From the genes of ignorance to the DNA of the Prophet Muhammad (peace be upon him): The biological and spiritual evolution of the Companions!
جاہلیت کے جینز سے رضی اللہ کے ڈی این اے تک: صحابہ کرامؓ کا حیاتیاتی اور روحانی ارتقاء!
تاریخِ انسانی کے اوراق پلٹیں تو ہمیں بڑی بڑی سلطنتیں بنتی اور بگڑتی نظر آتی ہیں، فلسفیوں کے مکاتبِ فکر عروج و زوال دیکھتے ہیں، اور قومیں صدیوں کے سفر کے بعد تہذیب یافتہ ہوتی ہیں۔
لیکن ساتویں صدی عیسوی کے عرب کے ریگستانوں میں جو کچھ ہوا، وہ انسانی تاریخ، بشریات (Anthropology) اور عمرانیات (Sociology) کے تمام مروجہ اصولوں کو توڑ دیتا ہے۔
ذرا تصور کیجیے اس معاشرے کا جہاں جہالت محض لاعلمی نہیں بلکہ ایک "لائف اسٹائل" تھی، جہاں شرک محض ایک عقیدہ نہیں بلکہ ایک "نفسیاتی بیماری" بن چکا تھا، جہاں بیٹی کو زندہ گاڑ دینا "غیرت" کا معیار تھا، اور جہاں شراب اور جوا ان کی گھٹی میں پڑا تھا۔
سائنس، خاص طور پر ایپی جینیٹکس (Epigenetics) اور ارتقائی نفسیات (Evolutionary Psychology)، ہمیں بتاتی ہے کہ کسی قوم کے اجتماعی رویے (Collective Behavior) اور صدیوں پرانی عادات کو بدلنے کے لیے نسلوں کا وقت درکار ہوتا ہے۔
باپ دادا کی روایات محض رسمیں نہیں ہوتیں، وہ "جینیاتی یادداشت" (Genetic Memory) بن کر خون میں دوڑ رہی ہوتی ہیں۔
لیکن پھر کیا ہوا؟
ایک شخص، محمد عربی ﷺ، کوہِ صفا پر کھڑا ہوا، اور محض 23 سال کے قلیل عرصے میں, جی ہاں، صرف 23 سال میں, اس پوری قوم کا "سافٹ ویئر" (عقائد) اور "ہارڈ ویئر" (جسمانی و دماغی ساخت) ایسا بدلا کہ وہی وحشی لوگ دنیا کے عادل ترین حکمران، پاکیزہ ترین انسان اور روحانیت کے ایسے معراج پر پہنچ گئے کہ خود خالقِ کائنات نے عرش سے سند جاری کر دی:
"رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ" (اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے)۔
آج ہم اس "معجزے" کو سائنس کی جدید ترین شاخوں, نیوروپلاسٹیٹی، نیوٹری جینومکس اور ٹرانس جنریشنل ایپی جینیٹکس, کے خوردبین کے نیچے رکھ کر دیکھیں گے کہ آخر وہ کون سا "کیمیکل اور اسپرچوئل پروسیس" تھا جس نے ان کے وجود کو پگھلا کر نئے سانچے میں ڈھال دیا۔
سب سے پہلے ہمیں اس "زہر" کی تشخیص کرنی ہوگی جو ان کی رگوں میں دوڑ رہا تھا، اور وہ زہر تھا "شرک"۔
جدید لبرل ذہن شاید شرک کو محض "ایک سے زیادہ خداؤں کو ماننا" سمجھتا ہو، لیکن نیورو تھیالوجی (Neurotheology) کی رو سے شرک ایک شدید "ذہنی انتشار" (Cognitive Dissonance) ہے۔
جب انسان ایک مرکز (اللہ) کے بجائے سینکڑوں بتوں، سرداروں، اور توہمات کے سامنے جھکتا ہے، تو اس کا دماغ ایک خوفناک "Multitasking Anxiety" کا شکار ہو جاتا ہے۔
