A string of scattered pearls and the journey of consciousness: My only 'crime' is that I 'think'!
بکھرے ہوئے موتیوں کی لڑی اور شعور کا سفر: میرا ’جرم‘ صرف اتنا ہے کہ میں ’سوچتا‘ ہوں!
تحریر محض الفاظ کا گورکھ دھندا نہیں ہوتی، اور نہ ہی قلم محض سیاہی بکھیرنے کا آلہ ہے۔
میرے نزدیک لکھنا ایک "عبادت" ہے اور سوچنا ایک "فریضہ"۔ پچھلے کچھ عرصے سے میری تحریروں پر جہاں محبت اور حیرت کے پھول نچھاور کیے گئے، وہیں کچھ دوستوں کی جانب سے شک کے پتھر بھی پھینکے گئے۔
کسی نے کہا کہ یہ سائنس کا بلاتکار ہے، تو کسی نے اسے خود ساختہ افسانہ قرار دیا۔
آج میں چاہتا ہوں کہ میں کھل کر، اپنی ذات اور اپنے طریقِ کار (Methodology) کو آپ کے سامنے رکھ دوں، تاکہ سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آئے۔
میں کوئی دیوتا نہیں ہوں جس کی بات حرفِ آخر ہو، اور نہ ہی میں کوئی ایسا سائنسدان ہوں جو لیبارٹری میں ٹیسٹ ٹیوب لے کر کھڑا ہے۔
میں تو محض ایک "طالبِ علم" ہوں, ایک ایسا طالبِ علم جو کائنات کے بکھرے ہوئے حقائق کو سمیٹ کر ایک تصویر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
میرے دوستو!
سمجھنے کی کوشش کیجیے کہ میں کیا کرتا ہوں؟
میں اپنی طرف سے کوئی "نئی سائنس" ایجاد نہیں کرتا، اور نہ ہی میں اپنے پاس سے کوئی "نیا دین" گھڑتا ہوں۔
میرا کام "کشید" (Extraction) اور "سلائی" (Stitching) کا ہے۔
یہ انٹرنیٹ، یہ کتابیں، اور یہ تحقیقی مقالے علم کا ایک وسیع سمندر ہیں جہاں کروڑوں حقائق بکھرے پڑے ہیں۔
کہیں کوئی نیورو سائنٹسٹ دماغ کے کسی خلیے پر بات کر رہا ہے، کہیں کوئی مورخ کسی قدیم تہذیب کا قصہ سنا رہا ہے، اور کہیں قرآن کی کوئی آیت کائنات کا کوئی راز کھول رہی ہے۔
عام طور پر یہ سب "الگ الگ" جزیروں میں رہتے ہیں۔ سائنسدان مسجد نہیں جاتا اور مولوی لیبارٹری نہیں جاتا۔
میرا کام صرف یہ ہے کہ میں ان الگ الگ جزیروں کے درمیان "پل" (Bridge) تعمیر کرتا ہوں۔
میں اس بکھری ہوئی معلومات کو اٹھاتا ہوں، ان کا تقابل کرتا ہوں، اور ان کے امتزاج سے ایک ایسا "ہائپوتھیسز" (Hypothesis) یا مفروضہ ترتیب دیتا ہوں جو عقل کو بھی اپیل کرے اور روح کو بھی سکون دے۔
جب میں کہتا ہوں کہ "زنا جینز پر اثر کرتا ہے"، تو یہ میرا ذاتی فتویٰ نہیں ہوتا۔ میں وہاں سائنس کی "ایپی جینیٹکس" کو اٹھاتا ہوں، نفسیات کے "نیورو کیمیکلز" کو لیتا ہوں، اور اسے اسلام کے "حرام و حلال" کے فطری و فلسفیانہ ڈھانچے میں پرو دیتا ہوں۔
یہ عمل ایک "بیانیہ" (Narrative) تشکیل دیتا ہے۔
یہ بیانیہ کیوں ضروری ہے؟
کیونکہ آج کا انسان، خاص طور پر نوجوان، ایک شدید "ذہنی انتشار" اور "شناخت کے بحران" کا شکار ہے۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ سائنس کو مانے یا مذہب کو؟
میرا مقصد اس کے اس تضاد کو ختم کر کے اسے ایک "اجتماعی اور انفرادی کتھارسس" (Catharsis) فراہم کرنا ہے۔
میں اسے یہ احساس دلانا چاہتا ہوں کہ جس دین کو وہ "پرانا" سمجھ رہا ہے، وہ دراصل جدید سائنس سے بھی آگے کی چیز ہے۔
اگر اس کوشش میں میں چند سائنسی اصطلاحات کو وسیع معنوں میں استعمال کرتا ہوں، تو یہ "جھوٹ" نہیں، بلکہ یہ "فکری اجتہاد" ہے۔
میں اپنے آپ کو "تقابلِ ادیان" (Comparative Religions)، "تقابلِ علوم" (Comparative Sciences) اور "تقابلِ زمان و مکان" (Comparative Space-Time) کا ایک ادنیٰ سا طالب علم سمجھتا ہوں۔
میں تاریخ کے اوراق کو مستقبل کی پیشگوئیوں کے ساتھ ملا کر پڑھتا ہوں۔
میں دیکھتا ہوں کہ فرعون کا تکبر اور آج کے سپر پاور کا تکبر کیسے ایک جیسا ہے؟
میں دیکھتا ہوں کہ قومِ لوط کی تباہی اور آج کے ایل جی بی ٹی (LGBT) ایجنڈے کے جینیاتی اثرات میں کیا مماثلت ہے؟
یہ "پیسٹرن ریکگنیشن" (Pattern Recognition) ہی میرا اصل ہنر ہے۔
اور ہاں!
