The 'algorithm' of destiny and the 'quantum leap' of strategy: Is fate a line in stone or a nose of wax?
تقدیر کا ’الگورتھم‘ اور تدبیر کا ’کوانٹم لیپ‘: کیا قسمت پتھر پر لکیر ہے یا موم کی ناک؟
انسان جب سے اس کرہ ارض پر آیا ہے، دو انتہاؤں کے درمیان جھول رہا ہے۔
ایک طرف وہ "مجبوری" کا قیدی ہے جو کہتا ہے کہ
"جو قسمت میں لکھا ہے، وہی ہوگا، ہاتھ پیر مارنے کا کیا فائدہ؟"
اور دوسری طرف وہ "اختیار" کا دعویدار ہے جو کہتا ہے کہ
"میں اپنی تقدیر کا خود خالق ہوں۔"
لیکن حقیقت کیا ہے؟
کیا ہم پہلے سے لکھے ہوئے کسی ڈرامے کے کردار ہیں جو صرف اپنا اسکرپٹ پڑھ رہے ہیں؟
یا ہمارے پاس اسکرپٹ کو بدلنے کی طاقت موجود ہے؟
آج میں آپ کو بتاؤں گا کہ تقدیر (Fate) کوئی جادوئی کتاب نہیں ہے جو آسمان میں بند پڑی ہے، بلکہ یہ ایک "سائنسی فارمولا" ہے، اور تدبیر (Action) وہ "ویری ایبل" (Variable) ہے جو اس فارمولے کا جواب (Result) بدل سکتا ہے۔
عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ تقدیر ایک "سیدھی لکیر" ہے (A to B)۔ لیکن جدید سائنس، خاص طور پر کوانٹم فزکس کہتی ہے کہ کائنات "سیدھی لکیر" نہیں، بلکہ "امکانات" (Probabilities) کا مجموعہ ہے۔
کوانٹم سپرپوزیشن (Superposition):
سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ ایک الیکٹران ایک ہی وقت میں کئی جگہوں پر موجود ہو سکتا ہے جب تک کہ اسے "دیکھا" (Observe) نہ جائے۔
بالکل اسی طرح، آپ کی زندگی کا ہر لمحہ "سپرپوزیشن" میں ہے۔
ایک تقدیر یہ ہے کہ آپ غریب مر جائیں۔
ایک تقدیر یہ ہے کہ آپ محنت کریں اور امیر ہو جائیں۔
ایک تقدیر یہ ہے کہ آپ بیمار ہو جائیں۔
ایک تقدیر یہ ہے کہ آپ احتیاط کریں اور صحت مند رہیں۔
یہ تمام تقدیریں اللہ کے علم میں "بیک وقت موجود" ہیں۔ یہ سب "لکھا جا چکا ہے"۔
لیکن ان میں سے کون سی تقدیر "حقیقت" (Reality) بنے گی؟
یہ فیصلہ اللہ نے "آپ کے اختیار" (تدبیر) پر چھوڑا ہے۔
آسان مثال:
سمجھیں کہ تقدیر ایک "نیویگیشن ایپ" (GPS) ہے۔
جی پی ایس میں تمام راستے موجود ہیں۔ ٹریفک والا راستہ بھی، لمبا راستہ بھی، اور شارٹ کٹ بھی۔ یہ سب "تقدیر" ہے۔
لیکن "اسٹیرنگ وہیل" آپ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ جس راستے پر گاڑی ڈالیں گے (تدبیر)، جی پی ایس اسی راستے کو آپ کی "منزل" بنا دے گا۔
تقدیر راستے بند نہیں کرتی، یہ آپ کے انتخاب کے مطابق راستہ بدل لیتی ہے۔
فزکس کی زبان میں، جب آپ کوئی فیصلہ کرتے ہیں یا عمل کرتے ہیں، تو آپ "Wave Function Collapse" کا سبب بنتے ہیں۔
یعنی کائنات میں تیرتے ہوئے ہزاروں امکانات میں سے آپ "ایک امکان" کو پکڑ کر حقیقت بنا لیتے ہیں۔
دعا اور کوشش کا کوانٹم میکانکس:
مولانا رومیؒ فرماتے ہیں: "اگر تم تقدیر پر بھروسہ کر کے بیٹھ گئے، تو یہ بھی تقدیر ہی ہے۔ اور اگر تم نے کوشش کی، تو یہ بھی تقدیر ہے۔"
تدبیر (کوشش) دراصل وہ توانائی (Energy) ہے جو "سوئی ہوئی تقدیر" کو جگاتی ہے۔
جب آپ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں، تو آپ "ڈیفالٹ تقدیر" (Default Fate) کا شکار ہو جاتے ہیں (جو کہ زوال اور ناکامی ہے، کیونکہ کائنات کا قانون ہے کہ جو چیز حرکت نہیں کرتی وہ گل سڑ جاتی ہے - Entropy)۔
لیکن جب آپ "تدبیر" کرتے ہیں، تو آپ "ایکٹیو تقدیر" کو چن لیتے ہیں۔
حضرت عمرؓ کا مشہور واقعہ:
جب حضرت عمرؓ شام (Syria) جا رہے تھے تو پتا چلا کہ وہاں طاعون (Plague) پھیلا ہوا ہے۔ انہوں نے واپسی کا حکم دیا۔
ابو عبیدہؓ نے پوچھا:
"کیا اللہ کی تقدیر سے بھاگ رہے ہو؟"
حضرت عمرؓ نے تاریخی جواب دیا:
"ہاں! میں اللہ کی ایک تقدیر (موت بوجہ بیماری) سے نکل کر اللہ کی دوسری تقدیر (زندگی بوجہ احتیاط) کی طرف جا رہا ہوں۔"
یہ ہے تدبیر کی سائنس!
