The Quantum Contradiction of the Heart and the Psychology of Hypocrisy: A Scientific Verdict on the Conflict Between Truth and Lies!
دل کا کوانٹم تضاد اور منافقت کی نفسیات: سچ اور جھوٹ کے تصادم کا سائنسی فیصلہ!
آج اس موضوع پر لب کشائی کرنے کی جسارت کررہا ہوں جو انسانی نفسیات کی سب سے گہری گتھی کو سلجھاتا ہے۔
آج کا انسان، بالخصوص ہمارا "دیسی لبرل طبقہ"، جس ذہنی اذیت اور فکری انتشار کا شکار ہے، اس کی بنیاد یہی ہے کہ وہ "دو کشتیوں" کا سوار ہے۔
وہ اسلام کا لیبل بھی چاہتا ہے اور مغرب کی آزادی بھی؛ وہ سجدہ بھی کرنا چاہتا ہے اور اپنی انا کو خدا بھی بنانا چاہتا ہے۔
لیجیے، نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم کی ایک حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں یہ ضخیم، مفصل اور سائنسی دلائل سے مزین تحریر، جو ثابت کرے گی کہ "منافقت" صرف گناہ نہیں، بلکہ ایک "نیورولوجیکل اور کوانٹم تباہی" ہے۔
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ کائنات کا ذرہ ذرہ ایک خاص قانون کا پابند ہے جسے سائنس "قانونِ مطابقت" (Law of Coherence) کہتی ہے۔
جب بھی دو متضاد چیزیں ایک جگہ جمع ہوتی ہیں، تو وہاں "امن" نہیں بلکہ "تباہی" (Chaos) جنم لیتی ہے۔
روشنی اور اندھیرا ایک کمرے میں ایک ساتھ نہیں رہ سکتے؛ جہاں روشنی آئے گی، اندھیرا ختم ہو جائے گا۔
بالکل اسی آفاقی اصول کو نبی کریم ﷺ نے 1400 سال پہلے انسانی نفسیات اور روحانیت پر منطبق کرتے ہوئے ایک ایسا جملہ فرمایا جو آج کی جدید سائنس، عمرانیات اور نفسیات کا نچوڑ ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"کسی کے دل میں ایمان و ک ف ر اکٹھا جمع نہیں ہو سکتا، اگر ک ف ر ہے تو ایمان نہیں ہے اور ایمان ہے تو ک ف ر نہیں ہے. جھوٹ اور سچ بھی اکٹھا جمع نہیں ہو سکتا. خیانت و امانت بھی اکٹھی نہیں ہو سکتیں." (مسند احمد: 8593)۔
بظاہر یہ ایک سادہ سا اخلاقی اصول لگتا ہے، لیکن اگر ہم اسے کوانٹم میکانکس (Quantum Mechanics) اور نیورو سائیکالوجی (Neuropsychology) کی خوردبین سے دیکھیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث دراصل انسانی وجود کے "آپریٹنگ سسٹم" کی سب سے بڑی سچائی بیان کر رہی ہے۔
سب سے پہلے اس حدیث کو فزکس کے اصولوں پر پرکھتے ہیں۔
کوانٹم فزکس کا ایک بنیادی اصول ہے "Pauli Exclusion Principle"۔ یہ اصول کہتا ہے کہ دو فرمیونز (Fermions - مادے کے بنیادی ذرات) ایک ہی وقت میں ایک ہی کوانٹم اسٹیٹ (Quantum State) میں نہیں رہ سکتے۔
(Reference: Pauli, W. (1925). On the Connection Between the Completion of Electron Groups... Z. Phys)
یہ اصول صرف مادے کے لیے نہیں، بلکہ "انرجی" اور "شعور" (Consciousness) کے لیے بھی اتنا ہی سچ ہے۔
"ایمان" ایک خاص Frequency (ارتعاش) کا نام ہے جو "یقین" اور "سپردگی" سے پیدا ہوتی ہے، جبکہ "ک ف ر" یا "جھوٹ" ایک بالکل مختلف اور متضاد فریکوئنسی ہے جو "انکار" اور "بغاوت" سے جنم لیتی ہے۔
جب یہ دو متضاد لہریں (Waves) ایک ہی دل (جو کہ ایک الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ جنریٹر ہے) میں جمع ہونے کی کوشش کرتی ہیں، تو وہاں "Destructive Interference" پیدا ہوتی ہے۔ یعنی یہ دونوں ایک دوسرے کو کینسل کر دیتی ہیں اور نتیجے میں انسان کے اندر ایک "Zero Point Void" یا شدید "بے چینی" پیدا ہوتی ہے۔