اس کا دماغی پروسیسر (Brain Processor) کنفیوژ رہتا ہے کہ کسے راضی کرے اور کس سے ڈرے؟
لات سے؟
عزیٰ سے؟
یا قبیلے کے سردار سے؟
یہ ذہنی کشمکش جسم میں مستقل طور پر Cortisol (اسٹریس ہارمون) کی سطح کو بلند رکھتی ہے، جو انسان کی "قوتِ فیصلہ" (Prefrontal Cortex) کو مفلوج اور "جذبات" (Amygdala) کو بے قابو کر دیتی ہے۔
اسی لیے وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر تلواریں نکال لیتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں مشرک کی اس نفسیاتی حالت کا ایسا نقشہ کھینچا ہے کہ جدید سائنس دنگ رہ جاتی ہے۔
سورہ الزمر (آیت 29) میں فرمایا:
"ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا رَجُلًا فِيهِ شُرَكَاءُ مُتَشَاكِسُونَ وَرَجُلًا سَلَمًا لِرَجُلٍ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلًا"
(اللہ ایک مثال بیان کرتا ہے: ایک شخص ہے جس کے کئی مالک ہیں جو آپس میں جھگڑتے ہیں (بدخلق ہیں)، اور ایک دوسرا شخص ہے جو پورا کا پورا ایک ہی مالک کا ہے۔ کیا ان دونوں کی حالت برابر ہو سکتی ہے؟)
یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے ماہر نیورو ریڈیولوجسٹ ڈاکٹر اینڈریو نیوبرگ (Dr. Andrew Newberg) نے اپنی معرکہ آرا تحقیق اور کتاب "How God Changes Your Brain" میں ثابت کیا کہ جب انسان ایک "واحد اور مطلق ہستی" (Oneness) پر فوکس کرتا ہے، تو اس کا دماغ Unified (یکجا) ہو جاتا ہے۔
اس کے دماغ کے وہ حصے جو غصے اور خوف کو کنٹرول کرتے ہیں، پرسکون ہو جاتے ہیں، اور وہ حصے جو رحم دلی اور حکمت پیدا کرتے ہیں، وہ ایکٹیویٹ ہو جاتے ہیں۔
جب صحابہ کرامؓ نے "لا الہ الا اللہ" کا اقرار کیا، تو انہوں نے دراصل اپنے دماغوں سے ہزاروں "ورچوئل خداؤں" کو ڈیلیٹ کر کے اپنے نیورل سرکٹس کو ایک "سینٹرل پوائنٹ" پر الائن (Align) کر لیا۔ یہ ان کی "ذہنی طہارت" کا پہلا قدم تھا۔
لیکن تبدیلی صرف دماغ تک محدود نہیں رہ سکتی تھی، اسے جسم کے خلیات (Cells) تک پہنچنا ضروری تھا، اور یہاں اسلام نے ان کے "کھانے پینے" اور "لائف اسٹائل" کو ٹارگٹ کیا۔
عرب شراب کے رسیا تھے، مردار کھاتے تھے اور خون پیتے تھے۔
جدید سائنس کی شاخ Nutrigenomics (غذا اور جینز کا تعلق) بتاتی ہے کہ ہم جو کچھ کھاتے ہیں، وہ ہمارے جینز کے "ایکسپریشن" کو کنٹرول کرتا ہے۔
شراب (Alcohol) دماغ کے خلیات کو مارتی ہے اور انسان کو جانور بنا دیتی ہے۔ اسلام نے شراب کو بتدریج حرام کیا اور اسے "رِجْسٌ" (گندگی) قرار دیا۔
جب صحابہؓ نے شراب چھوڑی اور "حلال و طیب" غذا (کھجور، دودھ، گوشت ذبیحہ) اختیار کی، تو ان کے جسم میں ایک Biological Detox کا عمل شروع ہوا۔
جدید تحقیق "Gut-Brain Axis" بتاتی ہے کہ ہمارے پیٹ کے جراثیم (Microbiome) ہمارے موڈ اور رویے کو کنٹرول کرتے ہیں۔ حرام اور گندی غذا "جارحانہ بیکٹیریا" پیدا کرتی ہے۔
