String Theory and Quran: Claim or Possibility? سٹرنگ تھیوری اور قرآن: دعویٰ یا امکان؟

String Theory and Quran: Claim or Possibility?

سٹرنگ تھیوری اور قرآن: دعویٰ یا امکان؟

ہر شے کی ابتدا ایک سوال سے ہوتی ہے، اور ہر سوال کا منبع شک ہے۔ شک وہ پہلی چنگاری ہے جو تحقیق کی آگ کو بھڑکاتی ہے۔ اگر شک کو شک کے لیے استعمال کیا جائے تو وہ دھواں دیتا ہے، لیکن اگر اسے سچائی کی سیڑھی بنایا جائے تو یہ یقین کی روشنی میں بدل سکتا ہے۔ علم کی یہ آگ تب ہی راستہ دکھاتی ہے جب وہ دلیل کی لکڑی پر جلے۔

آج کی دنیا میں، جہاں سائنس اور مذہب کو دو متضاد قطبین سمجھا جاتا ہے، ہم ایک جرات مندانہ فکری سفر کا آغاز کر رہے ہیں۔ 

یہ تحریر کسی عقیدے کو زبردستی منوانے کی کوشش نہیں، بلکہ ایک دعوتِ فکر ہے۔ 

یہ ایک ایسا علمی پروجیکٹ ہے جس میں ہم جدید سائنس (اسٹرنگ تھیوری)، ریاضیاتی منطق، فزکس اور قرآنی الہیات کو ایک میز پر لاتے ہیں۔ 

ہمارا مقصد کسی کو کٹہرے میں کھڑا کرنا نہیں، بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ کیا انسان، کائنات اور خدا کے تکونی تعلق کو سمجھنے کے لیے کوئی ایسا "فکری ماڈل" تشکیل دیا جا سکتا ہے جو عقل اور دل دونوں کو اپیل کرے؟

انسان کیا ہے؟

ایک گوشت کا ڈھانچہ؟ 

ایک کیمیائی تجربہ؟ 

ایک حادثاتی اتفاق؟ 

یا پھر ایک روحانی راز جو کسی بلند تر حقیقت کا عکس ہے؟

ہم اس تفصیلی تحریر میں سائنس اور منطق کی روشنی میں ایک ایسا "امکان" (Possibility) پیش کریں گے جو الحاد کے سوالات کا جذباتی نہیں بلکہ عقلی جواب فراہم کر سکے۔

ہم اور آپ جس دنیا میں بیدار ہوتے ہیں، وہ بظاہر تین جہتی (3D) ہے: لمبائی، چوڑائی، اور گہرائی۔ چوتھی جہت "وقت" ہے جس کی ندی میں ہم بہہ رہے ہیں۔ 

لیکن جدید سائنس کا سفر یہاں ختم نہیں ہوتا۔ "سٹرنگ تھیوری" (String Theory) اور "ایم تھیوری" (M-Theory) ہمیں بتاتی ہیں کہ کائنات صرف چار جہتوں تک محدود نہیں، بلکہ 10، 11 یا اس سے بھی زائد جہتیں (Dimensions) موجود ہو سکتی ہیں جو ہماری نظروں سے اوجھل ہیں۔

تصور کریں ایک کاغذ پر بنی ہوئی دو جہتی (2D) دنیا کا۔ وہاں رہنے والے "دائرے" اور "مربع" کبھی بھی "گیند" (3D Sphere) کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے۔ وہ صرف اس کا سایہ دیکھ پائیں گے۔ بالکل اسی طرح، ہم انسان اپنی 4D قید خانے میں بیٹھ کر، ان "اعلیٰ جہتی حقائق" (Higher Dimensional Realities) کا مکمل ادراک نہیں کر سکتے جو ہمارے ارد گرد موجود ہیں۔

اگر انسان خود ایک محدود جہتی وجود ہے، تو وہ ان جہتوں کا ادراک کیسے کرے؟ 

یہیں سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کیا ہم اس کائنات میں خود مختار ہیں یا کسی بڑے نظام کا حصہ ہیں؟

