From the silence of eternity to the noise of eternity: The final battle of God, Satan, man, and the Antichrist! ازل کی خاموشی سے ابد کے شور تک: خدا، ابلیس، انسان اور دجال کا آخری معرکہ!

From the silence of eternity to the noise of eternity: The final battle of God, Satan, man, and the Antichrist!

ازل کی خاموشی سے ابد کے شور تک: خدا، ابلیس، انسان اور دجال کا آخری معرکہ! 

کائنات، اپنے وجود میں آنے سے قبل، ایک ایسی پراسرار اور ہیبت ناک خاموشی کا نام تھی جسے انسانی عقل ’عدم‘ کہتی ہے مگر اہلِ بصیرت اسے ’رازِ کن فیکون‘ کی دہلیز سمجھتے ہیں۔ 

تصور کریں اس لمحے کا جب وقت (Time) کی سوئی ابھی ٹک ٹک کرنے کے لیے پیدا نہیں ہوئی تھی، جب مکان (Space) کی وسعتیں ابھی لپٹی ہوئی تھیں، اور جب مادہ (Matter) ابھی ’انرجی‘ کے سمندر میں تحلیل تھا۔ 

اس وقت صرف ایک ذات تھی, الحی القیوم۔ 

وہ ذات جو کسی تعریف کی محتاج نہیں، جو کسی وجود کی محتاج نہیں، وہ ’واجب الوجود‘ ہستی جسے ہم اللہ کہتے ہیں۔ یہ توحید کی وہ بنیاد ہے جہاں آ کر ریاضی کے سارے فارمولے فیل ہو جاتے ہیں، جہاں کوانٹم فزکس کی ’سنگولیریٹی‘ (Singularity) بھی سجدے میں گر جاتی ہے، کیونکہ سائنس کہتی ہے کہ کائنات ’بگ بینگ‘ سے بنی، مگر بگ بینگ کس نے کیا؟ 

وہ ’سبب الاسباب‘ کون تھا؟

یہ وہ نقطہ ہے جہاں سے ہماری داستان شروع ہوتی ہے۔ 

اللہ نے چاہا کہ وہ پہچانا جائے، اس نے محبت کی تجلی ڈالی اور کائنات کا یہ رنگ و بو کا کارخانہ وجود میں آ گیا۔ 

لیکن اس کارخانے میں ایک ڈرامہ رچایا جانا تھا، ایک ایسا امتحان جس کے لیے دو متضاد قوتوں کی تخلیق ضروری تھی۔ 

ایک طرف ’نور‘ کی مخلوق (ملائکہ) جو صرف اطاعت جانتی تھی، اور دوسری طرف ’نار‘ (آگ) کی مخلوق (جن) جسے اختیار کی چنگاری دی گئی تھی۔ 

اور پھر، ان دونوں کے درمیان، مٹی کے گارے سے ایک ایسا پتلا تراشا گیا جسے ’انسان‘ کہا گیا, ایک ایسی مخلوق جس کے اندر خدا نے اپنی ’روح‘ پھونکی اور اسے کائنات کا مرکزی کردار (Protagonist) بنا دیا۔

یہی وہ مقام تھا جہاں کائنات کا پہلا اور سب سے بڑا ’حسد‘ پیدا ہوا۔ 

ابلیس، جو جنات میں سے تھا مگر اپنی عبادت اور علم کی بدولت فرشتوں کا استاد بن بیٹھا تھا، اس کے اندر کا ’تکبر‘ اس وقت جاگ اٹھا جب اس نے مٹی کے پتلے (آدمؑ) کو دیکھا۔ ابلیس کا مسئلہ یہ نہیں تھا کہ وہ خدا کو نہیں مانتا تھا؛ وہ تو خدا کو ہم سے بہتر جانتا تھا، اس نے خدا سے بات کی تھی، اس نے خدا کی طاقت دیکھی تھی۔ اس کا مسئلہ ’انکارِ خدا‘ نہیں تھا، اس کا مسئلہ ’انکارِ حکمتِ خدا‘ تھا۔ 

یہ ایک بہت باریک نقطہ ہے جسے آج کا لبرل اور ملحد نہیں سمجھتا۔ 

ابلیس پہلا ’رریشنلسٹ‘ (Rationalist) تھا، پہلا ’عقل پرست‘ تھا۔ 

اس نے قیاس کیا، اس نے مادہ (Matter) کا موازنہ کیا۔ اس نے کہا: 

