلٹر" میں فیل ہو جائے گا۔ 

جنت "Purest Consciousness" (پاکیزہ ترین شعور) کا مقام ہے، اور مشرک کا شعور "آلودہ" ہوتا ہے۔ لہٰذا، ہر مسلک کا وہ فرد جو خالص اللہ کو مانتا ہے اور شرکِ جلی و خفی سے پاک ہے، وہ اس لسٹ میں شامل ہے۔ (ان شاء اللہ)

2.ختم نبوت اور رسالت پر ایمان (The Final Software Update):

دوسرا فلٹر "رسالت" ہے۔ 

حضرت محمد ﷺ پر ایمان لانا اور آپ کو آخری نبی ماننا دراصل "Divine Operating System" کی آخری اپڈیٹ کو قبول کرنا ہے۔ 

جو شخص اس اپڈیٹ کو انسٹال نہیں کرتا، اس کا سسٹم "Obsolete" (متروک) ہو جاتا ہے۔ 

یہ ایمان انسان کو اس "کائناتی نظم" (Cosmic Order) کا حصہ بناتا ہے جس کے سربراہ محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔

3.حقوق العباد اور حقوق اللہ (The Law of Entropy Management):

تیسرا فلٹر "عمل" ہے۔ یہاں سائنس کا قانون "Action and Reaction" لاگو ہوتا ہے۔ اگر آپ نمازیں پڑھتے ہیں (حقوق اللہ) لیکن لوگوں کا حق کھاتے ہیں، ظلم کرتے ہیں، اور فساد پھیلاتے ہیں (حقوق العباد کی خلاف ورزی)، تو آپ معاشرے میں "Entropy" (بگاڑ) پیدا کر رہے ہیں۔ 

جنت "امن" (Peace) کی جگہ ہے۔ 

جو شخص دنیا میں فسادی (High Entropy Entity) ہے، وہ جنت کے ماحول (Low Entropy Environment) میں فٹ نہیں ہو سکتا۔ 

حدیث میں آتا ہے کہ 

"مفلس وہ ہے جو نماز روزے لے کر آئے لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہو، کسی کا مال کھایا ہو... تو اس کی نیکیاں مظلوموں کو دے دی جائیں گی اور اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔" (صحیح مسلم: 2581)۔

یہ حدیث ثابت کرتی ہے کہ "لیبل" نہیں، "کیریکٹر" (Character) فیصلہ کرے گا۔

اب ذرا میدانِ حشر کا منظر اپنی "تخیلاتی آنکھ" سے دیکھیں۔ 

وہاں کوئی بورڈ نہیں لگا ہوگا کہ "حنفی اس طرف اور شافعی اس طرف"۔ وہاں "نفسا نفسی" کا عالم ہوگا۔ فرشتے "شناختی کارڈ" چیک نہیں کریں گے، وہ "نور" (Bio-photons/Light of Iman) چیک کریں گے۔

قرآن کہتا ہے: 

"يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ يَسْعَىٰ نُورُهُم بَيْنَ أَيْدِيهِمْ" (اس دن تم مومن مردوں اور عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کا نور ان کے آگے دوڑ رہا ہوگا) — [الحدید: 12]۔

یہ "نور" کہاں سے آئے گا؟ 

یہ اس "توحید"، "اتباعِ سنت" اور "حسنِ اخلاق" سے پیدا ہوگا جو انہوں نے دنیا میں کمایا تھا۔

اس وقت اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ تمام انسانیت میں سے ان لوگوں کو چن لو جن کے پاس یہ "نور" ہے۔

اس چنے ہوئے گروہ میں وہ موحد "دیوبندی" بھی ہوگا جس نے کبھی شرک نہیں کیا اور حضور ﷺ سے سچی محبت کی۔

اس میں وہ موحد "بریلوی" بھی ہوگا جو بدعات سے بچا اور عشقِ رسول ﷺ میں ڈوبا رہا۔

اس میں وہ موحد "اہلحدیث" بھی ہوگا جس نے خشک شدت پسندی کے بجائے سنت کی روح کو اپنایا۔

اس میں وہ موحد "شیعہ" بھی ہوگا جس نے صحابہؓ کی توہین سے زبان روکی اور اہلِ بیت کی سچی محبت کے ساتھ توحید پر قائم رہا۔

اور اس میں پچھلی امتوں کے وہ سچے "موحدین" (عیسائی، یہودی، صابئین) بھی ہوں گے جو اسلام سے پہلے اپنے اپنے وقت کے نبی پر ایمان لائے اور نیک عمل کیے۔ 

قرآن کہتا ہے: 

"إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَىٰ وَالصَّابِئِينَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ" (بقرہ: 62)۔

یہ تمام "منتخب نفوس" جب ایک جگہ جمع ہوں گے، تو ان کا عقیدہ ایک ہوگا (لا الہ الا اللہ)، 

ان کا لیڈر ایک ہوگا (محمد رسول اللہ ﷺ)، 

اور ان کا حلیہ ایک ہوگا (جنتی لباس)۔

یہ ہے وہ "ایک جماعت" جس کی بشارت دی گئی تھی۔ 

یہ جماعت دنیا میں کسی ایک تنظیم کے نام سے رجسٹرڈ نہیں ہے، یہ جماعت "روحانی ارتقاء" کے عمل سے گزر کر قیامت کے دن "تشکیل" پائے گی۔

لہٰذا، میرے دوستو! 

اپنے آپ کو فرقوں کے پنجروں میں قید کر کے دوسروں کو جہنمی قرار دینے کے بجائے، اپنے "ڈی این اے" میں توحید کو اور اپنے "کردار" میں سنت کو رچا لو۔ 

جنت کے گیٹ پر "مسلک" کا پاسپورٹ نہیں، "تقویٰ" کا ویزا چلے گا۔ 

جو شخص "شرک" کے وائرس سے پاک ہے اور جس کے "عمل" میں اخلاص ہے، وہ چاہے جس مسجد میں بھی نماز پڑھتا ہو، وہ اس "قافلہِ شوق" کا حصہ ہے جو ان شاء اللہ جنت کے باغات میں ابدی زندگی گزارے گا۔ 

فرقے محض راستے ہیں، منزل نہیں؛ اور جنت ان کی ہے جو منزل پر نظر رکھتے ہیں۔

73 Sects and the 'Single Ticket' to Heaven: Is Paradise a Sect or a 'Quantum State'?  73 فرقے اور جنت کا ’سنگل ٹکٹ‘: کیا جنتی کوئی فرقہ ہے یا ایک ’کوانٹم اسٹیٹ‘؟
73 Sects and the 'Single Ticket' to Heaven: Is Paradise a Sect or a 'Quantum State'?  73 فرقے اور جنت کا ’سنگل ٹکٹ‘: کیا جنتی کوئی فرقہ ہے یا ایک ’کوانٹم اسٹیٹ‘؟

Post a Comment

Previous Post Next Post