دل میں سچ اور جھوٹ کا اکٹھا ہونا ایسے ہی ہے جیسے آپ آگ اور پانی کو ایک برتن میں رکھنے کی کوشش کریں۔
نتیجہ صرف "بھاپ" (Confusion) اور برتن کے ٹوٹنے کی صورت میں نکلتا ہے۔
نفسیات (Psychology) میں اس کیفیت کو "Cognitive Dissonance" کہا جاتا ہے۔ مشہور ماہر نفسیات لیون فیسٹنگر (Leon Festinger) نے 1957 میں اپنی تحقیق "A Theory of Cognitive Dissonance" میں ثابت کیا کہ جب انسان دو متضاد عقائد (Beliefs) یا اقدار (Values) کو ایک ساتھ اپنے دماغ میں رکھنے کی کوشش کرتا ہے، تو وہ شدید "Mental Stress" (ذہنی دباؤ) کا شکار ہو جاتا ہے۔ ہمارا دماغ (Neuro-circuitry) اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ صرف "Consistency" (یکسوئی) کو قبول کرتا ہے۔
آج ہمارے معاشرے میں جو "دیسی لبرلز" یا "مسلم فیمنسٹ" پائے جاتے ہیں، یہ اسی "Cognitive Dissonance" کے بدترین مریض ہیں۔
یہ ایک طرف "اللہ" کو بھی ماننا چاہتے ہیں اور دوسری طرف "میرا جسم میری مرضی" کے نعرے کو بھی سچ سمجھتے ہیں۔
یہ ایک طرف قرآن پر بھی ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں اور دوسری طرف مغرب کے "ہیومن رائٹس" کو قرآن سے بہتر سمجھتے ہیں۔
حدیثِ رسولﷺ کے مطابق، ان کے دل میں ایمان اور کفر کی یہ جنگ انہیں کہیں کا نہیں چھوڑتی۔
ان کا دماغ مستقل Cortisol (اسٹریس ہارمون) کی زد میں رہتا ہے، کیونکہ لاشعوری طور پر وہ جانتے ہیں کہ وہ ایک "تضاد" (Hypocrisy) جی رہے ہیں۔
یہ لوگ نفسیاتی طور پر کبھی پرسکون نہیں ہو سکتے، کیونکہ "Peace" (امن) صرف "Alignment" (ہم آہنگی) میں ہے، تضاد میں نہیں۔
اب آتے ہیں اس سوال کی طرف جو ہمارے نوجوانوں کو سب سے زیادہ کنفیوژ کرتا ہے:
"اگر اسلام سچا ہے تو مغرب اتنا خوشحال، منظم اور پرسکون کیوں ہے؟ اور ہم مسلمان اتنے ذلیل و خوار کیوں ہیں؟"
اس کا جواب اسی حدیث میں چھپا ہے:
"سچ اور جھوٹ اکٹھا نہیں ہو سکتا۔"
مغرب کی کامیابی کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ان کا مذہب سچا ہے یا ان کا لائف اسٹائل فطرت کے مطابق ہے۔ ان کی کامیابی کی وجہ یہ ہے کہ وہ "اپنے باطل میں سچے اور خالص" ہیں۔
غور کیجیے!
ایک یورپی یا امریکی لبرل نے اگر یہ طے کر لیا ہے کہ "خدا نہیں ہے" یا "دنیا ہی سب کچھ ہے" (Materialism)، تو وہ اپنے ان عقائد کے ساتھ Maligned (مربوط) ہے۔
اس کے دل اور دماغ میں تضاد نہیں ہے۔ وہ جو مانتا ہے، وہی کرتا ہے۔ وہ چرچ نہیں جاتا، وہ سود کو حلال سمجھتا ہے، وہ زنا کو کلچر کہتا ہے۔ اس کے اندر کوئی "منافقت" نہیں ہے۔ اس نے ک ف ر کو اپنایا اور اسے 100 فیصد اپنایا۔
قانونِ قدرت (Natural Law) یہ ہے کہ جو قوم اپنے اصولوں (چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہوں) کے ساتھ مخلص (Sincere) ہوتی ہے، اسے دنیاوی عروج مل جاتا ہے کیونکہ ان کے اندر "Internal Conflict" نہیں ہوتا، ان کی سوسائٹی کا سٹرکچر مضبوط ہوتا ہے، وہاں "خیانت" نہیں ہوتی۔ وہ اپنے نظام کے ساتھ وفادار ہیں۔
اس کے برعکس، ہم مسلمانوں کا حال کیا ہے؟
ہم "Mixed Breed" بن چکے ہیں۔
ہم مسجد میں "اللہ اکبر" کہتے ہیں (کہ اللہ سب سے بڑا ہے)، لیکن بازار میں "پیسہ اکبر" پر عمل کرتے ہیں۔
ہم قرآن کو چومتے ہیں، لیکن فیصلے انگریز کے قانون پر کرتے ہیں۔
ہم نام محمدﷺ کا لیتے ہیں، لیکن طرزِ زندگی مغرب کا اپناتے ہیں۔
یہ ہے وہ "منافقت" جس نے ہمیں تباہ کیا۔