اس ماڈل میں، آئیے انسان کو ایک "گاڑی" کے طور پر تصور کریں۔ ایک ایسی وہیکل جس کے پاس اسٹیئرنگ، بریک اور ایکسیلیٹر موجود ہے، لیکن کیا یہ "آٹو پائلٹ" پر ہے؟

ہمارا جسم 3D میں آپریٹ کرتا ہے (لمبائی، چوڑائی، اونچائی)۔ لیکن ہمارا شعور، ہمارے فیصلے، اور ہمارے جذبات کہاں سے کنٹرول ہو رہے ہیں؟

قرآن ایک لطیف اشارہ دیتا ہے:

"وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا، فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا"

(اور قسم ہے نفس کی اور اسے درست کرنے والے کی، پھر اُس نے اسے فجور اور تقویٰ کا الہام دیا)۔

یہ "الہام" (Inspiration) کہاں سے آتا ہے؟

یہ وہ دروازہ ہے جو ہمیں ہائیر ڈائمینشنز (Higher Dimensions) میں جھانکنے کی اجازت دیتا ہے۔

آئیے اس فکری ماڈل کے تحت ان ممکنہ 11 جہتوں کی نقشہ کشی (Mapping) کرتے ہیں:

پہلی سے تیسری جہت (1D - 3D): یہ ہماری فزیکل کائنات کی حد ہے۔ مادہ، حجم اور وہ تمام چیزیں جنہیں ہم چھو سکتے ہیں اور دیکھ سکتے ہیں۔ سائنس کہتی ہے کہ ہم الیکٹرو میگنیٹک اسپیکٹرم کا صرف 0.0035 فیصد حصہ دیکھ پاتے ہیں۔ باقی 99 فیصد حقیقت ہماری آنکھ سے اوجھل ہے مگر موجود ہے۔

چوتھی جہت (4D - Time): وقت۔ آئن سٹائن نے کہا تھا کہ وقت ایک سراب (Illusion) ہے۔ ہم وقت میں قید ہیں، مگر جو ہستی (Entity) وقت سے باہر ہو (4th Dimension سے اوپر)، وہ ہمارے ماضی، حال اور مستقبل کو ایک نقشے کی طرح سامنے پھیلا ہوا دیکھ سکتی ہے۔ حضرت خضرؑ کا واقعہ، جہاں وہ مستقبل کے اندیشے پر ایک بچے کو قتل کرتے ہیں، اسی "ٹائم ٹریول" یا "ٹائم ویژن" کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

پانچویں جہت (5D - Probability Space): یہ ممکنات (Possibilities) کا دروازہ ہے۔ اگر آپ آج ایک فیصلہ کرتے ہیں، تو مستقبل ایک رخ اختیار کرتا ہے۔ اگر دوسرا فیصلہ کرتے، تو وقت کی ایک الگ شاخ بن جاتی۔ اس ماڈل میں، دعا اور تقدیر کا نظام یہاں آپریٹ کرتا ہے۔ جب "قضا" بدلتی ہے، تو گویا 5D میں ایک متبادل راستہ (Alternate Timeline) منتخب کیا جاتا ہے۔

چھٹی جہت (6D - Multiverse Seed): کوانٹم میکینکس کی "Many-Worlds Interpretation" کے مطابق، یہاں وہ تمام کائناتیں جنم لیتی ہیں جو مختلف کوانٹم چوائسز کا نتیجہ ہیں۔ قرآن کا "رب العالمین" (تمام جہانوں کا رب) کہنا ہمیں اس وسیع تر کائناتی نظام کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

ساتویں جہت (7D - The Cosmic Code): یہ وہ سطح ہے جہاں قوانینِ فطرت (Natural Laws) لکھے گئے ہیں۔ گریویٹی کتنی ہوگی؟ روشنی کی رفتار کیا ہوگی؟ یہ "آپریٹنگ سسٹم" کی روٹ ڈائرکٹری (Root Directory) ہے۔