"میں آگ ہوں، یہ مٹی ہے۔ آگ اوپر جاتی ہے، مٹی نیچے رہتی ہے۔ میں برتر ہوں، میں سجدہ کیوں کروں؟" 

یہ منطق بظاہر درست لگتی تھی، مگر یہ ’روحانی اندھے پن‘ کی دلیل تھی۔ 

ابلیس نے آدمؑ کا ’ہارڈ ویئر‘ (مٹی کا جسم) دیکھا، مگر اس کے اندر انسٹال ہونے والا ’سافٹ ویئر‘ (روحِ الٰہی اور علم الاسماء) نہیں دیکھ سکا۔ 

یہیں سے کائنات کی سب سے بڑی جنگ کا آغاز ہوا۔ 

اللہ نے اسے راندہ درگاہ کیا، اور اس نے مہلت مانگی۔ مہلت کس چیز کی؟ 

کیا اس نے توبہ کی مہلت مانگی؟ 

نہیں! 

اس نے کہا: 

"مجھے قیامت تک وقت دے تاکہ میں ثابت کر سکوں کہ یہ مٹی کا پتلا، یہ اشرف المخلوقات، دراصل ایک ناشکرا، جلد باز، اور ہوس پرست جانور ہے۔ میں اسے تیرے راستے سے ہٹا دوں گا، میں اس کے آگے، پیچھے، دائیں، بائیں سے آؤں گا۔" 

یہ چیلنج اللہ کی خدائی کے خلاف نہیں تھا، یہ انسان کی ’خلافت‘ کے خلاف تھا۔ اور اللہ نے، اپنی بے پایاں حکمت اور قدرت کے ساتھ، اس چیلنج کو قبول کیا۔ 

کیوں؟ 

تاکہ کھرے اور کھوٹے الگ ہو جائیں۔ تاکہ وہ انسان جو اپنی مرضی اور اختیار سے، شیطان کے بہکاوے کے باوجود، اپنے رب کو پہچانے، اس کا مقام فرشتوں سے بھی بلند ہو جائے۔

پھر آدمؑ اور حواؑ کو جنت میں بسایا گیا۔ 

یہاں شیطان نے اپنا پہلا حملہ کیا، اور یہ حملہ ’جسمانی‘ نہیں تھا، یہ ’نفسیاتی‘ (Psychological) تھا۔ 

اس نے آدمؑ کو یہ نہیں کہا کہ 

"اللہ کی نافرمانی کرو"، 

اس نے کہا: 

"کیا میں تمہیں وہ درخت نہ بتاؤں جو تمہیں ’ہمیشگی کی بادشاہت‘ (ملک لا یبلیٰ) اور ’ابدی زندگی‘ دے گا؟" 

غور کیجئے! 

انسان کی سب سے بڑی کمزوری کیا ہے؟

موت کا خوف اور اقتدار کی ہوس۔ 

شیطان نے آدمؑ کے لاشعور میں چھپی ہوئی ’خلود‘ (Immortality) کی خواہش کو چھیڑا۔ 

اس نے انہیں یقین دلایا کہ یہ پابندی (درخت کے قریب نہ جانا) دراصل ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے، اگر وہ یہ پھل کھا لیں گے تو وہ ’فرشتے‘ بن جائیں گے یا ہمیشہ رہنے والے ہو جائیں گے۔ یہ وہی دھوکہ ہے جو آج تک جاری ہے۔ 

آج کا انسان بھی ’سائنس اور ٹیکنالوجی‘ کے ذریعے موت کو شکست دینے اور خدا بننے (Homo Deus) کے چکر میں ہے۔ 

آدمؑ سے خطا ہوئی، لباس اتر گئے، اور انہیں زمین پر ’اتار‘ (Ahbitu) دیا گیا۔ 

یہ سزا نہیں تھی، یہ اس ’امتحان گاہ‘ کی طرف ہجرت تھی جس کے لیے انہیں بنایا ہی گیا تھا۔ 

زمین پر ہابیل اور قابیل کا واقعہ پیش آیا، اور یہیں سے انسانیت دو گروہوں میں بٹ گئی: 

