"Heavenly Exile or Terrestrial Evolution? The Ultimate Scientific and Religious Case for the Origin, Survival, and End of the Human Race"
"آسمانی جلاوطن یا زمینی ارتقاء؟ نسلِ انسانی کے آغاز، بقا اور انجام کا حتمی سائنسی و مذہبی مقدمہ"
آج کے اس پرشور ڈیجیٹل دور میں، جہاں نیم خواندہ ذہن سوشل میڈیا کے کمنٹس سیکشن میں بیٹھ کر کائنات کے سربستہ رازوں پر فیصلے صادر کر رہے ہیں، وہاں سنجیدہ علمی مکالمے کی شمع جلانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔
پچھلے چند دنوں سے میرے مضامین پر ایک طوفانِ بدتمیزی بھی بپا ہے اور ساتھ ہی کچھ نہایت سنجیدہ اور قیمتی علمی سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔
کچھ دوستوں کا ماننا ہے کہ سائنس اور مذہب دو الگ الگ جزیرے ہیں جن کا آپس میں کوئی رابطہ نہیں، جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ انسانیت کی ابتدا کے بارے میں ہمارے پاس جو روایتی مذہبی بیانیے ہیں، وہ جدید سائنسی جینیات (Genetics) سے متصادم ہیں۔
آج میں ان تمام ٹکڑوں کو جوڑ کر ایک مکمل تصویر پیش کرنے جا رہا ہوں، تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔
یہ تحریر ان دوستوں کے لیے ہے جو "تقلید" کے بجائے "تحقیق" پر یقین رکھتے ہیں اور جو سوال کرنے سے نہیں گھبراتے۔
سب سے پہلے اس بنیادی غلط فہمی کا ازالہ ضروری ہے جو ہمارے بہت سے "جدیدیت پسند" دوستوں کے ذہنوں میں ناسور کی طرح پل رہی ہے کہ
"سائنس شک کی بنیاد پر ہے اور مذہب یقین کی بنیاد پر، لہٰذا ان کا جوڑ ممکن نہیں۔"
یہ سوچ دراصل اسلامی فکر کی نہیں بلکہ قرونِ وسطیٰ کے یورپ کی پیداوار ہے جہاں چرچ اور سائنسدان دست و گریبان تھے۔اسلام کا مقدمہ اس سے بالکل مختلف ہے۔
قرآنِ کریم میں 700 سے زائد مقامات پر کائنات میں غور و فکر، تدبر اور تعقل کی دعوت دی گئی ہے۔
اگر مذہب صرف آنکھیں بند کر کے مان لینے کا نام ہوتا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کبھی ستاروں، چاند اور سورج کے طلوع و غروب کا "سائنسی مشاہدہ" کر کے رب کی وحدانیت تک نہ پہنچتے (القرآن، سورۃ الانعام: 76-79)۔
حقیقت یہ ہے کہ سائنس "خدا کا کام" (Work of God) ہے اور مذہب "خدا کا کلام" (Word of God) ہے۔
یہ ناممکن ہے کہ ایک ہی مصنف کی کتاب (قرآن) اور اس کی تخلیق (کائنات) میں تضاد ہو۔
اگر ہمیں کہیں تضاد نظر آتا ہے تو وہ دراصل ہماری سمجھ کا پھیر ہے، حقیقت کا نہیں۔