آٹھویں جہت (8D - The Metaphysical Realm): اس فکری ماڈل میں، یہ وہ مقام ہے جہاں غیر مرئی مخلوقات (Metaphysical Entities) کا اثر و رسوخ ہو سکتا ہے۔ خیر و شر کی جنگ، فرشتوں اور شیاطین کا اثر، اور انسانی شعور پر روحانی لہروں کا ارتکاز۔ جب انسان کسی منفی جذبے یا شیطانی وسوسے کی زد میں آتا ہے، تو اسے یہاں سے "ہیک" کیا جا رہا ہوتا ہے۔

نویں اور دسویں جہت (9D - 10D): یہ "علمِ تکوین" اور "لوحِ محفوظ" کے مقامات ہیں۔ وہ مقام جہاں خدا کا "کن" (Command) جاری ہوتا ہے اور جہاں تقدیر کا حتمی اسکرپٹ موجود ہے جسے بدلا نہیں جا سکتا۔

گیارہویں جہت (11D - The Ultimate Reality): یہ آخری جہت نہیں، بلکہ تمام جہتوں کا احاطہ کرنے والی حقیقت ہے۔ وہ مقام جو زمان و مکان، مادہ اور انرجی سے ماورا ہے۔ یہ وہ "سنگولیریٹی" (Singularity) ہے جہاں سے سب کچھ پھوٹا ہے۔

اب ہم اس فلسفیانہ تمہید کو ایک ٹھوس ریاضیاتی سانچے میں ڈھالتے ہیں۔ اگر ہم کائنات کو ایک منظم نظام مانتے ہیں، تو اس کے پیچھے کارفرما شعور (Consciousness) کو بھی ریاضی کی زبان میں لکھا جا سکتا ہے۔

ہم اسے "Equation of Infinite Consciousness" کا نام دیتے ہیں:

اس مساوات کی تشریح اور منطقی استدلال:

\lim_{n \to \infty} \sum_{i=1}^{n} C_i(D_i) = G

ڈی D (جہتیں): فرض کریں کائنات کی جہتیں (Dimensions) لامحدود ہیں یا n تک ہیں (n \to \infty)۔

سی C (کنٹرولنگ فورس): ہر جہت (D_i) میں قوانین موجود ہیں۔ جہاں قانون ہے، وہاں نظم ہے، اور جہاں نظم ہے، وہاں شعور (Consciousness) کا ہونا منطقی ضرورت ہے۔ بے شعور مادہ خود بخود پیچیدہ قوانین نہیں بنا سکتا۔

جی G (دی الٹییمیٹ کاز / خدا): اگر ہر نچلی جہت کسی اوپر والی جہت کے تابع ہے، تو منطق (Infinite Regress سے بچنے کے لیے) ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم ایک ایسے حتمی نقطے پر رکیں جو خود کسی جہت کا حصہ نہ ہو، مگر تمام جہتوں کا احاطہ کیے ہوئے ہو۔

سائنس کی زبان میں اسے "First Cause" یا "Necessary Being" کہا جا سکتا ہے۔ ریاضی کی زبان میں یہ وہ "انفینٹی" (Infinity) ہے جو تمام سیٹس (Sets) کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اور الہیات کی زبان میں، یہی "اللہ" ہے۔

یہ ماڈل یہ نہیں کہتا کہ (معاذ اللہ) ہم نے خدا کو لیب میں "ثبوت" کے ساتھ تلاش کر لیا یا نشاندہی کرلی ہے، بلکہ یہ کہتا ہے کہ خدا کا وجود ایک "Logically Necessary Reality" (منطقی طور پر ناگزیر حقیقت) ہے۔

اس ماڈل کی منطقی توثیق (Logical Verification)