حزب اللہ (اللہ کا گروہ) اور حزب الشیطان (شیطان کا گروہ)۔ 

قابیل کا حسد، ابلیس کے حسد کا زمینی عکس تھا۔ اس نے اپنے بھائی کو قتل کیا اور زمین کو پہلے انسانی خون سے رنگ دیا۔ 

یہ خونریزی، یہ فساد، یہ جنگیں، یہ سب اسی ابلیسک ایجنڈے کا تسلسل ہیں جو چاہتا ہے کہ انسان اپنی انسانیت کھو دے اور درندہ بن جائے۔

تاریخ کا پہیہ گھومتا رہا۔ انبیاء آتے رہے، شیطان کے جال توڑتے رہے۔ 

نوحؑ کے دور میں اس نے قوم کو بت پرستی میں لگایا، لیکن طریقہ کیا تھا؟ اس نے نیک لوگوں کی مورتیوں کو ’وسیلہ‘ بنا کر شرک کا آغاز کروایا۔ وہ ہمیشہ ’نیکی‘ کے بھیس میں آتا ہے۔ 

نمرود اور فرعون کے دور میں اس نے انسان کو ’خدائی‘ کا دعویٰ کرنا سکھایا۔ فرعون نے کہا "انا ربکم الاعلیٰ" (میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں)۔ 

یہ ابلیس کا ماسٹر سٹروک تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ انسان اللہ کو بھول کر انسان کی پوجا کرے۔ فرعونیت صرف ایک بادشاہت نہیں تھی، یہ ایک ’سسٹم‘ تھا جو جادو، خوف، اور غلامی پر مبنی تھا۔ 

موسیٰؑ کا عصا جب جادوگروں کے سانپوں کو نگل گیا، تو یہ دراصل ’حقیقت‘ کی فتح تھی ’الیوژن‘ (Illusion) پر۔ لیکن شیطان باز نہیں آیا۔ بنی اسرائیل، جو اس وقت کی مسلم امت تھی، اس نے انہیں بار بار توحید سے ہٹا کر بچھڑے کی پوجا، مادہ پرستی، اور تحریفِ کتب میں لگایا۔ 

وہ انہیں یہ باور کرانے میں کامیاب ہو گیا کہ وہ ’خدا کے چہیتے‘ ہیں اور جہنم کی آگ انہیں نہیں چھوئے گی، چاہے وہ جو مرضی گناہ کریں۔ 

یہ ’مذہبی تکبر‘ (Religious Arrogance) شیطان کا ایک اور مہلک ہتھیار ہے۔

اور اب... اب ہم تاریخ کے اس موڑ پر کھڑے ہیں جہاں ابلیس اپنی آخری اور سب سے بڑی چال چلنے جا رہا ہے۔ 

یہ وہ دور ہے جس کی پیشگوئی تمام انبیاء نے کی، اور جس سے میرے اور آپ کے نبی حضرت محمدﷺ نے پناہ مانگی۔ 

یہ ’فتنہ دجال‘ کا دور ہے۔ 

دجال کون ہے؟ 

کیا وہ صرف ایک آنکھ والا دیو قامت شخص ہے؟ 

نہیں! 

دجال ایک شخص بھی ہے اور ایک ’نظام‘ (System) بھی۔ 

یہ وہ نظام ہے جو ابلیس نے ہزاروں سال کی محنت سے تعمیر کیا ہے۔ 

دجال کا مطلب ہے "بہت بڑا دھوکے باز"، "حق کو باطل سے چھپانے والا"۔ آج کا عالمی نظام، جسے ہم ’نیو ورلڈ آرڈر‘ کہتے ہیں، یہ دراصل دجالی نظام ہے۔ 

ذرا غور کریں دجال کی نشانیوں پر: 

اس کے پاس روٹی کا پہاڑ ہوگا (گلوبل اکانومی کا کنٹرول)، 

وہ بادلوں کو حکم دے گا تو بارش ہوگی (HAARP ٹیکنالوجی اور ویدر موڈیفیکیشن)، 

وہ زمین کے خزانے نکال لے گا، وہ مردے کو زندہ کرنے کا ڈرامہ کرے گا (بائیو ٹیکنالوجی اور AI)، 

وہ ایک دن میں دنیا کا چکر لگائے گا (سپر سونک ٹریول اور انٹرنیٹ)۔ 

آج کی سائنس، آج کی معیشت، آج کا میڈیا... 

