Nature's Revenge, the Rebellion of Genes, and the Scientific Funeral of Indigenous Liberalism: The Final, Unbiased, and Researched Answer to All Objections!
فطرت کا انتقام، جینز کی بغاوت اور دیسی لبرل ازم کا سائنسی جنازہ: تمام اعتراضات کا حتمی، بے لاگ اور تحقیقی جواب!
پچھلی چند تحریروں نے سوشل میڈیا اور فکری حلقوں میں جو ارتعاش پیدا کیا، وہ میری توقع کے عین مطابق تھا۔
جب آپ کسی سوئے ہوئے کو جھنجھوڑتے ہیں، تو وہ ہڑبڑا کر اٹھتا ہے، کبھی غصہ کرتا ہے، کبھی بڑبڑاتا ہے اور کبھی دلیل مانگتا ہے۔
میرے پاس اعتراضات، سوالات اور گالیوں کا جو طوفان آیا ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ تیر ٹھیک نشانے پر لگا ہے۔
ہم نے اس "کمفرٹ زون" میں پتھر پھینکا ہے جہاں لوگ "سائنس" کو اپنی خواہشات کی کنیز اور "مذہب" کو فرسودہ روایات کا مجموعہ سمجھ کر زندگی گزار رہے تھے۔
آج کی یہ تحریر ان تمام دوستوں، دشمنوں، متلاشیانِ حق اور معترضین کے نام ہے جنہوں نے سوالات اٹھائے۔
ہم ایک ایک کر کے ان تمام گرہوں کو کھولیں گے, انبیاء کی اولاد سے لے کر مغرب کی خوشحالی تک، اور بانجھ عورت کے زنا سے لے کر وائے کروموسوم کی موت تک, آج کوئی لگی لپٹی نہیں رکھی جائے گی۔
سب سے پہلا اور سب سے بڑا علمی اعتراض جو اٹھایا گیا وہ یہ تھا کہ
"اگر ایپی جینیٹکس اتنی ہی اٹل ہے اور نیک والدین کے اثرات اولاد میں منتقل ہوتے ہیں، تو حضرت نوحؑ کا بیٹا کافر کیوں ہوا؟ حضرت ابراہیمؑ کے والد مشرک کیسے تھے؟ اور نیک لوگوں کی اولادیں کیوں بگڑ جاتی ہیں؟"
یہ سوال بظاہر بہت جاندار ہے، لیکن یہ ایپی جینیٹکس کی "الف ب" سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔
میرے دوستو!
ایپی جینیٹکس "روبوٹک پروگرامنگ" نہیں ہے۔ یہ جینز کا "اظہار" (Expression) ہے، "جبر" نہیں ہے۔
سائنس کہتی ہے کہ جینز ہمیں "Predisposition" (رجحان) دیتے ہیں، "Decision" (فیصلہ) نہیں دیتے۔
حضرت نوحؑ کے بیٹے کو وراثت میں یقیناً ایک بہترین، ذہین اور روحانی صلاحیتوں کا حامل "ہارڈ ویئر" (جسم و دماغ) ملا تھا۔
اس کے پاس "نبوت کا نور" جذب کرنے کی صلاحیت عام انسانوں سے زیادہ تھی (کیونکہ باپ نبی تھا)۔ لیکن یہاں انسان کا دوسرا سب سے بڑا وصف آڑے آتا ہے:
"Free Will" (اختیار)
اگر ایپی جینیٹکس 100 فیصد کنٹرول کرتی، تو انسان اور "مشین" میں کوئی فرق نہ رہتا۔ اللہ نے انسان کو "امتحان" کے لیے بھیجا ہے۔
ایپی جینیٹکس آپ کو "نیکی کی سیڑھی" کے پاس لا کھڑا کرتی ہے، لیکن "چڑھنا" آپ کو خود پڑتا ہے۔
حضرت نوحؑ کے بیٹے نے اپنے "اختیار" کا استعمال کرتے ہوئے اس "جینیاتی نور" کو مسترد کیا۔
یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ کو ورثے میں اربوں روپے ملیں (اچھے جینز)، لیکن آپ انہیں آگ لگا دیں (غلط اختیار)۔ اس میں باپ کا قصور نہیں، بیٹے کی "بغاوت" کا قصور ہے۔
یہی معاملہ حضرت ابراہیمؑ کا ہے۔ آزر (یا تارخ) کے جینز میں شاید شرک کا زنگ تھا، لیکن حضرت ابراہیمؑ نے اپنی "فطری صلاحیت" (Epigenetic Resilience) اور اللہ کی توفیق سے اس زنگ کو توڑ دیا۔
یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ "ماحول اور جینز" طاقتور ضرور ہیں، لیکن انسان کا "ارادہ" (Willpower) ان سے بھی زیادہ طاقتور ہے اگر وہ اسے استعمال کرے۔
ایپی جینیٹکس "مجبوری" نہیں، "آسانی یا مشکل" کا نام ہے۔ نیک باپ کا بیٹا نیکی کی طرف جلدی مائل ہوگا (آسانی)، لیکن اگر وہ نہ ہونا چاہے تو کوئی زبردستی نہیں۔
پھر ایک جذباتی سوال آیا کہ
"باپ کے گناہوں کا ذمہ دار معصوم بچہ کیوں؟"
اور ایک تکنیکی سوال کہ
"اگر کوئی مرد بانجھ (Azoospermic) ہے یا عورت بانجھ ہے، تو ان کے زنا سے ڈی این اے کیسے خراب ہوگا؟"
پہلے "سزا" کے تصور کو درست کر لیں۔
جب باپ سگریٹ پیتا ہے اور دھواں بچے کے پھیپھڑوں میں جاتا ہے اور بچہ دمہ کا مریض ہو جاتا ہے، تو کیا آپ کہتے ہیں کہ "اللہ نے بچے کو سزا دی"؟
نہیں!
یہ "Cause and Effect" (علت و معلول) کا قانون ہے۔ باپ نے زہر بویا، فصل بچے نے کاٹی۔ یہ "انتقام" نہیں، "نتیجہ" ہے۔
ایپی جینیٹک نقصان کوئی "غیبی لعنت" نہیں ہے، یہ باپ کے اعمال کا "بائیولوجیکل ملبہ" ہے جو اولاد پر گرتا ہے۔
اب آتے ہیں بانجھ افراد کے زنا پر۔ یہ سوال کرنے والے سمجھتے ہیں کہ زنا کا نقصان صرف "بچے" کو ہوتا ہے۔
ارے نادان دوستو!
زنا سب سے پہلے "کرنے والے" (Doer) کو تباہ کرتا ہے۔
بانجھ مرد/عورت: جب یہ زنا کرتے ہیں، تو ان کا اپنا دماغ Dopamine Dysregulation کا شکار ہوتا ہے۔ ان کی نفسیات میں "گلٹ"، "خوف" یا "ہوس" کا زہر گھلتا ہے۔
مرر نیورونز کا کھیل: یہ بانجھ افراد جب کسی بچے کو گود لیں گے، یا معاشرے میں دوسرے بچوں سے ملیں گے، تو ان کا یہ "تباہ شدہ دماغ" اور "منفی رویہ" ان بچوں میں منتقل ہوگا۔
ٹیلومیئرز (Telomeres): زنا سے پیدا ہونے والا "اندرونی دباؤ" (Inner Conflict) ان بانجھ افراد کے اپنے ٹیلومیئرز (عمر کا پیمانہ) چھوٹا کرتا ہے۔ یہ خود جلد بوڑھے ہوں گے، نفسیاتی مریض بنیں گے اور معاشرے پر بوجھ بنیں گے۔ کیا یہ نقصان کافی نہیں ہے؟
زنا صرف "نسل" خراب نہیں کرتا، یہ "فرد" کو بھی کھوکھلا کر دیتا ہے۔
ایک صاحب نے فرمایا کہ
"مشت زنی تو سائنسی طور پر صحت مند عمل ہے، یہ نقصان کیسے دیتی ہے؟"
یہ وہ "منجن" ہے جو مغرب کی انڈسٹری نے اپنی پروڈکٹس بیچنے کے لیے بیچا ہے۔