اس ماڈل کو ہم سات درجات میں پرکھ سکتے ہیں، جو اسے محض عقیدہ نہیں بلکہ ایک مضبوط فکری دلیل بناتے ہیں:

ریاضیاتی منطق: لامحدود سلسلہ (Infinite Regress) ناممکن ہے۔ سلسلہ کہیں رکنا چاہیے، اور وہ رکنے کا مقام خود مختار (Independent) ہونا چاہیے۔

فزکس اور کازیلٹی (Causality): ہر چیز کی ایک علت (Cause) ہے۔ بگ بینگ بھی ایک معلول (Effect) ہے، تو اس کی علت کیا ہے؟ وہ علت لازمی طور پر ٹائم اور اسپیس سے باہر ہونی چاہیے۔

امکان الوجود (Contingency Argument): ہر چیز "ہو بھی سکتی تھی اور نہیں بھی"۔ لیکن کائنات "ہے"۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک "واجب الوجود" ہستی ہے جس نے اس کے ہونے کا فیصلہ کیا۔

فائن ٹیوننگ (Fine-Tuning): کائنات کے مستقلات (Constants) اتنی باریکی سے سیٹ ہیں کہ یہ اندھے اتفاق کا نتیجہ نہیں لگتے۔ یہ ایک "Intelligent Design" کا پتہ دیتے ہیں۔

اخلاقی دلیل (Moral Argument): اچھائی اور برائی کا تصور محض ارتقائی مجبوری نہیں، بلکہ ایک آفاقی قانون کی عکاسی ہے۔

شعور (Consciousness): مادہ شعور پیدا نہیں کر سکتا۔ شعور کا ماخذ ایک "الٹیمیٹ کونشیسنس" ہی ہو سکتا ہے۔

ناقابلِ تردیدیت: اس ماڈل کا انکار کرنے کے لیے آپ کو یہ ماننا پڑے گا کہ "کچھ نہیں" (Nothing) سے "سب کچھ" (Everything) بغیر کسی وجہ کے وجود میں آ گیا۔ جو بذاتِ خود سائنس کے خلاف ہے۔

الحاد (Atheism) کا دعویٰ ہے کہ وہ صرف اُسی چیز کو مانتا ہے جو مشاہدے میں آ سکے۔ 

یہ بظاہر ایک مضبوط سائنسی موقف لگتا ہے، لیکن کیا یہ واقعی سائنسی ہے؟

ہم نے "بلیک ہولز" کو براہ راست نہیں دیکھا، ہم "ڈارک میٹر" کی ماہیت نہیں جانتے، مگر ہم ان کے "اثرات" اور "ریاضیاتی ماڈلز" کی بنیاد پر انہیں حقیقت مانتے ہیں۔ 

تو پھر اس کائنات کے سب سے بڑے اثر (Effect)، یعنی خود "تخلیق" کو دیکھ کر اس کے خالق (Cause) کو نہ ماننا ضد ہے یا سائنس؟

نفسیاتی ماہر فرائڈ (Freud) نے کہا تھا کہ انسان خدا کا تصور تحفظ کے لیے گھڑتا ہے۔ لیکن جدید نفسیات کا ایک اور رخ یہ بھی ہے کہ انسان اپنی ذات میں "خدا بننے" (God Complex) کی خواہش رکھتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کی مرضی قانون ہو، اس کی خواہش فطرت ہو۔ 

الحاد، دراصل اسی "خود خدا بننے" کی لاشعوری خواہش کا نام ہو سکتا ہے۔ 

جب انسان یہ ماننے سے انکار کر دیتا ہے کہ کوئی اُس سے بڑی اتھارٹی موجود ہے، تو وہ الحاد کی پناہ لیتا ہے۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ انسان کا "ڈیٹا سیٹ" (Dataset) محدود ہے۔ وہ 4 جہتوں کی بنیاد پر 11 جہتوں کی حقیقت کا انکار کر رہا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک کمپیوٹر پروگرام اپنے آپریٹنگ سسٹم کا انکار کر دے کیونکہ وہ اسے کوڈ میں نظر نہیں آ رہا۔

