The 'non-existence' of the prisoner and the 'survival' of the ideology: When staying inside the fence becomes more important than coming out! قیدی کا ’عدم‘ اور نظریے کی ’بقا‘: جب حصار کے اندر رہنا، باہر آنے سے زیادہ ضروری ہو جائے!

The 'non-existence' of the prisoner and the 'survival' of the ideology: When staying inside the fence becomes more important than coming out!
قیدی کا ’عدم‘ اور نظریے کی ’بقا‘: جب حصار کے اندر رہنا، باہر آنے سے زیادہ ضروری ہو جائے!

انسانی نفسیات کا سب سے کمزور پہلو "امید" کا وہ سراب ہے جو ہمیں حقیقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے سے روکتا ہے۔ 

ہم سب ایک طویل عرصے سے ایک دروازے کے کھلنے، ایک مسیحا کے باہر آنے، اور ایک پرانے دور کے پلٹ آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ 

لیکن جو لوگ تاریخ کے ڈائنامکس (Dynamics) اور طاقت کے بے رحم اصولوں اور گیم آف تھرونز کو سمجھتے ہیں، وہ اس حتمی سچائی تک پہنچ چکے ہیں جسے عام آدمی شاید ہضم نہ کر سکے۔ 

اور وہ سچ یہ ہے: "وہ دروازہ اب نہیں کھلے گا!"

یا تو اس کنڈی کو ہمیشہ کے لیے لگا دیا گیا ہے، یا پھر اس کمرے کے مکین کو "مائنس" کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ 

یہ مایوسی نہیں، یہ "ادراک" ہے۔ اور جس لمحے انسان اس ادراک کو پا لیتا ہے، وہ جذباتی نعروں سے نکل کر "حکمت" کی وادی میں قدم رکھ دیتا ہے۔ 

میں نے بھی اب اس حقیقت کو تسلیم کر لیا ہے کہ وہ شخص اور اس کے رفقاء اب شاید کبھی اس دنیا میں واپس نہ آئیں جسے وہ چھوڑ کر گئے تھے۔ 

اور اگر سچ پوچھیں تو... شاید ان کا واپس نہ آنا ہی اب اس "نظریے" کی زندگی کے لیے ضروری ہو چکا ہے جس کی آبیاری انہوں نے اپنے پسینے اور اب خون سے کی ہے۔

فرض کریں، ایک لمحے کے لیے جذباتی ہو کر سوچتے ہیں کہ وہ باہر آ گیا۔ 

پھر کیا ہوگا؟

پہلے 24 گھنٹے جشن ہوگا۔ 

سوشل میڈیا پر طوفان آئے گا۔ 

ہمارے دماغوں کو ایک شدید "ڈوپامائن ہٹ" (Dopamine Hit) ملے گی۔ 

ہم سمجھیں گے کہ فتح ہو گئی۔ 

لیکن پھر؟

پھر 48 گھنٹے گزریں گے۔ 

ایک ہفتہ گزرے گا۔ 

اور پھر وہ خوفناک خاموشی چھائے گی جب ہمیں اور اس "رہا ہونے والے" کو یہ احساس ہوگا کہ 

"پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہہ چکا ہے"۔

وہ جس نظام، جس معاشرے اور جس ریاست کو چھوڑ کر اندر گیا تھا، وہ اب موجود ہی نہیں ہے۔ باہر کی دنیا بدل چکی ہے۔ ادارے، معیشت، اخلاقیات اور وفاداریاں... سب کچھ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔

ایک "قیدی" ہیرو ہوتا ہے، کیونکہ وہ سمجھوتے نہیں کرتا۔

لیکن,

ایک "سیاستدان" (باہر آ کر) مجبور ہوتا ہے، اسے سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں۔

اگر وہ باہر آ گیا، تو اسے اسی گلے سڑے نظام کا حصہ بننا پڑے گا، انہی لوگوں سے ہاتھ ملانا پڑے گا، اور انہی مجبوریوں کا شکار ہونا پڑے گا جن کے خلاف اس نے بغاوت کی تھی۔ 

نتیجہ؟ 

وہ "متھ" (Myth) ٹوٹ جائے گی، 

وہ "طلسم" بکھر جائے گا، 

اور عوام کی وہ امید جو جیل کی دیواروں سے ٹکرا کر مضبوط ہوئی تھی، باہر کی "سیاسی دلدل" میں ڈوب کر مر جائے گی۔ 

اس لیے، کڑوا سچ یہ ہے کہ اس کا "نہ آنا" اب اس کے قد کو مزید بڑھا رہا ہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ نظریات تب مرتے ہیں جب ان کا بانی "اقتدار" میں آ کر ناکام ہو جائے، لیکن نظریات تب "امر" (Immortal) ہو جاتے ہیں جب ان کا بانی "قید" یا "موت" کے حصار میں گم ہو جائے۔

