A beacon of life amidst the hail of stones: Changing science, the eternal Quran, and the wanderings of a humble student!
سنگ باری کے درمیان چراغِ زیست: تغیر پذیر سائنس، ابدی قرآن اور ایک ادنی طالبِ علم کی سرگردانی!
میں علم و فکر کے ایک ایسے چوراہے پر تنہا کھڑا ہوں جہاں چاروں سمتوں سے پتھروں کی بارش ہو رہی ہے۔
کبھی کبھی مجھے شدت سے محسوس ہوتا ہے کہ میں اس دور کا وہ ”اجنبی“ ہوں جس کی زبان نہ مسجد کا روایتی منبر سمجھ پا رہا ہے اور نہ یونیورسٹی کا جدید لیکچر ہال۔
میرا جرم، میری خطا اور میرا قصور صرف اتنا ہے کہ میں نے دو بچھڑے ہوئے بھائیوں مذہب اور سائنس کو گلے ملانے کی ایک جسارت کی ہے۔
اس کوشش میں مجھے جس ردعمل کا سامنا ہے، وہ معاشرتی نفسیات اور ہمارے اجتماعی رویوں کا ایک ایسا افسوسناک مطالعہ ہے جو دل کو خون کے آنسو رلاتا ہے۔
ایک طرف میرا وہ مذہبی طبقہ ہے جس سے میرا روحانی رشتہ ہے، مگر وہ جدید سائنس سے ایسے خائف، سہمے ہوئے اور الجھے ہوئے ہیں جیسے کوئی معصوم پرندہ کسی زہریلے سانپ کو دیکھ لے۔
دوسری طرف میرا وہ لبرل، سیکیولر اور جدیدیت زدہ دوست طبقہ ہے جسے مذہب کا نام سنتے ہی ایسی الرجی ہوتی ہے جیسے میں نے کسی ممنوعہ شجر کا پھل اسے پیش کر دیا ہو۔
مزے کی بات یہ ہے کہ بظاہر ایک دوسرے کے جانی دشمن نظر آنے والے ان دونوں گروہوں کا رویہ، لب و لہجہ، غصہ اور عدم برداشت بالکل ایک جیسا ہے۔ دونوں کے پاس دلیل کم اور دشنام زیادہ ہے۔
سائنس والوں کو لگتا ہے کہ مذہب والوں کے ہاتھ میں کلاشنکوف آ گئی ہے اور یہ اب پوری تہذیب کو تباہ کر دیں گے، جبکہ مذہب والوں کو لگتا ہے کہ سائنس والوں کے ہاتھ میں ماچس ہے اور یہ ایمان کے خرمن کو آگ لگا کر خاکستر کر دیں گے۔
میں ان دونوں کے درمیان کھڑا ہو کر، دامن پھیلا کر یہ کہہ رہا ہوں کہ خدا کے بندو!
نہ وہ کلاشنکوف ہے نہ یہ ماچس؛ یہ دونوں ”روشنی کے مینار“ ہیں، بس ان کا رخ ایک طرف کرنے کی ضرورت ہے۔
مگر ہائے افسوس! کہ یہ بات نقار خانے میں طوطی کی آواز بن کر رہ جاتی ہے۔
میرے ناقدین, چاہے وہ ملحد ہوں، مستشرقین ہوں، تشکیک کے مارے ہوئے نوجوان ہوں,دیسی لبرلز ہوں یا کم پڑھے لکھے جذباتی افراد, اکثر مجھ پر طنز و تضحیک کے نشتر برساتے ہیں۔
لیکن ان تمام اعتراضات میں سب سے زیادہ ”علمی“ اور بظاہر وزنی اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ:
” صاحب! آپ سائنس کو قرآن سے جوڑ کر ایک علمی خیانت کر رہے ہیں۔سائنس تو بدلتی رہتی ہے، آج کی تھیوری کل غلط ثابت ہو جاتی ہے، جبکہ قرآن ایک ابدی اور اٹل حقیقت ہے۔ اگر کل کو وہ سائنسی نظریہ بدل گیا جسے آپ نے آیت سے جوڑا تھا، تو کیا (نعوذ باللہ) قرآن بھی غلط ہو جائے گا؟ یہ ضد چھوڑیے اور دین کو سائنس کی بیساکھیوں پر مت چلائیے۔“
یہ اعتراض بظاہر بہت مضبوط لگتا ہے، لیکن درحقیقت یہ ”فہمِ دین“ اور ”فہمِ سائنس“ دونوں سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔
میں اس کا جواب انتہائی عاجزی مگر دلائل کی پوری قوت کے ساتھ دینا چاہتا ہوں۔