اگر ہم اس فکری ماڈل کو بطور "امکان" تسلیم کر لیں کہ ایک ایسی ہستی (Infinite Consciousness) موجود ہے جو تمام جہتوں کی خالق ہے، تو اگلا سب سے بڑا منطقی سوال یہ پیدا ہوتا ہے:

"کیا ہم، جو اس نچلی جہت (3D) میں قید ہیں، اُس اعلیٰ ترین ہستی سے رابطہ کر سکتے ہیں؟"

اگر وہ خالق ہے، تو کیا اس نے مخلوق کو بغیر کسی "ہدایت نامے" (Manual) کے چھوڑ دیا؟ یہ منطقی طور پر بعید از قیاس ہے۔ یہاں ہمیں ایک "Communication Protocol" کی ضرورت ہے۔ اور یہیں سے "وحی" کا تصور داخل ہوتا ہے۔

وحی کوئی جادوئی عمل نہیں، بلکہ ایک "ڈائمینشنل ڈاؤن لوڈ" (Dimensional Download) ہے۔

اگر خدا ایک "Universal Server" ہے اور انسان ایک "Client Device"، تو وحی وہ "Data Stream" ہے جس کے ذریعے ہائیر ڈائمنشن کا علم، لوئر ڈائمنشن میں منتقل ہوتا ہے۔

انبیاء (Prophets): وہ انسان ہیں جن کا "ریسیور" (Receiver) عام انسانوں سے زیادہ طاقتور اور حساس ہے۔ وہ اس "ہیوی فریکوئنسی" کو برداشت کرنے اور ڈیکوڈ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ قرآن اسے "قولاً ثقیلاً" (بھاری کلام) کہتا ہے۔

معجزات (Miracles): یہ سائنس کی خلاف ورزی نہیں، بلکہ "ایڈمنسٹریٹر لیول کمانڈز" (Admin Access) ہیں۔ جب سسٹم کا بنانے والا سسٹم کے اندر کوئی تبدیلی لانا چاہتا ہے، تو وہ ڈیفالٹ قوانین (Dimensional Constants) کو عارضی طور پر معطل (Suspend) یا موڈیفائی کرتا ہے۔ موسیٰؑ کا عصا اژدھا بننا یا عیسیٰؑ کا مردوں کو زندہ کرنا، اس ماڈل میں "میٹر مینیپولیشن" (Matter Manipulation) اور "ٹائم ریورسل" (Time Reversal) کی مثالیں ہیں۔

اگر یہ ماڈل درست ہے، تو پھر مذہب کی عبادات محض رسومات نہیں رہتیں، بلکہ یہ اس "کائناتی سرور" سے جڑنے اور ہم آہنگ ہونے کا "Synchronization Process" بن جاتی ہیں۔

کلمہ (The Login): یہ اقرار ہے کہ میں اس سسٹم کے واحد ایڈمنسٹریٹر کو تسلیم کرتا ہوں۔ یہ "کنیکٹیویٹی" کا پہلا قدم ہے۔

نماز (Calibration): انسان دن بھر دنیا کے شور (Noise) اور مادی کثافتوں میں اپنی فریکوئنسی بگاڑ لیتا ہے۔ نماز وہ عمل ہے جس میں وہ دن میں پانچ بار اپنے جسم، ذہن اور روح کو "Re-align" کرتا ہے تاکہ سگنل صاف رہے۔

روزہ (Signal Amplification): جسمانی خواہشات (شور) کو کم کر کے روحانی سگنل کو بڑھانے (Amplify) کا نام روزہ ہے۔

حج (The Simulation): اپنے معمول کے ٹائم اور اسپیس سے نکل کر ایک ایسے مرکز کا طواف کرنا جو "ابدیت" کی تمثیل ہے، یہ ایک ہائیر ڈائمینشنل ایکسپیرینس کی مشق ہے۔

