The bloody wheel of history and our collective suicide: Have we entered the final circle of ‘recursion’? تاریخ کا خونی پہیہ اور ہماری اجتماعی خودکشی: کیا ہم ’ریکورسی‘ کے آخری دائرے میں داخل ہو چکے ہیں؟

The bloody wheel of history and our collective suicide: Have we entered the final circle of ‘recursion’?
تاریخ کا خونی پہیہ اور ہماری اجتماعی خودکشی: کیا ہم ’ریکورسی‘ کے آخری دائرے میں داخل ہو چکے ہیں؟

تاریخ صرف ماضی کے مردہ بادشاہوں کی کہانیاں نہیں سناتی، بلکہ یہ ایک بے رحم، شفاف اور خوفناک آئینہ ہوتی ہے جس میں قومیں اپنا مستقبل صاف دیکھ سکتی ہیں۔ 

لیکن بدقسمتی سے، ہم ایک ایسی قوم ہیں جسے اپنا عکس دیکھنے سے زیادہ آئینہ توڑنے کا شوق ہے۔ 

آج سے تین صدیاں قبل، اطالوی فلسفی جیمبٹسٹا ویکو (Giambattista Vico) نے انسانی تاریخ کا ایک ایسا فارمولا پیش کیا تھا جو آج پاکستان کے حالات پر اتنا فٹ بیٹھتا ہے جیسے کسی نے ہماری ہی تاریخ دیکھ کر لکھا ہو۔ 

ویکو نے کہا تھا: 

"تاریخ ایک سیدھی لکیر میں سفر نہیں کرتی، یہ ایک دائرے میں گھومتی ہے۔ قومیں راکھ سے اٹھتی ہیں، عروج پاتی ہیں، زوال کا شکار ہوتی ہیں، اور پھر دوبارہ بربریت کی طرف لوٹ جاتی ہیں۔" 

اس عمل کو اس نے "Ricorsi" (ریکورسی) کا نام دیا۔

آج، جب ہم پاکستان کے سیاسی، معاشی اور اخلاقی دیوالیہ پن کو دیکھتے ہیں، تو سوال یہ پیدا نہیں ہوتا کہ 

"کیا بنے گا؟" 

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم ویکو کے اس دائرے میں کس مقام پر کھڑے ہیں؟ 

کیا ہم زوال کے اس آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں سے واپسی کا راستہ صرف "مکمل تباہی اور دوبارہ آغاز" ہے؟

ویکو کے فلسفے کو اگر پاکستان کی 77 سالہ تاریخ پر منطبق (Apply) کیا جائے، تو ایک ہولناک تصویر ابھرتی ہے۔

1- پہلا دور: عہدِ شجاعت (The Age of Gods & Heroes):

یہ وہ دور تھا جب پاکستان بنا۔ ہمارے آباء و اجداد نے ننگے پاؤں، بھوکے پیٹ، اور کٹے پھٹے جسموں کے ساتھ ہجرت کی۔ ان کے پاس وسائل نہیں تھے، عقل (مادی حساب کتاب) نہیں تھی، لیکن ان کے پاس "جذبہ" اور "غیرت" تھی۔ یہ وہ دور تھا جب قوم سادگی، ایمانداری اور قربانی کے جذبوں سے سرشار تھی۔ لیڈر وہ تھا جس کے کردار میں جان تھی۔ یہ ہمارا عہدِ شجاعت تھا۔

2- دوسرا دور: عہدِ بادشاہت و کمال (The Age of Men):

پھر ہم نے ادارے بنائے، ڈیمز بنائے، فوج بنائی، اور ایٹمی طاقت بنے۔ ہم نے شہر بسائے اور تہذیب کی بلندیوں کو چھوا۔ لیکن ویکو کہتا ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں زوال کا بیج بویا جاتا ہے۔ جب "سامانِ عیش کی فراوانی" اور "اقتدار کی ہوس" حکمرانوں کو اندھا کر دیتی ہے۔