حدیث نے کہا تھا کہ
"ایمان اور کفر اکٹھے نہیں ہو سکتے"،
لیکن ہم نے انہیں اکٹھا کرنے کی کوشش کی۔
نتیجہ؟
ہم نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے۔
ہمارے اندر کی اس "منافقت" نے ہماری اجتماعی قوت (Collective Energy) کو کھا لیا۔
سائنس میں اسے "Entropy" (انتشار) کہتے ہیں۔ مغرب کا سسٹم "منظم" (Low Entropy) ہے کیونکہ وہ یکسو ہے، ہمارا سسٹم "منتشر" (High Entropy) ہے کیونکہ ہم دوغلے ہیں۔
مغرب کا لبرل ازم اور سیکولر ازم ان کے لیے کام کر رہا ہے کیونکہ وہ اسے "سچ" مانتے ہیں۔ ہمارے لیے وہ زہر ہے کیونکہ ہمارے پاس "قرآن کا سچ" موجود ہے، اور ایک دل میں دو سچ نہیں رہ سکتے۔
جب تک ہم "خالص" (Pure) نہیں ہوں گے, یا تو پورے ک ا ف ر ہو جاؤ (تاکہ دنیا مل جائے) یا پورے مومن ہو جاؤ (تاکہ دنیا و آخرت دونوں ملیں), ہم اسی ذلت میں رہیں گے۔
اور چونکہ ایک مسلمان کے جینز (Genes) میں توحید کی گواہی موجود ہے، وہ پورا ک ا ف ر ہو کر بھی سکون نہیں پا سکتا، اس لیے اس کے پاس واحد راستہ "مکمل مسلمان" ہونے کا ہے۔
سماجیات (Sociology) اور قانون (Law) کی رو سے دیکھیں تو حدیث کا اگلا حصہ
"خیانت اور امانت اکٹھی نہیں ہو سکتیں"
کسی بھی ریاست کی بقا کا اصول ہے۔
مشہور عمرانیات دان فرانسس فوکویاما (Francis Fukuyama) اپنی کتاب
"Trust: The Social Virtues and the Creation of Prosperity"
میں لکھتے ہیں کہ جن معاشروں میں "اعتماد" (Trust) کا لیول ہائی ہوتا ہے، وہی معاشی طور پر ترقی کرتے ہیں۔ امانت داری (Integrity) وہ گوند ہے جو معاشرے کو جوڑے رکھتی ہے۔
جب ایک معاشرہ جھوٹ اور سچ کو مکس کر دیتا ہے، تو وہاں "High-Trust Society" کا قیام ناممکن ہو جاتا ہے۔
آج پاکستان اور مسلم دنیا کا بحران وسائل کی کمی نہیں، بلکہ "Trust Deficit" ہے۔
ہمارے لیڈر جھوٹ بولتے ہیں، تاجر ملاوٹ کرتا ہے، اور عوام جگاڑ لگاتے ہیں۔ یہ "خیانت" ہے۔
اور جب دل میں خیانت آ جائے، تو وہاں سے "ایمان" رخصت ہو جاتا ہے۔ یہ دونوں ایک جگہ نہیں رہ سکتے۔
ہمارا زوال فقط کوئی "ی ہ ودی سازش" نہیں، ہمارا زوال ہمارا اپنا "تضاد" ہے۔
لبرل ازم اور فیمنزم جیسے نظریات اسی "تضاد" کی پیداوار ہیں۔
یہ نظریات بظاہر "حقوق" کی بات کرتے ہیں، لیکن ان کی بنیاد "Self-Worship" (نفس پرستی) پر ہے۔
فیمنزم کہتا ہے "میرا جسم میری مرضی"، جبکہ ایمان کہتا ہے "میرا جسم اللہ کی امانت"۔
کیا یہ دو نظریات ایک دل میں رہ سکتے ہیں؟
ہرگز نہیں!
جو عورت یہ سمجھتی ہے کہ وہ فیمنسٹ بھی ہو اور مومنہ بھی، وہ دراصل ایک "Schizophrenic State" (ذہنی دوشیزگی) میں جی رہی ہے۔
اس کا انجام ڈپریشن، اینگزائٹی اور خاندانی تباہی کے سوا کچھ نہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ قدرت کو "ملاوٹ" پسند نہیں۔
دودھ میں مینگنیاں ڈالنے سے وہ دودھ نہیں رہتا، گندگی بن جاتا ہے۔
کامیابی کا راز "اخلاص" (Purity) میں ہے۔
مغرب اپنے "ک ف ر" میں مخلص ہے، اس لیے دنیا میں سرخرو ہے۔
صحابہ کرامؓ اپنے "ایمان" میں مخلص تھے، اس لیے دنیا اور آخرت دونوں کے امام بنے۔
ہم "منافقت" میں مبتلا ہیں، اس لیے ذلیل ہیں۔
حل صرف ایک ہے:
اپنے دل سے اس "مکسچر" کو نکال پھینکیں۔ فیصلہ کریں کہ آپ کو کس کیمپ میں کھڑا ہونا ہے۔
کیونکہ "سچ اور جھوٹ اکٹھا نہیں ہو سکتا", یہ صرف رسولﷺ کا فرمان نہیں، یہ کائنات کا اٹل قانون ہے، اور قانون کسی کو رعایت نہیں دیتا۔