Eternal memory, quantum entanglement and 'love at first sight': The 'cosmic code' hidden in our DNA from Adam to the present day!
ازل کی یادداشت، کوانٹم اینٹینگلمنٹ اور ’پہلی نظر کا پیار‘: آدمؑ سے آج تک ہمارے ڈی این اے میں چھپا ’کائناتی کوڈ‘!
کبھی آپ کے ساتھ ایسا ہوا ہے کہ آپ کسی بھیڑ میں کھڑے ہوں، ہزاروں چہرے آپ کے پاس سے گزر رہے ہوں، اور اچانک آپ کی نظر ایک اجنبی چہرے پر ٹھہر جائے؟
آپ نے اسے پہلے کبھی نہیں دیکھا، آپ اس کا نام نہیں جانتے، مگر آپ کا دل ایک عجیب سی ’دھک‘ (Frequency Skip) کے ساتھ گواہی دیتا ہے کہ
"میں اسے جانتا ہوں!"
یہ کیا ہے؟
سائنس اسے Déjà vu کہتی ہے،
شاعر اسے "پہلی نظر کا پیار" کہتے ہیں،
اور نفسیات اسے "لا شعوری کشش" کہتی ہے۔
مگر میں، آج آپ کو بتانے جا رہا ہوں کہ یہ نہ شاعری ہے اور نہ اتفاق۔
یہ "کوانٹم فزکس" ہے۔
یہ "ریاضی کی ایک مساوات" (Equation) ہے جو حل ہو گئی ہے۔
اور یہ آپ کے خون میں دوڑتے ہوئے خلیات کی "ایپی جینیٹک یادداشت" ہے جو چیخ کر کہہ رہی ہے کہ یہ ملاقات پہلی بار نہیں ہو رہی۔
ہم سب سمجھتے ہیں کہ ہماری کہانی ماں کے پیٹ سے شروع ہوئی، مگر جدید سائنس (کوانٹم میکانکس) اور قدیم اسلام (عالمِ ارواح) دونوں متفق ہیں کہ ہماری کہانی کا آغاز زمان و مکان (Space-Time) کی پیدائش سے بھی پہلے ہو چکا تھا۔
آج ہم اس "ٹوٹے ہوئے کنکشن" (Broken Connection) کو جوڑیں گے اور ثابت کریں گے کہ آپ کا کسی کو دیکھ کر اچھا یا برا محسوس کرنا (Vibes) دراصل ایک "کائناتی ڈیٹا ٹرانسفر" ہے۔
سب سے پہلے ہمیں "روح" کی سائنسی تعریف سمجھنی ہوگی۔
کوانٹم فزکس کے مطابق، کائنات کی ہر چیز "توانائی" (Energy) ہے۔ اور توانائی کبھی فنا نہیں ہوتی۔
کوانٹم فزکس کا ایک بنیادی اور سب سے حیران کن اصول ہے:
"Quantum Entanglement"
یہ اصول کہتا ہے کہ "اگر دو ذرات (Particles) کبھی ایک بار آپس میں جڑ جائیں یا ایک ہی منبع (Source) سے پیدا ہوں، تو وہ ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں (Entangled)۔
اگر آپ ان دونوں کو کائنات کے دو الگ الگ کونوں میں بھی پھینک دیں، تو ایک ذرے میں ہونے والی تبدیلی فوری طور پر دوسرے ذرے میں بھی ہوگی، چاہے ان کے درمیان کروڑوں نوری سال کا فاصلہ کیوں نہ ہو۔"
حدیثِ نبویﷺ ہے:
اسلامی کنکشن:
"الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ..."