ہمارے ایوب، ضیاء اور مشرف کے ادوار اسی "بادشاہت" کی عکاسی کرتے ہیں جہاں حکمران عوام سے کٹ گئے اور سارا زور "محل" (ایوانوں) کو مضبوط کرنے پر لگا دیا گیا۔

3- تیسرا دور: جمہوریت کا فریب اور ’فکر کی بربریت‘ (The Barbarism of Reflection):

اور اب... اب ہم ویکو کے سب سے خوفناک دور میں سانس لے رہے ہیں۔ وہ اسے "فکر کی بربریت" کہتا ہے۔

جمہوریت کا دھوکہ: ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ہم ایک جمہوریت ہیں، لیکن حقیقت کیا ہے؟ 

ہم ایک "خاندانی اجارہ داری" (Oligarchy) کے شکنجے میں ہیں۔ چند چالاک خاندان (شریف، زرداری، چوہدری, مخدوم وغیرہ وغیرہ) اور مفاد پرست ٹولے (اسٹیبلشمنٹ کے مہرے) متحد ہو چکے ہیں۔

سازشوں کا راج: اب جنگیں تلوار سے نہیں، "سازشوں"، "آڈیو لیکس"، اور "سائفرز" سے لڑی جاتی ہیں۔ اقتدار "ووٹ" سے نہیں، "نوٹ" اور "بوٹ" سے حاصل کیا جاتا ہے۔

اخلاقی بانجھ پن: ویکو کہتا ہے اس دور میں انسان جنگل میں نہیں رہتا، مگر اس کی روح جنگلی ہو جاتی ہے۔ وہ انتہائی خود غرض، مکار اور منافق ہو جاتا ہے۔

کیا آج کا پاکستان یہی نہیں ہے؟ 

جہاں جھوٹ کو "بیانیہ"، لوٹ مار کو "این آر او"، اور غداری کو "حب الوطنی" کا نام دیا جاتا ہے؟ 

جہاں قانون صرف غریب کی گردن ناپنے کے لیے ہے اور اشرافیہ کے لیے موم کی ناک؟

ویکو کے فلسفے کا آخری مرحلہ سب سے زیادہ ڈراؤنا ہے۔ 

وہ کہتا ہے کہ جب یہ نام نہاد جمہوری اشرافیہ عوام کا جینا حرام کر دیتی ہے، جب ٹیکسوں کا بوجھ غریب کی ہڈیاں توڑ دیتا ہے، تو عوام تنگ آ کر کسی "نجات دہندہ" (Strongman/Dictator) کی تلاش میں آسمان کی طرف دیکھتے ہیں۔

آج پاکستان کا ہر نوجوان، ہر مزدور، ہر طالب علم یہی سوال پوچھ رہا ہے: 

"کوئی آئے گا جو ان چوروں کو لٹکائے گا؟"

یہ خواہش فطری ہے، مگر ویکو خبردار کرتا ہے:

ڈکٹیٹر کا سراب: عوام کی مایوسی کا فائدہ اٹھا کر کوئی نہ کوئی نجات دہندہ (چاہے وہ وردی میں ہو یا سویلین لبادے میں) اسٹیج پر آتا ہے۔ لوگ تالیاں بجاتے ہیں، مٹھائیاں بانٹتے ہیں۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ مطلق العنان طاقت آخرکار فساد کی طرف لے جاتی ہے۔

حتمی انتشار (Chaos): جب وہ مسیحا ناکام ہوتا ہے یا کمزور پڑتا ہے، تو معاشرہ مکمل انارکی (Anarchy) کا شکار ہو جاتا ہے۔ کوئی قانون باقی نہیں رہتا۔ سری لنکا کی طرح عوام ایوانوں میں گھس جاتے ہیں، اور بنگلہ دیش کی طرح مجسمے گرا دیے جاتے ہیں۔