جب صحابہؓ کا پیٹ پاک ہوا، تو ان کا دماغی کیمیکل بیلنس (Serotonin/Dopamine) بحال ہوا، جس سے ان کے مزاج میں وہ نرمی اور ٹھہراؤ آیا جو پہلے ناممکن تھا۔
انہوں نے اپنی Free Will (آزاد مرضی) کا بہترین استعمال کیا۔شراب کا جام ہونٹوں تک آ چکا ہوتا، لیکن جیسے ہی حکم آتا کہ حرام ہے، وہ اسے بہا دیتے۔ یہ "قوتِ ارادی" ان کے دماغ کے Frontal Lobe کو مضبوط کر رہی تھی، جو کہ جینز کی ری-وائرنگ کے لیے ضروری ہے۔
پھر آتا ہے ان کے "رہن سہن" اور "سماجی عادات" کا مرحلہ۔
جاہلیت کا معاشرہ "تکبر" اور "انا" پر کھڑا تھا۔ اسلام نے اسے "عاجزی" اور "اخوت" سے بدل دیا۔
نیورو سائنس میں "Mirror Neurons" کی دریافت نے ثابت کیا ہے کہ انسان دوسروں کو دیکھ کر سیکھتا اور بدلتا ہے۔
صحابہ کرامؓ کے سامنے کائنات کا بہترین رول ماڈل حضرت محمد ﷺ موجود تھے۔
جب وہ دیکھتے کہ نبی کریم ﷺ اپنے جانی دشمن کو معاف کر رہے ہیں، غلام کو اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلا رہے ہیں، اور مسکرا کر سلام کر رہے ہیں، تو ان کے دماغ کے مرر نیورونز اس "الہٰی رویے" کو کاپی کر رہے تھے۔
اسلام نے حکم دیا:
"أَفْشُوا السَّلَامَ" (سلام کو عام کرو)۔
سائنس بتاتی ہے کہ جب دو لوگ ہاتھ ملاتے ہیں یا مسکرا کر ملتے ہیں، تو جسم میں Oxytocin (محبت کا ہارمون) خارج ہوتا ہے۔ یہ ہارمون "بھروسہ" (Trust) پیدا کرتا ہے اور "خوف" (Fear) کو مارتا ہے۔
انصار اور مہاجرین کا بھائی چارہ کوئی جذباتی ڈرامہ نہیں تھا، یہ ایک "سوشل بائیولوجیکل بانڈنگ" تھی جس نے ان کے جینز میں موجود صدیوں پرانی "قبائلی نفرت" کے کوڈز کو Overwrite کر دیا تھا۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ تبدیلی اتنی گہری اور پائیدار کیسے ہوئی کہ اگلی نسلوں تک منتقل ہو گئی؟
یہاں "جہاد"، "مشقت" اور "عبادات" کا کردار آتا ہے۔
لبرل طبقہ جہاد کو صرف "لڑائی" سمجھتا ہے، لیکن ایپی جینیٹکس کی رو سے یہ "Hormesis" کا عمل تھا۔
ہورمیسس Hormesis کا مطلب ہے کہ جسم کو "کنٹرولڈ اسٹریس" (مشقت، بھوک، خطرہ) سے گزارنا تاکہ وہ مضبوط ہو سکے۔
صحابہ کرامؓ کو مکہ میں بھوک (شعب ابی طالب) اور مدینہ میں جنگوں (بدر، احد) کی بھٹی سے گزارا گیا۔
یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا کی تحقیق (Tedeschi & Calhoun, 1996) نے ایک اصطلاح متعارف کروائی: "Post-Traumatic Growth" (PTG)۔ یعنی شدید صدمات اور مشکلات کے بعد انسان ٹوٹنے کے بجائے نفسیاتی اور روحانی طور پر کہیں زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے۔
