The mourning of morality and the new idol of 'consent': When 'Islam' is attacked after reading an incomplete lesson from history!
اخلاقیات کا ماتم اور ’رضامندی‘ کا نیا بت: جب تاریخ کا ادھورا سبق پڑھ کر ’اسلام‘ پر حملہ کیا جائے!
آج کل ہمارے دیسی لبرل اور فیمنسٹ حلقوں میں ایک نیا فکری فیشن چل پڑا ہے۔
یہ لوگ تاریخ کی کتابوں سے چند آدھے ادھورے واقعات اٹھاتے ہیں، انہیں ’انسانی حقوق‘ کی چاشنی میں ڈبوتے ہیں، اور پھر اسے ’اسلام‘ کے خلاف ایک چارج شیٹ بنا کر پیش کر دیتے ہیں۔
اسی فکری بددیانتی کا ایک شاہکار نمونہ تحریر پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے۔ تحریر لکھنے والی مصنفہ موصوفہ نے بڑی چابکدستی سے یونان، روم اور ہندو مت کے مظالم کو ’اسلام‘ کے ساتھ نتھی کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ "شادی" خدا کا حکم نہیں، بلکہ مردانہ طاقت کی ایک سازش ہے۔
ان کا مقدمہ یہ ہے کہ چونکہ ماضی میں ’لونڈی‘ (غلام عورت) کے ساتھ تعلق جائز تھا، لہٰذا آج کی ’آزاد عورت‘ کے ساتھ نکاح کے بغیر تعلق (زنا) کو گناہ کیوں کہا جائے؟
آئیے، اس ’تاریخی تضاد‘ کے نام پر پھیلائے گئے ’فکری مغالطے‘ کا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں۔
1- تاریخ کا آدھا سچ اور ’طاقت‘ کا من گھڑت افسانہ:
مصنفہ فرماتی ہیں کہ شادی یونان میں معاہدہ تھی اور روم میں عورت ’ملکیت‘ تھی۔
بالکل سچ!
مگر وہ یہ بتانا بھول گئیں کہ یہ وہی جاہلی معاشرے تھے جن کے خلاف ’اسلام‘ بطورِ انقلاب آیا تھا۔
اسلام نے آ کر عورت کو ’شوہر کی ملکیت‘ ہونے کے تصور سے نکالا اور نکاح کو ایک ’سوشل کنٹریکٹ‘ (میثاقاً غلیظا) بنایا جس میں عورت کی ’رضامندی‘ (Consent) کو پہلی شرط قرار دیا۔
اسلام سے پہلے عورت ورثے میں تقسیم ہوتی تھی؛ اسلام نے اسے وارث بنایا۔
مصنفہ کا یہ کہنا کہ
"شادی کو جبراً مقدس بنایا گیا تاکہ اس کے باہر ہر تعلق گناہ ٹھہرے"،
ایک بچگانہ استدلال ہے۔ شادی کو ’مقدس‘ اس لیے نہیں بنایا گیا کہ مرد عورت پر قابض ہو سکے، بلکہ اس لیے مقدس بنایا گیا تاکہ "نسل" (Lineage) کی حفاظت ہو سکے۔
انسان اور جانور میں فرق ہی یہ ہے کہ جانور ’جنسی تعلق‘ تو رکھتا ہے مگر ’باپ‘ ہونے کی ذمہ داری نہیں اٹھاتا۔
نکاح وہ ادارہ ہے جو مرد کو پابند کرتا ہے کہ اگر تم نے لطف لیا ہے، تو اب اس کے نتیجے (بچے اور عورت) کی کفالت اور ذمہ داری بھی اٹھاؤ, یہ ’طاقت‘ نہیں، یہ ’ذمہ داری‘ (Responsibility) ہے۔
2- ’لونڈی‘ کا مسئلہ اور فکری دھوکہ دہی:
اب آتے ہیں اس تحریر کے سب سے زہریلے حصے کی طرف جہاں ’لونڈی‘ اور ’زنا‘ کا موازنہ کیا گیا ہے۔
مصنفہ کا استدلال ہے:
"اگر لونڈی سے تعلق جائز تھا تو گرل فرینڈ سے کیوں نہیں؟ یہ تو منافقت ہے!"