آئیے ذرا "غیر جانبدار سائنس" سے پوچھتے ہیں۔
جدید تحقیق (Endocrinology) بتاتی ہے کہ مشت زنی کے بعد مرد کے جسم میں Prolactin کی سطح تیزی سے بڑھتی ہے اور Dopamine کریش کر جاتا ہے۔
پرولیکٹن: یہ ہارمون مردوں میں سستی، تھکاوٹ اور جنسی بے رغبتی پیدا کرتا ہے۔ مسلسل مشت زنی کرنے والے مردوں کے دماغ میں Androgen Receptors (جو ٹیسٹوسٹیرون جذب کرتے ہیں) کمزور ہو جاتے ہیں۔ یعنی خون میں ٹیسٹوسٹیرون ہونے کے باوجود جسم اسے استعمال نہیں کر پاتا۔
نتیجہ؟
مردانہ کمزوری، بالوں کا گرنا، اور قوتِ ارادی کا خاتمہ۔
پی او آئی ایس POIS (Post-Orgasmic Illness Syndrome):
ہزاروں نوجوان اس سنڈروم کا شکار ہیں جہاں وہ انزال کے بعد فلو جیسی کیفیت، دماغی دھند (Brain Fog) اور شدید ڈپریشن محسوس کرتے ہیں۔
کیا یہ صحت ہے؟
یہ آپ کی نسلوں پر اس طرح اثر انداز ہوتی ہے کہ آپ "کمزور باپ" بنتے ہیں، اور کمزور باپ کمزور جینز منتقل کرتا ہے۔
یہ اعتراض بہت عام ہے کہ
"مغرب میں تو فری سیکس ہے، وہ تو خوشحال ہیں، اخلاقی طور پر مضبوط ہیں اور سٹریس نہیں لیتے۔"
یہ دور کے ڈھول سہانے ہیں۔
کیا آپ نے کبھی مغرب کا Mental Health Data دیکھا ہے؟
امریکہ: ہر 5 میں سے 1 بالغ شخص کسی نہ کسی دماغی بیماری (Mental Illness) کا شکار ہے۔
ڈپریشن: اینٹی ڈپریسنٹس (Antidepressants) کا استعمال مغرب میں وبا کی طرح ہے۔
تنہائی (Loneliness): برطانیہ نے "منسٹری آف لونلی نیس" بنائی ہے کیونکہ وہاں لوگ تنہائی سے مر رہے ہیں۔
اگر "فری سیکس" اتنا ہی سکون دہ ہوتا، تو وہاں کے لوگ گولیوں کے سہارے کیوں جی رہے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ ان کا خاندانی نظام تباہ ہو چکا ہے۔ Broken Families نے ایسی نسل پیدا کی ہے جو ذہین تو ہے (ٹیکنالوجی میں)، مگر جذباتی طور پر کھوکھلی ہے۔ ان کی "معاشی خوشحالی" ان کی "بائیولوجیکل تباہی" پر پردہ ڈالے ہوئے ہے۔ وہ سٹریس فری نہیں ہیں، وہ "Numb" (بے حس) ہو چکے ہیں، اور بے حسی کو سکون نہیں کہتے۔
لبرل دوستوں کا پسندیدہ وار:
"اسلام میں لونڈی حلال تھی، چار بیویاں حلال ہیں، تو گرل فرینڈ کلچر غلط کیوں؟"
آئیے اس کا تقابلی جائزہ لیتے ہیں۔
لونڈی/چار بیویاں: یہ ایک "Responsibility Structure" (ذمہ داری کا ڈھانچہ) تھا۔ مرد اس عورت کی چھت، کھانے، کپڑے اور سب سے بڑھ کر "بچے کے نسب" کا ذمہ دار تھا۔ اگر لونڈی سے بچہ ہوتا، تو وہ "آزاد" ہوتا اور باپ کا وارث بنتا۔ باپ اسے چھوڑ کر بھاگ نہیں سکتا تھا۔
گرل فرینڈ/ڈیٹنگ کلچر: یہ "Use and Throw" (استعمال کرو اور پھینکو) کا کلچر ہے۔ مرد عورت سے لذت لیتا ہے، لیکن ذمہ داری؟
صفر!