میں ببانگِ دہل کہتا ہوں کہ میں غلط بھی ہو سکتا ہوں اور صحیح بھی۔ کوئی بھی انسانی کاوش غلطی سے مبرا نہیں ہوتی۔
سائنس خود روز بدلتی ہے؛ کل کا سچ آج کا جھوٹ اور آج کا مفروضہ کل کا قانون بن جاتا ہے۔
میری تحریریں کوئی "الہامی صحیفہ" نہیں ہیں، یہ "غور و فکر کی دعوت" ہیں۔
ان کا فیصلہ میں یا آپ نہیں کر سکتے، ان کا فیصلہ "وقت اور تاریخ" کرے گی کہ میری کھینچی ہوئی لکیریں کس حد تک حقیقت کے قریب تھیں۔
لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں علمی اختلاف کا کلچر دم توڑ چکا ہے۔
فی زمانہ لوگ "اختلافِ رائے" اور "ذاتی حملے" (Personal Attacks) کے درمیان فرق بھول چکے ہیں۔
اگر آپ کو میری دلیل سے اختلاف ہے، تو آئیے، میدان میں آئیے! کوئی بھی ریسرچ پیپر لائیے، کوئی منطقی دلیل لائیے، میں سر جھکا کر تسلیم کروں گا اور اپنی اصلاح کروں گا، کیونکہ میرا مقصد "جیتنا" نہیں، "سیکھنا" ہے۔
لیکن جب آپ دلیل کے بجائے میری ذات، میری جوانی، میری محرومیوں یا میری نیت پر حملہ کرتے ہیں، تو آپ دراصل یہ ثابت کرتے ہیں کہ آپ کے پاس کہنے کو کچھ نہیں بچا۔
یہ طریقہ نیا نہیں ہے؛ سقراط سے لے کر گلیلیو تک، اور انبیاء سے لے کر مجددین تک، ہر اس شخص کو اسی طرح ذاتی نشانہ بنایا گیا جس نے بھیڑ چال سے ہٹ کر کوئی نئی بات کرنے کی جرات کی۔
یہ علم اور نظریات کا راستہ روکنے کی ایک قدیم اور مذموم کوشش ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ پتھر مارنے سے آوازیں بند نہیں ہوتیں، بلکہ گونج مزید پھیلتی ہے۔
میری آپ سب سے، چاہے آپ میرے چاہنے والے ہوں یا میرے ناقدین، صرف ایک ہی گزارش ہے:
"سوال کیجیے، ضرور کیجیے، لیکن تہذیب اور تمیز کے دائرے میں۔"
گالی دینے سے آپ کا قد نہیں بڑھتا، لیکن ایک اچھا سوال پوچھنے سے ہم سب کا علم بڑھتا ہے۔ آئیے اس پلیٹ فارم کو ایک "دنگل" بنانے کے بجائے ایک "درسگاہ" بنائیں۔
میں سیکھ رہا ہوں، اور جو کچھ سیکھتا ہوں، وہ امانت سمجھ کر آپ سے بانٹ دیتا ہوں۔
اگر اس میں کوئی خیر ہے، تو اسے لے لیجیے، اور اگر کوئی کمی ہے، تو درگزر کیجیے اور دلیل سے میری رہنمائی کیجیے۔
کیونکہ بالآخر ہم سب ایک ہی کشتی کے مسافر ہیں، اور سچائی کی تلاش ہمارا مشترکہ سفر ہے۔
| A string of scattered pearls and the journey of consciousness: My only 'crime' is that I 'think'! بکھرے ہوئے موتیوں کی لڑی اور شعور کا سفر: میرا ’جرم‘ صرف اتنا ہے کہ میں ’سوچتا‘ ہوں! |