We are not Earthlings, we are ‘exiles’: The Definitive Scientific and Religious Case for Humanity Being ‘Space-Born’! ہم زمین کے باسی نہیں، ہم ’جلاوطن‘ ہیں: انسانیت کے ’خلائی نژاد‘ ہونے کا حتمی سائنسی اور مذہبی مقدمہ!

We are not Earthlings, we are ‘exiles’: The Definitive Scientific and Religious Case for Humanity Being ‘Space-Born’!
ہم زمین کے باسی نہیں، ہم ’جلاوطن‘ ہیں: انسانیت کے ’خلائی نژاد‘ ہونے کا حتمی سائنسی اور مذہبی مقدمہ!

صدیوں سے ہمیں سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ایک جھوٹ پڑھایا جا رہا ہے، ایک ایسا سفید جھوٹ جسے "ارتقاء" (Evolution) کا نام دے کر ہمارے ذہنوں میں ٹھونسا گیا ہے۔ 

ہمیں بتایا گیا کہ ہم اسی کیچڑ، اسی مٹی اور انہی کیمیائی جوہڑوں سے پیدا ہوئے ہیں جہاں سے مینڈک، بندر اور ڈائنوسار پیدا ہوئے۔ 

ہمیں بتایا گیا کہ ہم اس سیارہ زمین کے "نیٹیو" (Native) ہیں، ہم یہیں کے ہیں، اور ہمارا خمیر اسی زمین سے اٹھا ہے۔

لیکن آج، اکیسویں صدی میں، سائنس خود اپنے اس نظریے کا گلا گھونٹ رہی ہے۔ جب انسانی جسم کو جدید ترین ٹیکنالوجی اور مائیکرو بائیولوجی کی خوردبین کے نیچے رکھا گیا، تو ایک ہولناک اور حیران کن سچائی سامنے آئی۔ 

وہ سچائی یہ ہے کہ انسان زمین پر "فٹ" (Fit) نہیں بیٹھتا۔ 

ہمارا جسم، ہماری نفسیات، ہماری بیماریاں اور ہماری ضروریات چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ ہم اس سیارے کے نہیں ہیں۔ 

ہم کہیں اور سے آئے ہیں، یا لائے گئے ہیں۔ ہم یہاں "مہمان" نہیں، بلکہ "قیدی" (Prisoners) یا "جلاوطن" (Exiles) ہیں۔

آج میں، ڈاکٹر ایلس سلور کے دعووں کو نہ صرف سائنسی دلائل سے ثابت کروں گا، بلکہ قرآن و حدیث کی ان گہری نشانیوں کو بھی سامنے لاؤں گا جو 1400 سال سے ہمیں بتا رہی تھیں کہ 

"تمہارا گھر یہ نہیں ہے، تم جنت سے نکالے گئے ہو!"

سب سے پہلا اور سب سے بڑا ثبوت خود آپ کے جسم کا ڈھانچہ ہے۔ 

اگر ہم زمین پر لاکھوں سالوں کے ارتقاء کا نتیجہ ہوتے، تو ہمارا جسم زمین کی کششِ ثقل (Gravity) کے ساتھ مکمل ہم آہنگ (Compatible) ہونا چاہیے تھا۔ 

لیکن حقیقت کیا ہے؟

1-کمر درد کی عالمی وباء (The Back Pain Epidemic):

دنیا کا شاید ہی کوئی انسان ہو جسے زندگی میں کبھی نہ کبھی کمر درد، گھٹنوں کے درد یا مہروں کے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ 

سائنسدان ڈاکٹر ایلس سلور کہتے ہیں کہ یہ درد اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان ایک ایسے سیارے پر ارتقاء پذیر ہوا (یا ڈیزائن کیا گیا) جہاں کششِ ثقل زمین سے کم تھی۔

ہم زمین پر سیدھے کھڑے ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن زمین کی کشش ہمیں نیچے کھینچ رہی ہے۔ ہمارا ریڑھ کی ہڈی کا نظام (Spinal Column) زمین کی 1G فورس کے لیے ڈیزائن ہی نہیں ہوا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارا اصل گھر ایک "کم کشش والا سیارہ" (Lower Gravity Planet) یا ایک ایسی جگہ تھی جہاں ہمارے جسموں پر مادی بوجھ نہیں تھا۔