اگر گرل فرینڈ حاملہ ہو جائے، تو پہلا مشورہ "ابارشن" ہوتا ہے یا پھر "بریک اپ"۔
اسلام نے عورت کو "ذمہ داری" کے حصار میں تحفظ دیا، مغرب نے اسے "آزادی" کے نام پر "پبلک پراپرٹی" بنا دیا۔
آپ پوچھتے ہیں کہ ان میں فرق کیا ہے؟
فرق "سیکیورٹی" کا ہے!
جس عورت کو پتا ہو کہ یہ مرد میرا اور میرے بچے کا ذمہ دار ہے، اس کا ڈی این اے "سکون" میں ہوتا ہے۔ اور جس عورت کو ہر لمحہ یہ ڈر ہو کہ یہ بوائے فرینڈ کل چھوڑ جائے گا، اس کا ڈی این اے "Chronic Stress" میں ہوتا ہے۔ اور یہی سٹریس نسلوں کو منتقل ہوتا ہے۔
اب ایک ایسے سائنسی انکشاف کی طرف آتے ہیں جو آپ کے رونگٹے کھڑے کر دے گا۔
ایک اور سائل نے انبکس میں پوچھا کہ "Y-Chromosome" کی معدومیت کیا ہے؟
مرد کا جنسی کروموسوم (Y) سائز میں سکڑ رہا ہے۔ لاکھوں سال پہلے اس پر 1400 جینز تھے، اب صرف 45 رہ گئے ہیں۔ جینیات دان (جیسے پروفیسر جینی گریوز) پیشگوئی کر رہے ہیں کہ مستقبل میں Y کروموسوم ختم ہو سکتا ہے یا مردوں کی تعداد میں شدید کمی آ سکتی ہے۔
اب ذرا 1400 سال پہلے کی حدیث اٹھائیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ... مرد کم ہو جائیں گے اور عورتیں بڑھ جائیں گی، یہاں تک کہ 50 عورتوں کا نگہبان ایک مرد ہوگا۔" (صحیح بخاری)
یہ پیشگوئی آج "بائیولوجیکل حقیقت" بن کر سامنے آ رہی ہے۔ مردانہ کروموسوم کا کمزور ہونا، اسپرم کاؤنٹ کا گرنا، اور ٹیسٹوسٹیرون کی کمی... یہ سب اسی حدیث کی سائنسی تفسیر ہے۔ کیا اب بھی آپ کہیں گے کہ یہ "منجن" ہے؟
ایک صاحب نے کہا کہ
"آپ نے سائنس اور سیوڈو سائنس ملا کر منجن بیچا ہے۔" اور "تھیوری کو لاء بنا دیا۔"
میرے دوست!
جب PNAS, Nature, اور PubMed کی تحقیقات یہ ثابت کر رہی ہیں کہ:
باپ کا سٹریس اسپرم کے RNA کو بدلتا ہے۔
ڈچ ہنگر ونٹر کے اثرات تیسری نسل تک گئے۔
مائیکرو کائیمرازم (مرد کا ڈی این اے عورت کے دماغ میں) ایک حقیقت ہے۔
تو یہ "سیوڈو سائنس" نہیں رہتی، یہ "Hard Science" بن جاتی ہے۔
آپ کا مسئلہ یہ ہے کہ آپ "سائنس" کو صرف وہ مانتے ہیں جو آپ کی "عیاش فکری" کو جواز فراہم کرے۔
جہاں سائنس آپ کے "لائف اسٹائل" پر قدغن لگائے، وہاں آپ اسے "مولوی کا منجن" کہہ دیتے ہیں۔ یہ سائنس کا نہیں، آپ کی "فکری بددیانتی" کا مسئلہ ہے۔
ایک طنزیہ سوال تھا کہ
"کیا دعا ڈی این اے کو تہس نہس کرتی ہے؟"
ہنسیے مت!