لہٰذا، جب ہم ڈاکٹر ایلس سلور (Dr. Ellis Silver, Humans are not from Earth, 2013) کی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہیں کہ انسانی جسم کا "کمر درد" اور "دھوپ سے جلنا" اس بات کی دلیل ہے کہ ہم زمین کے ماحول میں مکمل "فٹ" نہیں ہیں، تو ہم ارتقاء کا انکار نہیں کر رہے ہوتے بلکہ ارتقائی حیاتیات کے ان "خلاؤں" (Gaps) کی نشاندہی کر رہے ہوتے ہیں جو مادی توجیہات سے پُر نہیں ہو پا رہے۔
اب آتے ہیں اس انتہائی نازک اور چبھتے ہوئے سوال کی طرف جو اکثر نوجوانوں کے ذہنوں میں کلبلاتا ہے مگر وہ شرم کے مارے پوچھ نہیں پاتے۔
سوال یہ ہے کہ اگر آغاز میں صرف حضرت آدمؑ اور اماں حواؑ تھے، تو نسلِ انسانی آگے کیسے بڑھی؟
کیا نعوذ باللہ بہن بھائیوں میں نکاح ہوا؟
اور اگر ہوا تو یہ طبی اور اخلاقی طور پر کیسے ممکن تھا؟
اس کا جواب دینے کے لیے ہمیں "ارتقاء شریعت" اور "جدید جینیات" دونوں کو سمجھنا ہوگا۔
مذہبی تاریخ کی مستند ترین کتابوں، جیسے کہ "تاریخ الامم والملوک" (امام ابنِ جریر طبریؒ، 915ء) میں یہ واضح ملتا ہے کہ حضرت حواؑ کے ہاں ہر حمل (Pregnancy) سے جڑواں بچے (ایک لڑکا اور ایک لڑکی) پیدا ہوتے تھے۔
آدمؑ کی شریعت میں یہ قانون تھا کہ ایک حمل کے لڑکے کا نکاح دوسرے حمل کی لڑکی سے ہوگا، یعنی "بطن" (Womb) کا مختلف ہونا شرط تھا، اور سگے بہن بھائی (Twins) کا نکاح تب بھی حرام تھا۔
سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟
جواب ہے "اضطرار" (Necessity)!
شریعت ہمیشہ حالات کے مطابق بدلتی رہی ہے۔
یعقوبؑ کی شریعت میں دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں رکھنا جائز تھا، اسلام میں حرام ہے۔
اسی طرح نسلِ انسانی کی بقا کے لیے اللہ نے ابتدا میں یہ راستہ کھولا، اور جیسے ہی کزنز (Cousins) پیدا ہوئے، اسے فوراً اور ہمیشہ کے لیے حرام قرار دے دیا۔
یہ اللہ کی حکمت تھی کہ تمام انسانوں کا خونی رشتہ ایک ہی ماں باپ سے جوڑا جائے تاکہ نسل پرستی کی جڑ کاٹی جا سکے۔
اس نکتے پر "سائنسی اعتراض" یہ ہوتا ہے کہ قریبی رشتہ داروں میں شادی (Inbreeding) سے تو بچے معذور پیدا ہوتے ہیں، تو تب ایسا کیوں نہیں ہوا؟
یہاں جدید سائنس خود ہمارے حق میں گواہی دیتی ہے۔
جینیات کا مشہور اصول ہے جسے "جینیاتی لوڈ" (Genetic Load) کہا جاتا ہے (H.J. Muller, Our Load of Mutations, 1950)۔
یہ نظریہ بتاتا ہے کہ "ان بریڈنگ" صرف تب نقصان دہ ہوتی ہے جب والدین کے ڈی این اے میں چھپی ہوئی بیماریاں (Recessive Mutations) موجود ہوں۔
آج ہمارے ڈی این اے میں ہزاروں سالوں کی ماحولیاتی آلودگی اور ریڈی ایشن کی وجہ سے لاکھوں نقائص موجود ہیں، اس لیے آج بہن بھائی کا نکاح تباہ کن ہے۔
لیکن حضرت آدمؑ اور حواؑ کون تھے؟
وہ اللہ کی براہِ راست تخلیق تھے!