2- ویریکوز وینز اور دورانِ خون:

انسانوں میں ویریکوز وینز (پاؤں کی رگوں کا پھولنا) ایک عام بیماری ہے، جو کسی اور جانور میں نہیں پائی جاتی۔ 

کیوں؟ 

کیونکہ ہمارا دورانِ خون کا نظام زمین کے بھاری پن کے خلاف خون کو واپس دل تک پمپ کرنے میں مشکل محسوس کرتا ہے۔ 

یہ "ڈیزائن فالٹ" نہیں ہے، یہ "Wrong Planet Syndrome" ہے۔

مذہبی تصدیق:

اسلام ہمیں بتاتا ہے کہ ہمارا اصل گھر "جنت" ہے۔ اور جنت کے بارے میں جو روایات ملتی ہیں، وہاں ہمارے جسم کثیف (مادی بوجھل) نہیں ہوں گے، بلکہ لطیف اور نورانی ہوں گے۔ وہاں کششِ ثقل کا یہ جبر نہیں ہوگا جو ہمیں زمین پر تھکا دیتا ہے۔ ہماری کمر کا درد دراصل ہماری روح کی اس یادداشت کا درد ہے جو "ہلکے پھلکے وجود" کی عادی تھی۔

زمین پر موجود ہر جانور, چاہے وہ چھپکلی ہو، کتا ہو یا پرندہ, سورج کی روشنی میں گھنٹوں رہ سکتا ہے اور اسے کچھ نہیں ہوتا۔ 

لیکن انسان؟ 

ہم زمین کے "بادشاہ" ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن ہم اپنے ہی سیارے کے سورج کے سامنے چند گھنٹے بھی ننگے جسم نہیں بیٹھ سکتے۔

1- سن برن اور سکن کینسر:

اگر ہم یہیں پیدا ہوئے ہوتے، تو لاکھوں سالوں میں ہماری جلد کو سورج کی الٹرا وائلٹ (UV) شعاعوں کے خلاف مکمل مدافعت پیدا کر لینی چاہیے تھی۔ 

لیکن ایسا نہیں ہوا۔ 

ہمیں سن بلاک چاہیے، ہمیں کپڑے چاہئیں، ہمیں چھاؤں چاہیے۔ 

ڈاکٹر ایلس سلور کا دعویٰ ہے کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان جس جگہ سے آیا ہے، وہاں سورج اتنا تیز نہیں تھا، یا وہاں کی فضا ایسی تھی جو مضر شعاعوں کو مکمل روکتی تھی۔

2- آنکھوں کی حساسیت:

انسان کی آنکھیں سورج کی تیز روشنی برداشت نہیں کر سکتیں، جبکہ زمین کے دیگر جانور (جیسے عقاب) سیدھا سورج کو دیکھ سکتے ہیں۔ 

ہم اس ستارے (Sun) کے لیے ڈیزائن ہی نہیں ہوئے۔

مذہبی تصدیق:

قرآن مجید میں جنت کا نقشہ کھینچتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"لَا یَرَوْنَ فِیهَا شَمْسًا وَلَا زَمْهَرِیرًا" 

(وہاں وہ نہ دھوپ (کی تپش) دیکھیں گے اور نہ سخت سردی)۔ [الانسان: 13]

یہ آیت ثابت کرتی ہے کہ ہمارا "اوریجنل ہیبی ٹیٹ" (Original Habitat) ایک ایسی جگہ ہے جہاں روشنی تو ہے، مگر "جلانے والی دھوپ" نہیں۔ ہماری جلد آج بھی اسی "نورانی ماحول" کی متلاشی ہے، اسی لیے یہ زمین کا سورج اسے جلا دیتا ہے۔

یہ سب سے زیادہ ٹھوس سائنسی ثبوت ہے۔ 

زمین اپنے محور پر 24 گھنٹے میں چکر پورا کرتی ہے۔ یہاں رہنے والے تمام جانوروں اور پودوں کی "حیاتیاتی گھڑی" (Circadian Rhythm) 24 گھنٹے پر سیٹ ہے۔