سقراط اگر زہر کا پیالہ نہ پیتا اور معافی مانگ کر اکیڈمی چلا جاتا، تو آج فلسفہ مر چکا ہوتا۔ 

امام حسینؓ اگر یزید سے ڈیل کر کے مدینہ واپس چلے جاتے، تو آج "حسینییت" کا وجود نہ ہوتا۔

اس شخص کا اندر رہنا اس بات کی ضمانت ہے کہ اس کا نظریہ "Compromise" (سمجھوتے) سے پاک رہے گا۔

اب ہمارا کام کیا ہے؟

اب ہمیں "مزاحمت" (Resistance) کے شور سے نکل کر "پائیداری" (Sustainability) اور "لچک" (Resilience) کی طرف جانا ہوگا۔

ہمیں "میکرو" (Macro) یعنی جلسوں، جلوسوں اور دھرنوں سے نکل کر "مائیکرو" (Micro) لیول پر جانا ہوگا۔

مائیکرو لیول کیا ہے؟

یہ ہر فرد کے ذہن کی تعمیر ہے۔ یہ اس بیانیے کو گھر گھر، دل دل میں منتقل کرنا ہے کہ "حق کیا ہے اور باطل کیا ہے"۔ 

اب جنگ سڑکوں پر نہیں، "ڈائننگ ٹیبل" پر، "کلاس روم" میں، اور "دفتر کی بحث" میں لڑی جائے گی۔ 

ہمیں اس نظریے کو اتنا مضبوط کرنا ہے کہ اگر اس کا "مرکز" (وہ شخص) ہٹا بھی دیا جائے، تو اس کی "شاخیں" (عوام) خود بخود پھل دیتی رہیں۔

میں اب ان "ڈومینز" میں گھس بیٹھا ہوں جو مستقبل سے تعلق رکھتی ہیں۔ 

مستقبل "شخصیات" کا نہیں، "نظریات" (Ideologies) کا ہے۔

ہمیں اب اس شخص کی "جسمانی آزادی" کی بھیک مانگنے کے بجائے، اس کی "فکری آزادی" کو نافذ کرنا ہوگا۔

اگر وہ اندر ہے، تو وہ ایک "استعارہ" (Symbol) ہے۔

لیکن,

اگر وہ باہر آ گیا، تو وہ محض ایک "امیدوار" (Candidate) بن جائے گا۔

اور استعارے، امیدواروں سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔ استعارے کو قتل نہیں کیا جا سکتا، امیدوار کو ہرایا جا سکتا ہے۔

ہمیں اب یہ تیاری کرنی ہے کہ اگر وہ کبھی واپس نہ بھی آیا، تو اس نے شعور کی جو شمع جلائی ہے، اسے بجھنے نہیں دینا۔ ہمیں خود "وہ" بننا ہوگا۔ 

ہر کارکن کو، ہر باشعور شہری کو اپنے دائرہ اختیار میں "لیڈر" بننا ہوگا۔ 

یہی وہ Resilience ہے جس سے نظام ڈرتا ہے۔ وہ ایک کو قید کر سکتے ہیں، وہ ایک کو مار سکتے ہیں، لیکن وہ کروڑوں "چھوٹے نظریاتی یونٹس" کو قید نہیں کر سکتے۔

تو میرے دوستو! 

دل چھوٹا نہ کرو۔ یہ جو ہو رہا ہے، یہ شاید تقدیر کے کسی بڑے پلان کا حصہ ہے۔

اس کا اندر رہنا، اس نظریے کی "خالصیت" (Purity) کی حفاظت کر رہا ہے۔ باہر کی ہوا زہریلی ہے، وہ اسے آلودہ کر دیتی۔

اب ہمیں اس کے "جسم" کا انتظار چھوڑ کر، اس کی "روح" (فکر) کو اپنے اندر اتارنا ہے۔

یہ "شخصیت پرستی" کا خاتمہ اور "نظریہ پرستی" کا آغاز ہے۔ 

اور یہی وہ مقام ہے جہاں قومیں بنتی ہیں۔

وہ آئے یا نہ آئے، اس نے اپنا کام کر دیا ہے۔ اب بقیہ کام ہمیں کرنا ہے۔ خاموشی سے، مائیکرو لیول پر، اور بغیر رکے۔

The 'non-existence' of the prisoner and the 'survival' of the ideology: When staying inside the fence becomes more important than coming out!  قیدی کا ’عدم‘ اور نظریے کی ’بقا‘: جب حصار کے اندر رہنا، باہر آنے سے زیادہ ضروری ہو جائے!
The 'non-existence' of the prisoner and the 'survival' of the ideology: When staying inside the fence becomes more important than coming out!  قیدی کا ’عدم‘ اور نظریے کی ’بقا‘: جب حصار کے اندر رہنا، باہر آنے سے زیادہ ضروری ہو جائے!

Post a Comment

Previous Post Next Post