(روحیں اکٹھے کیے ہوئے لشکر ہیں، جو وہاں (عالمِ ارواح میں) ایک دوسرے کو پہچانتے تھے، وہ یہاں (دنیا میں) بھی ایک دوسرے سے مانوس ہوتے ہیں، اور جو وہاں اجنبی تھے، وہ یہاں بھی اجنبی رہتے ہیں)۔ [صحیح مسلم]
یہ حدیث دراصل "کوانٹم اینٹینگلمنٹ" کا بیان ہے۔
جب اللہ نے تمام روحوں کو پیدا کیا (عالمِ ارواح)، تو ہم سب ایک ہی "منبع" سے نکلے تھے۔
وہاں جو روحیں ایک دوسرے کے قریب تھیں، جن کی "فریکوئنسی" (Frequency) میچ کر گئی تھی، وہ آپس میں "اینٹنگلڈ" (Entangled) ہو گئیں۔
آج دنیا میں، جب آپ کسی سے ملتے ہیں اور آپ کو فوراً اپنائیت محسوس ہوتی ہے، تو یہ کوئی جادو نہیں ہے۔
یہ وہ لمحہ ہے جب آپ کے "کوانٹم پارٹیکلز" اپنے پرانے ساتھی کو پہچان لیتے ہیں۔
آپ کا جسم (ہارڈ ویئر) نیا ہے، لیکن آپ کے اندر کی انرجی (سافٹ ویئر) اسی پرانے سرور (Server) سے کنیکٹڈ ہے۔
(Genetic Singularity) اور فریکٹل جیومیٹری
ریاضی میں ایک تصور ہے "Fractals" کا۔
فریکٹل ایک ایسی شکل ہے جس کا ہر چھوٹا حصہ، مکمل شکل کی ہو بہ ہو نقل ہوتا ہے۔
حضرت آدمؑ اور اماں حواؑ انسانیت کی "Singularity" (وحدانیت) ہیں۔ ہم سب انہی کے "فریکٹلز" ہیں۔
سائنس کہتی ہے کہ تمام انسانوں کا ڈی این اے 99.9% ایک جیسا ہے۔ یہ 0.1% کا فرق محض ظاہری ہے۔
Mitochondrial Eve اور Y-Chromosomal Adam کے سائنسی نظریات ثابت کرتے ہیں کہ ہم سب ایک ہی مرد اور ایک ہی عورت کی اولاد ہیں۔
ایپی جینیٹکس اور جنت کی یادداشت:
ایپی جینیٹکس کہتی ہے کہ ماحول اور تجربات جینز پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
آدمؑ اور حواؑ نے جنت میں وقت گزارا۔ ان کے ڈی این اے نے "جنت کے ماحول"، "سکون"، اور "اللہ کے قرب" کو ریکارڈ کیا۔
جب انہیں زمین پر بھیجا گیا، تو ان کے ڈی این اے نے "جدائی" (Separation) اور "فراق" کے صدمے کو بھی ریکارڈ کیا۔
آج، ہزاروں سال بعد، ہمارے ڈی این اے میں دو متضاد یادداشتیں موجود ہیں:
جنت کی یاد (Cellular Nostalgia): اسی لیے ہمیں خوبصورت باغات، ندیاں اور سکون اچھا لگتا ہے۔ یہ ہماری "جینیاتی گھر کی یاد" ہے۔
جدائی کا غم: ہر انسان کے اندر ایک نامعلوم اداسی ہے، ایک خالی پن ہے۔ صوفیاء اسے "نیستاں سے بچھڑنے کا غم" کہتے ہیں۔
سائنس اسے "جینیاتی میموری" کہتی ہے۔ ہم اس "کامل کنکشن" کو ڈھونڈ رہے ہیں جو جنت میں ٹوٹ گیا تھا۔
آپ کسی کو دیکھتے ہیں اور آپ کو "منفی وائبز" (Negative Vibes) آتی ہیں، حالانکہ اس نے کچھ کہا بھی نہیں ہوتا۔
کیوں؟
اس کا جواب "Quantum Field Theory" اور "Resonance" میں ہے۔
انسان صرف گوشت کا لوتھڑا نہیں ہے؛ انسان ایک "Bio-Electromagnetic Field" (حیاتیاتی مقناطیسی میدان) ہے۔
ہمارا دل جسم کا سب سے بڑا جنریٹر ہے جو 5 فٹ کے دائرے تک اپنا الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ پھیلاتا ہے۔
جب دو انسان قریب آتے ہیں، تو ان کے یہ فیلڈز آپس میں ٹکراتے ہیں۔
مثبت ٹکراؤ (Constructive Interference): اگر دونوں کی فریکوئنسی (سوچ اور روح کا معیار) ایک جیسی ہو، تو لہریں مل کر ایک بڑی لہر بناتی ہیں۔ آپ کو "انرجی" محسوس ہوتی ہے۔ یہ دوستی اور محبت ہے۔
* منفی ٹکراؤ (Destructive Interference): اگر ایک شخص کی فریکوئنسی "حسد/غصے" (Low Vibration) کی ہے اور دوسرے کی "سکون" (High Vibration) کی، تو لہریں ایک دوسرے کو کینسل کرتی ہیں۔ آپ کو گھٹن، بے چینی اور نفرت محسوس ہوتی ہے۔
حدیث کا سائنسی ثبوت:
حدیث ہے: "مومن، مومن کا آئینہ ہے۔"
سائنس میں اسے "Mirror Neurons" اور "Sympathetic Resonance" کہتے ہیں۔ ایک نیک روح (ہائی فریکوئنسی) دوسری نیک روح کو فوراً "ڈی کوڈ" کر لیتی ہے۔
اسی لیے اولیاء اللہ و صدیقین اور علماء حق کے پاس بیٹھ کر سکون ملتا ہے، کیونکہ ان کا "فیلڈ" اتنا طاقتور ہوتا ہے کہ وہ آپ کے بکھرے ہوئے الیکٹرانز کو "الائن" (Align) کر دیتا ہے۔
ہم خوبصورتی کی طرف کیوں کھنچتے ہیں؟
ہم کسی کو دیکھ کر کیوں کہتے ہیں کہ یہ "پرفیکٹ" ہے؟
یہ ریاضی (Mathematics) ہے۔
کائنات کی ہر چیز، کہکشاؤں سے لے کر ڈی این اے کے اسٹرکچر تک، اور پھولوں کی پتیوں سے لے کر انسانی چہرے تک، ایک خاص تناسب پر بنی ہے جسے "Golden Ratio" (1.618 / Phi) کہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے کائنات کو "حساب" (Math) سے بنایا ہے۔
جب ہم کسی ایسے چہرے یا انسان کو دیکھتے ہیں جو اس "فطری تناسب" (Divine Proportion) کے قریب ہوتا ہے، تو ہمارا دماغ اسے فوراً "خوبصورت" تسلیم کرتا ہے کیونکہ وہ ہمارے ڈی این اے میں موجود "کائناتی نقشے" سے میچ کر رہا ہوتا ہے۔
محبت اندھی نہیں ہوتی؛ محبت دراصل "Subconscious Mathematical Calculation" (لاشعوری حسابی عمل) ہے۔
آپ کا دماغ ملی سیکنڈز میں سامنے والے کے جینز، اس کی صحت، اور اس کی روحانیت کو کیلکولیٹ کر کے فیصلہ کرتا ہے کہ
"یہ وہی ہے!"