لیکن انسان؟

جب انسانوں کو غاروں یا بنکرز میں رکھا گیا جہاں سورج کی روشنی نہیں تھی (Isolation Experiments)، تو حیرت انگیز طور پر انسانی جسم نے قدرتی طور پر 25 گھنٹے کا سائیکل اپنا لیا۔

یہ کیا ظاہر کرتا ہے؟

یہ اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ ہمارے اجداد (آدمؑ اور ان کی نسل) کسی ایسی جگہ سے آئے ہیں جہاں دن کا دورانیہ زمین سے مختلف تھا۔ 

ہمارا جسم آج بھی اسی "کائناتی گھڑی" پر چلنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن زمین زبردستی اسے 24 گھنٹے کے چکر میں گھسیٹ رہی ہے۔ 

یہی وجہ ہے کہ انسان ہمیشہ "تھکا ہوا" اور "وقت کی کمی" کا شکار رہتا ہے۔ 

ہم اس سیارے کے وقت (Time Zone) کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے۔

زمین پر موجود تمام جانوروں کے بچے پیدا ہوتے ہی چلنے پھرنے لگتے ہیں۔ بکری کا بچہ منٹوں میں کھڑا ہو جاتا ہے۔ 

لیکن انسان کا بچہ؟ وہ سالوں تک بے بس، لاچار اور محتاج رہتا ہے۔

سائنسدان اسے "The Obstetric Dilemma" کہتے ہیں۔

انسان کا سر (Brain Size) اتنا بڑا ہے کہ وہ پیدائش کے راستے (Birth Canal) سے گزرتے ہوئے ماں اور بچے دونوں کی جان لے سکتا ہے۔ اسی لیے قدرت کو انسانی بچے کو "وقت سے پہلے" (Premature) پیدا کرنا پڑتا ہے تاکہ اس کا سر مزید بڑا نہ ہو جائے۔

ڈاکٹر ایلس کا دعویٰ:

یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ انسانی سر (جو ہماری اجنبی ذہانت کا مرکز ہے) اس سیارے کے ارتقاء کا حصہ نہیں ہے۔ 

ہم ایک "بڑے دماغ والی مخلوق" ہیں جسے ایک ایسے سیارے پر زبردستی اتارا گیا ہے جہاں کی حیاتیات اتنے بڑے سر کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

کچھ مذہبی دلائل کی روشنی میں سامنے آیا ہے کہ یہ تکلیف، یہ زچگی کا درد، دراصل "سزا" کا حصہ ہے۔ بائبل اور اسلامی روایات میں اشارہ ملتا ہے کہ جنت سے نکالے جانے کے بعد حواؑ (عورت) پر "حمل اور جنم کی تکلیف" بڑھا دی گئی۔ یہ تکلیف زمین پر ہمارے "جلاوطن" ہونے کی قیمت ہے۔ جانوروں کو یہ تکلیف نہیں ہوتی کیونکہ وہ یہیں کے ہیں؛ ہم "باہر" کے ہیں، اس لیے ہمارا "ہارڈ ویئر" یہاں فٹ نہیں بیٹھ رہا۔ واللہ عالم بلصواب!

آپ نے کبھی غور کیا کہ جنگلی جانور شاذ و نادر ہی بیمار ہوتے ہیں؟ 

وہ گندا پانی پیتے ہیں، کچا گوشت کھاتے ہیں، اور فٹ رہتے ہیں۔

لیکن انسان؟ 

ہم ابال کر پیتے ہیں، پکا کر کھاتے ہیں، دھو کر پہنتے ہیں، پھر بھی ہمیں ہزاروں بیماریاں لاحق ہیں۔ نزلہ، زکام، الرجی، معدے کے مسائل... فہرست لامتناہی ہے۔

ڈاکٹر سلور کہتے ہیں: 

"ایسا لگتا ہے کہ ہم سب یہاں ’ٹرمینلی اِل‘ (Terminally Ill) ہیں۔"