یہ سب دجال کے آنے کا راستہ ہموار کر رہے ہیں۔

دجال کا سب سے بڑا فتنہ کیا ہوگا؟ 

وہ انسان کو ’خدا سے بے نیاز‘ کر دے گا۔ 

آج کا انسان کیا سوچ رہا ہے؟ 

وہ سمجھتا ہے کہ سائنس ہر مسئلے کا حل ہے۔ 

بیماری ہے تو ویکسین ہے، 

بھوک ہے تو جی ایم او (GMO) فوڈ ہے، 

اداسی ہے تو میٹاورس (Metaverse) ہے۔ 

انسان سمجھ رہا ہے کہ اسے اب خدا کی ضرورت نہیں رہی۔ 

یہ ’الحاد‘ (Atheism) اور ’مادہ پرستی‘ (Materialism) دجال کا قالین ہے۔

دجال جب ظاہر ہوگا تو وہ کہے گا: 

"میں تمہارا رب ہوں، دیکھو میں تمہیں رزق دیتا ہوں، میں تمہیں زندگی دیتا ہوں۔" 

اور وہ لوگ، جن کی نظر صرف ’مادی‘ (Material) ہوگی، جن کی ’باطنی آنکھ‘ اندھی ہوگی، وہ اس کی ایک آنکھ (مادی ترقی) کو دیکھ کر اسے خدا مان لیں گے۔ 

لیکن جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا، جس نے اللہ کی توحید کو پہچانا ہوگا، وہ اس کے ماتھے پر لکھے ہوئے ’ک ف ر‘ (کافر) کو پڑھ لے گا۔ 

یہ پڑھائی کسی سکول کی نہیں ہوگی، یہ ’نورِ بصیرت‘ کی ہوگی۔

شیطان کا سب سے بڑا شاہکار آج کا ’سودی بینکاری نظام‘ (Riba-based Banking System) ہے۔ 

اللہ اور اس کے رسولﷺ نے سود کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔ 

کیوں؟ 

کیونکہ سود انسان کو غلام بناتا ہے، یہ دولت کو چند ہاتھوں میں سمٹ لیتا ہے، یہ غریب کا خون چوس کر امیر کی تجوریاں بھرتا ہے۔ 

آج پوری دنیا، مسلم اور غیر مسلم، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے شکنجے میں ہے۔ 

یہ دجالی معیشت ہے۔ 

یہ وہ نظام ہے جس نے انسان کو ’رزق‘ کے خوف میں مبتلا کر کے اسے خدا سے دور کر دیا ہے۔ 

آج کا مسلمان صبح سے شام تک صرف ’بقا‘ (Survival) کی جنگ لڑ رہا ہے، اسے یاد ہی نہیں کہ اسے ’عبادت‘ کے لیے پیدا کیا گیا تھا۔ 

شیطان نے اسے کھلونوں (موبائل، سوشل میڈیا، لگژری) میں اتنا مشغول کر دیا ہے کہ اسے اپنی روح کی چیخیں سنائی نہیں دیتیں۔

اور پھر، اس ڈرامے کا آخری ایکٹ (Final Act) شروع ہوگا۔ 

جب دجال اپنی طاقت کے عروج پر ہوگا، جب دنیا بھر سے ایمان والے چن چن کر ستائے جا رہے ہوں گے، جب بظاہر باطل کی فتح مکمل نظر آئے گی... تب اللہ اپنی حجت تمام کرے گا۔ 

وہ زمین سے کسی سپر مین کو نہیں بھیجے گا، بلکہ وہ آسمان سے اسی ہستی کو اتارے گا جسے عیسائیوں نے خدا کا بیٹا بنا لیا اور یہودیوں نے رد کر دیا۔ 

حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام۔ 

ان کا نزول کیوں؟ 

کیونکہ دجال ’مسیح‘ ہونے کا دعویٰ کرے گا، تو اصل ’مسیح‘ ہی آ کر اس جھوٹے کا پول کھولے گا۔ 