تقدیر ایک نہیں، تقدیریں ہزاروں ہیں۔ آپ اپنی تدبیر سے ایک تقدیر سے نکل کر دوسری میں داخل ہو سکتے ہیں۔
لوگ پوچھتے ہیں:
"اگر سب کچھ لکھا ہے تو دعا سے کیا ہوگا؟"
سائنسی طور پر سمجھیں تو کائنات ایک "ڈائنامک سسٹم" (Dynamic System) ہے، نہ کہ جامد (Static)۔
حدیث ہے:
"دعا تقدیر کو بدل دیتی ہے۔"
یہ کیسے ممکن ہے؟
جب آپ دعا کرتے ہیں، تو آپ دراصل اپنی "فری کوئنسی" (Frequency) بدل رہے ہوتے ہیں۔
آپ عاجزی، امید اور یقین کی اس سطح پر آ جاتے ہیں جہاں کائنات کے قوانین آپ کے حق میں "نرم" ہو جاتے ہیں۔
بٹر فلائی ایفیکٹ (Butterfly Effect):
کیا ایک چھوٹی سی دعا بڑی مصیبت ٹال سکتی ہے؟
سائنس میں "بٹر فلائی ایفیکٹ" کہتا ہے کہ ایک چھوٹی سی تبدیلی (جیسے تتلی کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ) مستقبل میں طوفان لا سکتی ہے۔
بالکل اسی طرح، آپ کی ایک مخلصانہ دعا یا ایک چھوٹی سی تدبیر (جیسے صدقہ)، آنے والے بڑے حادثے کے "اسباب" (Causality) کو راستے میں ہی توڑ دیتی ہے۔
تقدیر کا "الگورتھم" ری-کیلکولیٹ (Recalculate) ہو جاتا ہے۔
یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔
تقدیر کے دو حصے ہیں:
تقدیرِ مبرم (Absolute Fate): وہ چیزیں جو آپ کے اختیار میں نہیں (پیدائش، والدین، موت کا وقت، قدرتی آفات)۔ یہ فکسڈ ہیں۔
تقدیرِ معلق (Conditional Fate): وہ چیزیں جو آپ کے اعمال سے مشروط ہیں (صحت، رزق، کامیابی، ناکامی، عزت، ذلت)۔
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ان چیزوں پر روتے ہیں جو ہمارے اختیار میں نہیں (قد، رنگ، خاندان)، اور ان چیزوں پر محنت نہیں کرتے جو ہمارے اختیار میں ہیں (علم، کردار، محنت)۔
تدبیر یہ نہیں ہے کہ آپ سورج کو مغرب سے نکالیں؛ تدبیر یہ ہے کہ آپ سورج نکلنے سے پہلے جاگ جائیں۔
سائنس کہتی ہے کہ آپ "کارڈز" (Cards) نہیں بدل سکتے جو قدرت نے آپ کو بانٹ دیے ہیں (جینز، حالات)، لیکن آپ ان کارڈز کو "کھیلنے کا انداز" (Game Play) بدل سکتے ہیں۔ اور جیت ہمیشہ اچھے کارڈز والے کی نہیں، بلکہ اچھا کھیلنے والے کی ہوتی ہے۔
قلم آپ کے ہاتھ میں ہے!
تو دوستو!
تقدیر کوئی جیل نہیں ہے جس میں آپ قید ہیں۔
تقدیر ایک "کھیل کا میدان" (Playground) ہے۔ اس میدان کی حدود (Boundaries) اللہ نے طے کی ہیں، لیکن اس میدان کے اندر آپ کیسے کھیلتے ہیں، کتنے گول کرتے ہیں، اور کیسے جیتتے ہیں، یہ مکمل طور پر آپ کی "تدبیر" پر منحصر ہے۔
اگر آپ فیل ہو رہے ہیں، تو اسے "نصیب کی خرابی" نہ کہیں، اپنی "اسٹریٹجی کی خرابی" کہیں۔
اگر آپ بیمار ہیں، تو اسے "اللہ کی مرضی" کہہ کر دوا چھوڑنا جہالت ہے؛ دوا کھانا اور شفاء مانگنا ہی اصل بندگی ہے۔
یاد رکھیں:
"اللہ نے پرندے کو رزق دینے کا وعدہ کیا ہے، لیکن وہ رزق اس کے گھونسلے میں نہیں ڈالتا۔ پرندے کو اڑنا (تدبیر) پڑتا ہے۔"
اپنی تدبیر کو مضبوط کریں، اللہ آپ کی تقدیر کو بہترین بنا دے گا۔ کیونکہ تقدیر بہادروں کے ساتھ چلتی ہے، بزدلوں کو کچل دیتی ہے۔
| The 'algorithm' of destiny and the 'quantum leap' of strategy: Is fate a line in stone or a nose of wax? تقدیر کا ’الگورتھم‘ اور تدبیر کا ’کوانٹم لیپ‘: کیا قسمت پتھر پر لکیر ہے یا موم کی ناک؟ |