ہم اس وقت اسی "انتشار" کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ 

عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کا رشتہ ٹوٹ چکا ہے۔ 

اشرافیہ اپنے "آخری شکار" میں مصروف ہے، اور عوام اپنے "آخری صبر" پر۔

تاریخ کا پہیہ گھوم کر وہیں آ پہنچا ہے جہاں سے یہ شروع ہوا تھا۔ Ricorsi (واپسی) کا عمل شروع ہو چکا ہے۔

ہمارا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ہمارے پاس وسائل نہیں؛ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم "اخلاقی اور فکری سستی" کا شکار ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ حالات بدل جائیں، مگر ہمیں خود کو نہ بدلنا پڑے۔

ہم چاہتے ہیں کہ "نظام" بدل جائے، لیکن ہم اپنی "ذات" پر تنقید سننے کو تیار نہیں۔

ہم ایک ایسے "ہائبرڈ" دور میں پھنس چکے ہیں جہاں جمہوریت کا تماشا بھی لگا ہوا ہے اور آمریت کا ڈنڈا بھی چل رہا ہے۔ 

یہ تذبذب (Confusion) ہی اس بات کی علامت ہے کہ پرانا نظام مر رہا ہے اور نیا نظام جنم لینے میں مشکل پیش کر رہا ہے۔

حل کیا ہے؟ 

دائرہ توڑنا یا دوبارہ صفر پر جانا؟

ویکو کا فلسفہ ایک تنبیہ ہے، پیشین گوئی نہیں۔ ہم اب بھی اس "خونی دائرے" کو ایک "ترقی پسند بھنور" (Progressive Spiral) میں بدل سکتے ہیں، لیکن اس کا راستہ آسان نہیں۔

راستہ کسی "مسیحا" کے انتظار میں نہیں، بلکہ "اجتماعی شعور" (Collective Consciousness) کی بیداری میں ہے۔

شعور کی بغاوت: ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ نجات کسی ایک شخص (نواز، ذرداری, کوئی عسکری کردار یا کسی اور وغیرہ وغیرہ) میں نہیں، بلکہ قانون کی حکمرانی اور اداروں کی مضبوطی میں ہے۔ 

جب تک ہم شخصیت پرستی کے بت نہیں توڑیں گے، ہم ذلیل ہوتے رہیں گے۔

کریکٹر بلڈنگ: قومیں وسائل سے نہیں، کردار سے بنتی ہیں۔ جب تک ہم جھوٹ، ملاوٹ، سفارش اور رشوت کو "گناہ" نہیں سمجھیں گے، تب تک ہم پر مسلط حکمران بھی ایسے ہی ہوں گے۔ جیسا منہ، ویسی چپیڑ۔

مزاحمت: تاریخ کا پہیہ تب رکتا ہے جب عوام اس کے سامنے لیٹ جاتے ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ 

"بس! اب اور نہیں۔"

آخری سوال یہ ہے:

کیا ہم اس بار دائرے کے اگلے مرحلے میں ایک باشعور، جاگی ہوئی اور حقوق و فرائض سے آگاہ قوم بن کر داخل ہوں گے؟ 

یا ہم پھر سے بربریت، خانہ جنگی اور صفر (Zero) کی طرف لوٹیں گے؟

تاریخ کا قلم ہمارے ہاتھ میں ہے، اور وقت کی سیاہی خشک ہو رہی ہے۔ فیصلہ ہمیں کرنا ہے۔

The bloody wheel of history and our collective suicide: Have we entered the final circle of ‘recursion’?  تاریخ کا خونی پہیہ اور ہماری اجتماعی خودکشی: کیا ہم ’ریکورسی‘ کے آخری دائرے میں داخل ہو چکے ہیں؟
The bloody wheel of history and our collective suicide: Have we entered the final circle of ‘recursion’?  تاریخ کا خونی پہیہ اور ہماری اجتماعی خودکشی: کیا ہم ’ریکورسی‘ کے آخری دائرے میں داخل ہو چکے ہیں؟

Post a Comment

Previous Post Next Post