اب آتے ہیں سوال کے اس حصے پر کہ یہ کنکشن ٹوٹا کیسے اور جڑ کیسے سکتا ہے؟
جب انسان گناہ کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، یا حرام کھاتا ہے، تو وہ اپنی "Vibrational Frequency" کو گرا دیتا ہے۔
کوانٹم کیمسٹری کہتی ہے کہ الیکٹرانز نیوکلیئس کے گرد مخصوص مداروں (Orbits) میں گھومتے ہیں۔
جب انہیں انرجی (نور) ملتی ہے، تو وہ "اوپر والے مدار" (Higher State) میں چلے جاتے ہیں۔
جب وہ انرجی کھوتے ہیں، تو نیچے گر جاتے ہیں۔
گناہ اور غفلت ہمارے "روحانی الیکٹرانز" کو نچلے مدار میں گرا دیتی ہے۔
ہمارا "عالمِ ارواح" والا اینٹینا سگنل پکڑنا بند کر دیتا ہے۔ ہم "ڈسکنیکٹڈ" (Disconnected) ہو جاتے ہیں۔ ہم ڈپریشن، تنہائی اور بے مقصدیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔
بحالی کا طریقہ (Reconnection Protocol):
جیسا کہ پچھلی تحاریر میں ذکر ہوا، عبادت اور ریاضت۔
جب ایک انسان ذکر (Vibration) کرتا ہے، تو وہ مخصوص صوتی لہریں (Sound Waves) پیدا کرتا ہے۔ یہ لہریں اس کے خلیات میں پانی کے مالیکیولز کو ترتیب دیتی ہیں (Cymatics)۔
جب وہ دو سے سات سال تک مسلسل یہ عمل کرتا ہے، تو وہ اپنی فریکوئنسی کو واپس اسی "عالمِ ارواح" والی سطح پر ٹیون (Tune) کر لیتا ہے۔
اس کا ڈی این اے "اوپن" ہو جاتا ہے۔
اس کا "پینیل گلینڈ" (Pineal Gland / Third Eye) ایکٹیویٹ ہو جاتا ہے۔
اسے "سچے خواب" (True Dreams) آنے لگتے ہیں (جو کہ کوانٹم نان لوکیلٹی کا ثبوت ہے)۔
وہ وقت اور مکان (Time and Space) کی قید سے آزاد ہو کر چیزوں کو دیکھنے لگتا ہے (کشف)۔
کیا ہم سب ایک ہی ’نور‘ کی بکھری ہوئی کرنیں ہیں؟
اس طویل سائنسی اور روحانی سفر کا نچوڑ یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی تنہا نہیں ہے۔
کوانٹم فزکس کہتی ہے کہ ہم سب ایک "یونیفائیڈ فیلڈ" (Unified Field) کا حصہ ہیں۔
ایپی جینیٹکس کہتی ہے کہ ہم سب آدمؑ کی یادداشت کے امین ہیں۔
اسلام کہتا ہے کہ ہم سب اللہ کی طرف لوٹنے والے ہیں۔
وہ جو آپ کو پہلی نظر میں پیارا لگا تھا، وہ اتفاق نہیں تھا؛ وہ آپ کی روح کی قدیم یادداشت تھی جس نے ہزاروں سال بعد اپنے ساتھی کو پہچان لیا تھا۔ وہ جو آپ کو کسی سے مل کر گھٹن ہوئی تھی، وہ آپ کے "نور" کا "ظلمت" سے ٹکراؤ تھا۔
یہ کائنات ایک بہت بڑا ڈیٹا بیس ہے، اور ہمارا دل اس کا "ریسیور"۔ اگر ہم اپنے ریسیور کو گناہوں کے "شور" (Noise) سے پاک کر لیں، اور اسے عبادت کی "فریکوئنسی" پر سیٹ کر لیں، تو ہم آج بھی اسی "عالمِ ارواح" کی لائیو ٹرانسمیشن سن سکتے ہیں جہاں سے ہم آئے تھے۔
آدمؑ سے لے کر آج تک، کہانی صرف ایک ہی ہے:
"بچھڑنا، تڑپنا، اور پھر سے جڑ جانا۔"