عیسیٰؑ سائنس یا ٹیکنالوجی سے نہیں لڑیں گے، وہ ’روحانی طاقت‘ (Spiritual Power) سے لڑیں گے۔ ان کی سانس جہاں تک جائے گی، کافر (دجال کے پیروکار) زندہ نہیں رہ سکے گا۔ 

وہ دجال کو ’لد‘ کے مقام پر قتل کریں گے۔ 

یہ ٹکراؤ ’مادہ پرستی‘ اور ’روحانیت‘ کا حتمی ٹکراؤ ہوگا۔ 

دجال کے پاس ٹیکنالوجی کی انتہا ہوگی، عیسیٰؑ کے پاس ’کن فیکون‘ کے رب کی تائید ہوگی۔ اور جیت ہمیشہ ’خالق‘ کی ہوتی ہے، مخلوق کی نہیں۔

اس کے بعد کیا ہوگا؟ 

ایک ایسا دور آئے گا جب زمین انصاف سے بھر جائے گی، جیسے وہ ظلم سے بھری ہوئی تھی۔ 

شیر اور بکری ایک گھاٹ پانی پئیں گے۔ 

مال اتنا ہوگا کہ کوئی لینے والا نہیں ہوگا۔ 

یہ وہ وقت ہوگا جب انسان کو سمجھ آئے گی کہ اصل زندگی ’دنیا‘ کی نہیں، بلکہ ’آخرت‘ کی تیاری تھی۔ 

لیکن یہ دور بھی ختم ہوگا، اور پھر ایک دن صور پھونکا جائے گا۔ 

کائنات کی ہر چیز، ہر ایٹم، ہر کہکشاں، ہر فرشتہ، ہر جن اور ہر انسان فنا ہو جائے گا۔ 

سب کچھ واپس اسی ’عدم‘ میں چلا جائے گا جہاں سے شروع ہوا تھا۔ 

صرف ایک ذات باقی رہے گی۔ اور اس دن اللہ پوچھے گا: 

"لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ؟" (آج بادشاہت کس کی ہے؟)۔

پوری کائنات میں سناٹا ہوگا، کوئی جواب دینے والا نہیں ہوگا۔ پھر اللہ خود جواب دے گا: 

"لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ" (صرف اللہ کے لیے، جو اکیلا ہے اور سب پر غالب ہے)۔

میرے دوستو! 

یہ داستان کوئی افسانہ نہیں، یہ آپ کی اور میری کہانی ہے۔ ہم اس وقت اس داستان کے آخری صفحات میں جی رہے ہیں۔ شیطان اپنا آخری وار کر رہا ہے۔ 

وہ ہمیں ’مایوسی‘، ’فحاشی‘، ’الحاد‘ اور ’سود‘ کے ذریعے توڑ رہا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم یہ بھول جائیں کہ ہم ’خلیفہ‘ ہیں۔ 

وہ چاہتا ہے کہ ہم خود کو صرف ایک ’معاشی حیوان‘ سمجھیں۔ لیکن ہمیں یاد رکھنا ہے کہ ہمارے اندر وہ ’روح‘ ہے جس کے آگے فرشتوں نے سجدہ کیا تھا۔ 

ہمارے پاس ’قرآن‘ ہے جو دجال کے فتنے سے بچنے کا نسخہ (سورہ کہف) بتاتا ہے۔ 

ہمارے پاس ’محمد عربیﷺ‘ کی سنت ہے جو ہمیں اندھیروں میں راستہ دکھاتی ہے۔ 

جنگ جاری ہے، اور یہ جنگ باہر کے میدانوں میں نہیں، ہمارے دلوں اور ذہنوں میں لڑی جا رہی ہے۔ 

فیصلہ آپ کو کرنا ہے: کیا آپ ابلیس کے ’پرومس‘ (جھوٹے وعدوں) پر یقین کریں گے، یا اپنے رب کے ’وعدے‘ پر؟

From the silence of eternity to the noise of eternity: The final battle of God, Satan, man, and the Antichrist! ازل کی خاموشی سے ابد کے شور تک: خدا، ابلیس، انسان اور دجال کا آخری معرکہ!
From the silence of eternity to the noise of eternity: The final battle of God, Satan, man, and the Antichrist! ازل کی خاموشی سے ابد کے شور تک: خدا، ابلیس، انسان اور دجال کا آخری معرکہ!

Post a Comment

Previous Post Next Post