کوانٹم بائیولوجی اور Placebo Effect کو پڑھیں۔
الفاظ (Words) اور نیت (Intention) کی انرجی ہوتی ہے۔ جب ماں باپ دل سے دعا دیتے ہیں، تو وہ ایک High Frequency Wave بھیجتے ہیں۔
ڈاکٹر مسارو ایموٹو (Water Memory) اور بروس لپٹن (Biology of Belief) کی تحقیقات اشارہ کرتی ہیں کہ "مثبت جذبات" اور "یقین" خلیات کی کارکردگی کو بہتر کرتے ہیں۔
دعا ڈی این اے کو "توڑتی" نہیں، بلکہ اس کے Expression کو "مرمت" (Heal) کرتی ہے۔
جسے آپ مذاق سمجھ رہے ہیں، وہ کوانٹم فزکس کی دنیا میں ایک "Energy Interaction" ہے۔
آخر میں، یہ اعتراض کہ
"مولوی لونڈے بازی کرتے ہیں اور لبرل جو کرتے ہیں اعلانیہ کرتے ہیں۔"
یہ ایک کلاسک "Tu Quoque" (تم بھی تو یہی کرتے ہو) منطق ہے۔
جناب!
اگر کوئی مولوی گناہ کرتا ہے، تو وہ اسلام کی نظر میں بھی مجرم ہے اور سائنس کی نظر میں بھی۔ اس کا عمل اسلام کی دلیل نہیں ہے۔
لیکن فرق یہ ہے:
ایک شخص گناہ کرتا ہے اور اسے "گناہ" سمجھتا ہے (مولوی/گناہگار مسلمان)۔ اس کے پاس "توبہ" کا دروازہ اور "شرمندگی" کا احساس باقی ہے جو اس کے نیورو سرکٹس کو کسی حد تک ری سیٹ کر سکتا ہے۔ (یا حدود اللہ /ڈنڈے کا نفاظ و استعمال اسکی طبیعت درست کرسکتا ہے جس پر ایک مفصل تحریر عرصہ قبل لکھ چکا)
دوسرا شخص گناہ کرتا ہے اور اسے "کلچر/آرٹ/آزادی" (لبرل) کہتا ہے۔ اس نے توبہ کا دروازہ خود بند کر لیا۔
جو زہر کو زہر مان کر پی رہا ہے، شاید وہ کبھی تریاق ڈھونڈ لے، لیکن جو زہر کو "شربت" کہہ کر پی رہا ہے اور دوسروں کو بھی پلا رہا ہے، اس کی ہلاکت یقینی ہے۔
میرے دوستو!
یہ تحریر کوئی فتویٰ نہیں، یہ ایک آئینہ ہے۔
آپ کے جینز آپ کی تاریخ لکھ رہے ہیں۔
آپ کی خلوت کی گندگی آپ کی نسلوں کے چہروں پر عیاں ہوگی۔
آپ کا "فری سیکس" آپ کے بچوں کو "ذہنی مریض" بنا رہا ہے۔
آپ کے پاس دو راستے ہیں:
یا تو اس جدید سائنس کو بھی "دین و مذہب" کی طرح "بکواس" کہہ کر اپنی لذتوں میں گم ہو جائیں اور اپنی نسلوں کو "حیاتیاتی کوڑے دان" میں پھینک دیں۔
یا پھر فطرت کی آواز سنیں، اپنی تطہیر کریں، توبہ کے ذریعے اپنے ڈی این اے کو "پاک" کریں اور اپنی آنے والی نسلوں کو "خیر" منتقل کریں۔
انتخاب آپ کا ہے، لیکن یاد رکھیے، فطرت معاف نہیں کرتی، وہ صرف بدلہ لیتی ہے۔