ہماری غذائی نالی (Digestive System) زمین کی قدرتی خوراک (کچی سبزیاں اور گوشت) کو ہضم کرنے کے قابل ہی نہیں ہے۔ ہمیں اسے "پکانا" (Process) پڑتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارا معدہ "جنت کے لطیف پھلوں" اور "پاکیزہ مشروبات" کا عادی تھا، زمین کی کثیف غذا اس کے لیے "زہر" ہے۔

یہ میرا ذاتی اور سب سے مضبوط فلسفیانہ اور مذہبی نکتہ ہے۔

زمین پر لاکھوں اقسام کے جانور ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک بھی, جی ہاں، ایک بھی ایسا نہیں ہے جسے "ننگا" رہنے میں شرم محسوس ہو یا جو اپنا جسم ڈھانپنے کی کوشش کرے۔ سوائے انسان کے۔

کیوں؟

اگر ہم بندر سے ارتقاء پاتے، تو ہمیں بھی ننگا رہنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ 

یہ "شرم" اور "حیا" کا مادہ کہاں سے آیا؟

قرآنی دلیل:

قرآن بتاتا ہے کہ جب آدمؑ اور حواؑ نے ممنوعہ درخت کا پھل کھایا، تو:

"بَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا یَخْصِفَانِ عَلَیْهِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّةِ" 

(ان کے ستر ایک دوسرے پر کھل گئے اور وہ جنت کے پتوں سے اپنے آپ کو ڈھانپنے لگے)۔ [طٰہٰ: 121]

یہ "کپڑے پہننے کی جبلت" زمین کی نہیں ہے۔ یہ اس "لباسِ جنت" کے چھن جانے کا صدمہ ہے جو ہمارے ڈی این اے میں محفوظ ہے۔ 

ہم واحد مخلوق ہیں جو کپڑے پہنتے ہیں کیونکہ ہم واحد مخلوق ہیں جو اپنی "اصلی حالت" (Original State) سے محروم ہوئے ہیں۔ 

جانور یہیں کے ہیں، وہ جیسے ہیں ٹھیک ہیں؛ ہم "بادشاہ" تھے جن کے "شاہی لبادے" اتروا دیے گئے، اور اب ہم زمین کے چتھڑوں (کپاس، اون) سے اس شرم کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انسان کی نفسیات کا سب سے بڑا معمہ اس کی "دائمی عدم اطمینان" ہے۔ 

آپ اسے دنیا کی ہر نعمت دے دیں, محل، گاڑیاں، سونا، حوریں, وہ کچھ عرصے بعد بور ہو جائے گا اور کہے گا "کچھ اور چاہیے"۔

کوئی جانور ایسا نہیں کرتا۔ شیر کا پیٹ بھر جائے تو وہ مطمئن ہے۔

انسان مطمئن کیوں نہیں ہوتا؟

کیونکہ انسان کے لاشعور (Subconscious) میں "کمال" (Perfection) کا ایک معیار موجود ہے۔ 

ہم نے ایک ایسی جگہ (جنت) دیکھی ہے جہاں کوئی دکھ نہیں تھا، کوئی موت نہیں تھی، کوئی بوریت نہیں تھی۔

ہم اس دنیا میں "کمال" ڈھونڈ رہے ہیں، جو یہاں موجود ہی نہیں ہے۔ ہمارا ڈپریشن، ہماری خودکشیاں، ہماری بے چینی... یہ سب "Homesickness" (گھر کی یاد) ہے۔ 

ہم ایک ایسے مسافر ہیں جو صحرا میں "سمندر" ڈھونڈ رہا ہے۔

روح کا ٹوٹا ہوا کنکشن:

جیسا کہ پچھلے بلاگ میں ذکر ہوا، ہماری روح عالمِ ارواح سے آئی ہے۔ یہ اس مادی دنیا میں "پردیسی" ہے۔ 

یہ جو ہمیں ستاروں کو دیکھ کر اداسی ہوتی ہے، یہ جو ہمیں نامعلوم کی تلاش رہتی ہے، یہ سب اس بات کی گواہی ہے کہ We don't belong here.