ان کا ڈی این اے بالکل "خالص" (Pristine) اور "زیرو ڈیفیکٹ" (Zero Defect) والا تھا۔
جب ایک شفاف اور بے عیب جینیاتی کوڈ کی کاپی تیار کی جائے تو اس میں نقص نہیں ہوتا۔
پہلی چند نسلوں تک جینز اتنے پاکیزہ تھے کہ ان بریڈنگ کا کوئی طبی نقصان نہیں تھا۔ جیسے جیسے نسلیں گزرتی گئیں اور ڈی این اے میں "میوٹیشنز" آتی گئیں، اللہ نے شریعت بدل دی اور ان رشتوں کو حرام کر دیا۔
لہٰذا یہ واقعہ نہ تو سائنس کے خلاف ہے اور نہ ہی اخلاقیات کے، کیونکہ قانون بنانے والا خود خالق ہے جو ڈی این اے کی مجبوریوں کو ہم سے بہتر جانتا ہے۔
ایک اور اہم اعتراض جو بار بار دہرایا جاتا ہے کہ قرآن انسان کو "خلیفہ فی الارض" (زمین کا نائب) کہتا ہے، لہٰذا انسان کا "خلائی نژاد" یا "اجنبی" ہونا قرآن کے خلاف ہے۔
میرے دوستو!
یہ اعتراض دراصل "خلیفہ" کے مفہوم کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔
"خلیفہ" (Viceroy) کہتے ہی اسے ہیں جسے بادشاہ اپنے خاص دربار سے کسی دور دراز علاقے میں انتظام سنبھالنے کے لیے بھیجے (القرآن، البقرۃ: 30)۔
اگر انسان کا تعلق صرف اور صرف زمین سے ہوتا، تو اسے زمین کا "باشندہ" کہا جاتا، خلیفہ نہیں۔
خلیفہ کی "ڈیوٹی" زمین پر ہوتی ہے، مگر اس کا "اصل گھر" بادشاہ کا دربار (عالمِ بالا) ہوتا ہے۔
میرا یہ مقدمہ کہ "ہم زمین کے نہیں ہیں"، دراصل ہماری "روحانی اجنبیت" کا مقدمہ ہے۔
ہمارا جسم (Body) بلاشبہ مٹی سے بنا ہے ("مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ" - طہٰ: 55)، اسی لیے یہ کششِ ثقل کا پابند ہے اور مٹی میں مل جاتا ہے۔ لیکن اس مٹی کے پتلے میں جو "شعور" اور "روح" پھونکی گئی ہے ("نَفَخْتُ فِیهِ مِن رُّوحِي" - الحجر: 29)، وہ اس سیارے کی پیداوار نہیں ہے۔
ہماری بے چینی، ہمارا ڈپریشن، اور ہماری "کمال" (Perfection) کی لامتناہی تلاش اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارا "سافٹ ویئر" اس زمینی "ہارڈ ویئر" میں مس فٹ (Misfit) ہے۔
ہم ایک ایسی دنیا کے مسافر ہیں جو اپنی منزل بھول چکا ہے اور اب سرائے (دنیا) کو گھر سمجھ کر اس کی دیواروں پر نقش و نگار بنا رہا ہے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ ان تمام سائنسی، تاریخی اور مذہبی شواہد کو ملا کر دیکھیں تو تصویر بالکل صاف ہو جاتی ہے۔
نہ تو سائنس مذہب کی دشمن ہے، اور نہ ہی ہمارا وجود کسی اندھے ارتقاء کا نتیجہ۔
ہم ایک "خاص منصوبہ بندی" (Intelligent Design) کا شاہکار ہیں جنہیں ایک خاص مقصد (آزمائش) کے لیے "جنت" (Original Habitat) سے نکال کر "زمین" (Testing Lab) میں اتارا گیا ہے۔
ہماری جسمانی تکالیف (کمر درد، بیماری) ہمیں یہ یاد دلانے کے لیے ہیں کہ یہ جگہ ہمارا مستقل ٹھکانہ نہیں، اور ہماری روحانی بے چینی ہمیں یہ بتانے کے لیے ہے کہ سکون صرف وہیں ملے گا جہاں سے ہم آئے تھے۔
جو لوگ سائنس کو بنیاد بنا کر مذہب پر اعتراض کرتے ہیں، وہ دراصل سائنس کے فلسفے سے ناواقف ہیں، اور جو لوگ مذہب کو بنیاد بنا کر سائنسی حقائق (جیسے جینیات) کا انکار کرتے ہیں، وہ خالق کی قدرت کو محدود کرتے ہیں۔ حقیقت ان دونوں کے سنگم پر ہے۔