یہاں مصنفہ نے بڑی ہوشیاری سے سیاق و سباق (Context) کو غائب کر دیا۔
غلامی اسلام نے ایجاد نہیں کی: جب قرآن نازل ہوا، غلامی پوری دنیا کا معاشی نظام (Economic System) تھی۔ اسے ایک دن میں ختم کرنے کا مطلب لاکھوں لوگوں کو بھوکا مارنا تھا۔ اسلام نے اسے ’ریگولیٹ‘ کیا اور بتدریج ختم کرنے کا راستہ بنایا۔
لونڈی ’پبلک پراپرٹی‘ نہیں تھی: مصنفہ کا یہ تاثر دینا کہ لونڈی کے ساتھ کوئی بھی منہ کالا کر سکتا تھا، سفید جھوٹ ہے۔ شریعت میں لونڈی کے ساتھ تعلق صرف اس کے ’مالک‘ کے لیے جائز تھا، اور وہ بھی نکاح کی طرح ایک قانونی فریم ورک کے تحت۔ اگر لونڈی امید سے ہو جاتی، تو وہ "امِ ولد" بن جاتی، اسے بیچا نہیں جا سکتا تھا، اور اس کا بچہ آزاد تصور ہوتا اور جائیداد کا وارث بنتا۔
زنا بمقابلہ ملکیتِ یمین: ’زنا‘ اور ’لونڈی‘ میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ زنا ایک "لاوارث تعلق" ہے جس میں نہ بچے کا نسب محفوظ ہے، نہ عورت کی کفالت کی ذمہ داری۔ جبکہ لونڈی کے معاملے میں مرد پر اس کی چھت، روٹی، اور بچے کی ذمہ داری لازم تھی۔
مصنفہ نے فقہ کی چند ایسی شاذ (Rare) اور متروک آراء (جیسے لونڈی کا مشترکہ ہونا) کو بنیاد بنا کر پورے دین کو نشانہ بنایا، حالانکہ جمہور فقہاء اور قرآن و سنت کی واضح نصوص کے مطابق ایک وقت میں ایک عورت کے ساتھ تعلق کی ہی اجازت ہے تاکہ ’نسب‘ خلط ملط نہ ہو۔
3- ’نسب‘ کی حفاظت یا مردانہ بالادستی؟:
تحریر میں بار بار کہا گیا کہ یہ سب
"مردانہ سماج کے لیے عورت کی جنس پر قابو پانے کا نام ہے۔"
یہ ایک فیمنسٹ کلیشے (Cliché) ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ قابو ’عورت‘ پر نہیں، بلکہ ’مرد کی ہوس‘ پر ہے۔
اگر نکاح نہ ہو، تو مرد کے لیے سب سے زیادہ فائدہ ہے۔
وہ عورت کو استعمال کرے، اور جب بچہ پیدا ہو یا ذمہ داری کا وقت آئے، تو "میری مرضی" کہہ کر بھاگ جائے۔ نکاح وہ زنجیر ہے جو مرد کو بھاگنے سے روکتی ہے۔
شریعت نے اگر زنا کو حرام کیا اور نکاح/ملکیت کو جائز کیا، تو اس کی بنیاد "ذمہ داری کا تعین" تھا۔
لبرل ازم جس ’آزادی‘ کا پرچار کر رہا ہے، وہ دراصل مرد کو یہ لائسنس دیتی ہے کہ وہ عورت کو ’ٹشو پیپر‘ کی طرح استعمال کرے اور بغیر کسی قانونی گرفت کے چلتا بنے۔ یہ عورت کی آزادی نہیں، یہ مرد کی عیاشی کا پروانہ ہے۔
4- جدید دور اور ’رضامندی‘ کا بت:
مصنفہ پوچھتی ہیں:
"ایک بالغ، باشعور انسان کی مرضی آج بھی ان سبھی اخلاقی چوروں کے لیے سب سے بڑا جرم کیوں ہے؟"
جواب بہت سادہ اور تلخ ہے: کیونکہ آپ کی ’مرضی‘ خلا میں نہیں ہوتی، اس کے نتائج سماج بھگتتا ہے۔
جب آپ "اپنی مرضی" سے زنا کرتے ہیں، تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے (جو اکثر اسقاطِ حمل کی نذر ہوتے ہیں یا سنگل پیرنٹنگ کا عذاب جھیلتے ہیں) کا ذمہ دار کون ہے؟
مغرب نے "رضامندی" کو خدا بنا لیا، نتیجہ کیا نکلا؟
خاندانی نظام کی تباہی، نفسیاتی مریضوں کی فوج، اور بوڑھے والدین کا اولڈ ہومز میں سڑنا۔
شریعت کہتی ہے کہ جنسی عمل محض ’جسمانی لذت‘ نہیں، بلکہ ایک ’تمدنی عمل‘ (Civilizational Act) ہے۔ اس سے اگلی نسل وجود میں آتی ہے۔ اس لیے اسے صرف ’دو بالغوں کی مرضی‘ پر نہیں چھوڑا جا سکتا؛ اسے ’معاشرتی ذمہ داری‘ کے فریم ورک (نکاح) میں قید کرنا ضروری ہے۔
5- فقہ بمقابلہ دین: اصل نشانہ کون؟:
مصنفہ نے فقہاء کے اجتہاد (جو غلط بھی ہو سکتے ہیں) کی آڑ میں دراصل قرآن کے احکامات (حرمتِ زنا) کو نشانہ بنایا ہے۔ وہ یہ نہیں کہہ رہیں کہ "فقہ ٹھیک کرو"، وہ کہہ رہی ہیں کہ
"زنا کو جائز کرو کیونکہ پرانے زمانے میں لونڈی بھی جائز تھی۔"
یہ ایسی ہی منطق ہے کہ چونکہ پرانے زمانے میں لوگ تلوار سے لڑتے تھے، لہٰذا آج ہمیں ایٹم بم چلانے کی کھلی اجازت ہونی چاہیے۔
اسلام کا اصول اٹل ہے: ہر وہ جنسی تعلق حرام ہے جس میں سماجی اور قانونی ذمہ داری (Responsibility) نہ لی گئی ہو۔ چاہے وہ آج کی گرل فرینڈ ہو یا ماضی کا کوئی آزادانہ معاشقہ۔
یہ تحریر ’اخلاق‘ کا ماتم نہیں کر رہی، بلکہ یہ اس بات کا ماتم کر رہی ہے کہ ہمیں اپنی ’خواہشات‘ کا غلام بننے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی۔
یہ لوگ جسے ’انسانی تاریخ کا تضاد‘ کہہ رہے ہیں، وہ دراصل انسانیت کی ’بقا کا اصول‘ ہے۔
معاشرے طاقت کے زور پر نہیں، بلکہ ’ضابطوں‘ کے زور پر زندہ رہتے ہیں۔
اگر آج ہم مصنفہ کی خواہش کے مطابق ’شادی‘ کے تقدس کو ختم کر دیں اور ہر تعلق کو ’جائز‘ قرار دے دیں، تو ہم واپس اسی ’جنگل‘ میں جا گریں گے جہاں صرف ’طاقتور‘ (مرد) کی مرضی چلتی تھی اور عورت محض گوشت کا ٹکڑا تھی۔
اسلام نے عورت کو ’ملکیت‘ سے نکال کر ’محصنہ‘ (قلعے میں محفوظ عورت) بنایا۔ یہ لبرل طبقہ اسے واپس ’پبلک پراپرٹی‘ بنانا چاہتا ہے، بس فرق یہ ہے کہ اس بار زنجیریں لوہے کی نہیں، بلکہ ’رضامندی‘ اور ’آزادی‘ کے خوشنما نعروں کی ہوں گی۔