قرآن نے انسان کے زمین پر آنے کے لیے لفظ "اِهْبِطُوا" (نیچے اتر جاؤ) استعمال کیا۔ 

یہ لفظ ظاہر کرتا ہے کہ انسان زمین پر "پیدا" نہیں ہوا، بلکہ کہیں اوپر سے "اتارا" گیا ہے۔

سائنسدان ڈاکٹر ایلس سلور کا نظریہ ہے کہ شاید انسانوں کو کسی اور سیارے سے یہاں بطور "قیدی" لا کر پھینکا گیا کیونکہ ہم ایک پرتشدد مخلوق تھے۔

لیکن اسلام اس کی تصحیح کرتا ہے۔ ہم قیدی تو ہیں، مگر "امتحان" کے قیدی۔ زمین ہمارا "جیل خانہ" (Prison Planet) بھی ہے اور "امتحان گاہ" بھی۔

مومن کے لیے یہ دنیا "قید خانہ" ہے (الدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ)۔

یہ حدیث ڈاکٹر ایلس کی تھیوری کی سب سے بڑی تصدیق ہے۔ 

اگر ہم یہیں کے ہوتے، تو یہ جگہ ہمارے لیے "گھر" ہوتی، قید خانہ نہ ہوتی۔ قید خانہ وہ جگہ ہوتی ہے جہاں آپ کی طبیعت کے خلاف ماحول ہو۔ اور زمین کا ماحول (کشش، دھوپ، جراثیم) ہماری طبیعت کے خلاف ہے۔

تو میرے دوستو! 

یہ تمام سائنسی، حیاتیاتی اور نفسیاتی شواہد ایک ہی تصویر پیش کرتے ہیں:

ہم خلائی مخلوق (Aliens) ہیں۔

ہم اس زمین کے نہیں ہیں۔ ہم یہاں "پناہ گزین" ہیں۔ ہماری کمر کا درد، ہماری جلد کا جلنا، ہماری نیند کا خراب ہونا، اور ہمارے دل کا خالی پن... یہ سب گواہیاں ہیں کہ ہم ایک "کھوئی ہوئی جنت" کی اولاد ہیں۔

یہ مان لینا کہ ہم زمین سے نہیں ہیں، مایوسی کی بات نہیں بلکہ "امید" کی بات ہے۔

 کیونکہ اگر ہم یہاں کے نہیں ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ ہمارا "اصل گھر" کہیں اور موجود ہے، جہاں نہ کمر دکھے گی، نہ دھوپ جلائے گی، اور نہ دل اداس ہوگا۔

سائنس اب گھٹنوں کے بل چلتے چلتے اسی حقیقت تک پہنچ رہی ہے جسے وحی نے صدیوں پہلے بیان کر دیا تھا۔

ہمیں زمین کو سنوارنا ہے، لیکن دل اس سے نہیں لگانا۔ کیونکہ مسافر سرائے کو سجاتے نہیں، وہاں رات گزار کر اگلی منزل (واپسی) کی تیاری کرتے ہیں۔

نوٹ: بجلی اور انٹرنیٹ کے مسائل کی وجہ سے ویڈیو کے سلسلے میں تاخیر ہورہی ہے, اگر آج گیارہ بجے تک ویڈیو نا اپلوڈ ہوسکی تو ان شاء اللہ کل رات 8 بجے سیریز کی پہلی ویڈیو "قسط زیرو" اپلوڈ ہوجائے گی۔ احباب سے اس تکلیف کے لیے معذرت کا طلبگار ہوں۔

We are not Earthlings, we are ‘exiles’: The Definitive Scientific and Religious Case for Humanity Being ‘Space-Born’!  ہم زمین کے باسی نہیں، ہم ’جلاوطن‘ ہیں: انسانیت کے ’خلائی نژاد‘ ہونے کا حتمی سائنسی اور مذہبی مقدمہ!
We are not Earthlings, we are ‘exiles’: The Definitive Scientific and Religious Case for Humanity Being ‘Space-Born’!  ہم زمین کے باسی نہیں، ہم ’جلاوطن‘ ہیں: انسانیت کے ’خلائی نژاد‘ ہونے کا حتمی سائنسی اور مذہبی مقدمہ!

Post a Comment

Previous Post Next Post