جب صحابہؓ اللہ کے لیے بھوکے رہے، جاگے، اور جان کی بازی لگائی، تو ان کے جسم نے پرانے "آرام طلب اور کمزور جینز" کو Switch Off کر دیا اور نئے "مجاہدانہ، ایثار پسند اور ذہین جینز" کو Switch On کر دیا۔
ان کی اگلی نسلوں میں جو بلا کی ذہانت، بہادری اور فتوحات نظر آئیں، وہ اسی "Epigenetic Upgrade" کا نتیجہ تھیں جو انہیں اپنے والدین کی مشقت سے ورثے میں ملی تھیں۔
اور اس تبدیلی کو "لاک" (Lock) کرنے کے لیے "عبادات" کا نظام دیا گیا۔
نماز: یہ محض ورزش نہیں تھی۔ سجدہ دماغ کے Prefrontal Cortex میں خون کا بہاؤ بڑھاتا ہے، جو انسان کو "عاجز" بناتا ہے اور "انا" کو توڑتا ہے۔ دن میں پانچ بار کی یہ مشق ان کے دماغی راستوں (Neural Pathways) کو توحید پر پکا کرتی تھی۔
روزہ: 2016 میں نوبل انعام جیتنے والی تحقیق Autophagy بتاتی ہے کہ بھوک خلیات کی صفائی کرتی ہے۔ روزے نے صحابہؓ کے جسموں سے زہریلے مادوں (Toxins) کو نکالا اور ان کی روح کو لطیف کیا۔
زکوٰۃ: یہ مال کی محبت (جو کہ دماغی لت ہے) کو توڑنے کا نام ہے۔یہ وہ "ہولیسٹک سسٹم" (Holistic System) تھا جس نے عرب کے بدوؤں کو تبدیل کیا۔ انہوں نے اپنے آباء و اجداد کے طریقوں کو محض جذباتی طور پر نہیں چھوڑا، بلکہ انہوں نے اپنی "فری ول" کا استعمال کرتے ہوئے اپنے آپ کو ایک ایسے "تربیتی کورس" میں ڈال دیا جس نے ان کے خمیر کو بدل دیا۔
اللہ کا یہ فرمانا کہ
"رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ" (اللہ ان سے راضی ہو گیا)،
بائیولوجیکل زبان میں اس بات کا اعلان ہے کہ یہ لوگ اب "فطرت کے قانون" (Natural Law) کے ساتھ مکمل طور پر Align ہو چکے ہیں۔ ان کا سونا، جاگنا، کھانا، پینا اور مرنا اب اپنی خواہش کے تحت نہیں، بلکہ کائناتی منشاء کے تحت تھا۔
ایپی جینیٹکس کا قانون "Transgenerational Inheritance" کہتا ہے کہ والدین جو کماتے ہیں (جسمانی و روحانی طور پر)، وہ اولاد میں منتقل ہوتا ہے۔ قرآن نے اس کی تصدیق سورہ الطور (آیت 21) میں کی:
"وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ"
(اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان میں ان کی پیروی کی، تو ہم ان کی اولاد کو ان کے ساتھ ملا دیں گے۔)
یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہؓ کا ایمان صرف ان کے دلوں تک محدود نہیں تھا، بلکہ ان کے "جرثوموں" (Germline) میں اتر چکا تھا، اور یہی وہ پاکیزہ وراثت تھی جس نے آنے والی صدیوں میں دنیا کو علم، تہذیب اور انصاف کا نور بخشا۔
پس ثابت ہوا کہ اسلام کوئی "رسمی مذہب" نہیں، بلکہ یہ انسانی ارتقاء کا وہ حتمی ضابطہ ہے جو انسان کو جانوروں کی سطح سے اٹھا کر فرشتوں سے افضل بنا دیتا ہے۔
شرط صرف یہ ہے کہ انسان اپنی "فری ول" کو استعمال کرتے ہوئے اس بھٹی میں کودنے کی جرات کرے، جیسا کہ صحابہؓ نے کی تھی۔