دعا (Request Packet): دعا وہ ٹول ہے جس کے ذریعے آپ لوئر ڈائمنشن سے ہائیر ڈائمنشن میں درخواست بھیجتے ہیں۔ کوانٹم فزکس کہتی ہے کہ مشاہدہ حقیقت کو بدل سکتا ہے۔ دعا وہ طاقتور ترین مشاہدہ ہے جو "امکانات" (Possibilities) کی دنیا میں تبدیلی لاتا ہے۔

یہ سب عبادات اصل میں Frequency Modulation کا عمل ہیں، یعنی اپنے نفس کے "Static" کو کم کر کے اللہ کے سگنل کو کیچ کرنا۔

ہم نے اس تحریر میں دیکھا کہ سائنس اور مذہب ایک دوسرے کے دشمن نہیں، بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو رخ ہو سکتے ہیں۔

سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ کائنات کیسے بنی (The Mechanism)۔

مذہب ہمیں بتاتا ہے کہ کائنات کیوں بنی اور اسے کون چلا رہا ہے (The Purpose and The Agent)۔

ہم نے دیکھا کہ:

\infty = X^D \to \exists(1) \to Allah

(لامحدود جہتیں ایک واحد، غیر مرئی، واجب الوجود ہستی کی طرف اشارہ کرتی ہیں، اور وہی اللہ ہے۔)

یہ ماڈل آپ کے سامنے ہے۔ یہ کوئی فتویٰ نہیں، بلکہ ایک علمی پیشکش ہے۔ 

کیا یہ محض ایک اتفاق ہے کہ جدید ترین سائنسی نظریات اور ہزاروں سال پرانی قرآنی آیات ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہیں؟ 

یا پھر یہ واقعی اس "خالق" کا کلام ہے جس نے ایٹم سے لے کر کہکشاؤں تک سب کچھ تخلیق کیا؟

لیکن علم کا سفر صرف "جاننے" پر ختم نہیں ہوتا، "ماننے" پر مکمل ہوتا ہے۔ 

جس طرح سائنس لیبارٹری میں تجربہ مانگتی ہے، روحانیت "عمل" کی لیبارٹری میں تجربہ مانگتی ہے۔

اب سوال یہ ہے:

کیا آپ محض ایک "ذہنی تسکین" چاہتے ہیں، یا اس "ہائیر کونشیسنس" کے ساتھ واقعی جڑنا چاہتے ہیں؟

اگر آپ نے عقلی طور پر مان لیا ہے کہ "ڈرائیونگ سیٹ" پر کوئی اور ہے، تو کیا آپ اسٹیئرنگ چھوڑنے (سرینڈر کرنے) کے لیے تیار ہیں؟

آخر میں رب کعبہ سے دست بستہ دعا:

اے ربِ ابعاد!

اے قوانینِ فطرت کے خالق! 

اے وہ ذات جو وقت اور جگہ کی قید سے آزاد ہے!

ہم نے عقل کے محدود چراغ سے تیرا راستہ ڈھونڈنے کی کوشش کی، ہم نے سائنس کے نقشوں میں تیرے قدموں کے نشان تلاش کیے۔ اب ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ہر جہت تیری ہے، اور ہر قانون تیرا ہے۔

ہماری عقلیں تیرے لامحدود علم کے سامنے سربسجود ہیں۔ ہمیں وہ شعور عطا کر جو کائنات کے شور میں تیری آواز سن سکے، اور وہ دل دے جو تیرے نادیدہ وجود کے ساتھ جڑ جائے۔ ہمیں تاوقتِ قیامت توحید کے نور سے سیراب رکھ۔

آمین، یا رب العالمین!

String Theory and Quran: Claim or Possibility? سٹرنگ تھیوری اور قرآن: دعویٰ یا امکان؟
String Theory and Quran: Claim or Possibility? سٹرنگ تھیوری اور قرآن: دعویٰ یا امکان؟

Post a Comment

Previous Post Next Post