یہ سچ ہے کہ سائنس بدلتی ہے، نیوٹن کی فزکس کو آئن سٹائن نے بدلا اور آئن سٹائن کو کوانٹم میکینکس چیلنج کر رہی ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ”مفسرین“ کی تفاسیر وقت کے ساتھ نہیں بدلیں؟
کیا صحابہ کرامؓ کے دور کی تفسیر اور آج کے دور کی تفسیر میں فرق نہیں ہے؟
قرآن کا متن (Text) بلاشبہ ابدی اور اٹل ہے، لیکن اس متن کا ”فہم“ (Understanding) ہر دور کے انسانی شعور کے مطابق ارتقاء پذیر ہے۔
جب میں آج کی جدید ترین سائنسی دریافتوں کی تطبیق (Synthesis) قرآن سے کرتا ہوں، تو میں قرآن کو سائنس سے ”ویریفائی“ نہیں کروا رہا ہوتا (قرآن کو کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں)، بلکہ میں یہ دکھا رہا ہوتا ہوں کہ آج کا انسانی شعور بالآخر گھوم پھر کر وہیں پہنچ رہا ہے جہاں قرآن چودہ سو سال پہلے کھڑا تھا۔
اگر کل کو سائنس بدل جائے گی، تو ہماری تفسیر بدل جائے گی، قرآن اپنی جگہ رہے گا۔
ابنِ الہیثم اور البیرونی نے بھی اپنے وقت کی سائنس کو قرآن سے ہم آہنگ رکھا، غزالی نے یونانی منطق کو استعمال کیا تھا۔
کیا ہم یہ کہہ کر سائنس پڑھنا چھوڑ دیں کہ
”یہ کل بدل جائے گی“؟
ہم آج کی بہترین دستیاب عقل (Best Available Intellect) کو استعمال کرنے کے پابند ہیں۔
میرا کام ”حتمیت“ کا دعویٰ کرنا نہیں، بلکہ ”امکانات“ (Possibilities) کے دروازے کھولنا ہے, اور حتی الامکان میں یہی کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
میں کوئی ولی, کوئی امام نہیں ہوں اور نہ ہی میں کوئی نوبل انعام یافتہ سائنسدان ہوں کہ اپنی ذاتی تھیوری پیش کروں اور دنیا سے منواؤں۔
میرا کام ”تخلیقِ علم“ سے زیادہ ”کشفِ علم“ اور ”تطبیقِ علم“ ہے۔
میں قطعیت (Absolutism) کا دعویٰ نہیں کرتا، میں تو صرف ”دعوتِ فکر“ دیتا ہوں۔
میں جب کسی سائنسی تحقیق، کسی جینیاتی مطالعے یا کسی تاریخی روایت کا ذکر کرتا ہوں، تو میں ہوا میں تیر نہیں چلاتا بلکہ ساتھ اس کا مکمل حوالہ، ماخذ اور لنک فراہم کرتا ہوں۔
اصولی طور پر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ میرے ناقدین اس حوالے کو پکڑتے، اس اصل تحقیق (Source Study) کو پڑھتے اور پھر ثابت کرتے کہ
” بھائی! آپ نے اس تحقیق کا ترجمہ یا مفہوم غلط بیان کیا ہے“ یا ”یہ تحقیق فلاں دوسری تحقیق سے رد ہو چکی ہے۔“
تو میں بھی رجوع کرتا, درستی کرتا اور اپنی کجی اور غلط فہمی دور کرتا۔
لیکن ہوتا کیا ہے؟
زیادہ تر وقت وہ تحقیق کو ہاتھ نہیں لگاتے، وہ ماخذ کو رد نہیں کرتے، وہ ”مجھے“ رد کرتے ہیں۔
وہ پیغام کو چھوڑ کر پیغام رساں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ وہ بضد رہتے ہیں کہ میں اپنی اس ”تطبیقی دریافت“ اور ”مستعار استدلال“ کو جھوٹ تسلیم کر لوں جو میں نے دنیا کے مستند ترین ذرائع سے کشید کی ہے۔
یہ رویہ علم دوستی کا نہیں، بلکہ ”ذہنی جمود“ (Intellectual Stagnation) اور تعصب کا ہے۔
جب بات سچ اور جھوٹ کی ہے ہی نہیں، جب بات مقدمے کی تشکیل اور مختلف علوم کے مابین ربط تلاش کرنے کی ہے، تو پھر یہ ذاتی حملے، یہ دروغ گوئی کے الزامات اور یہ غلو کے فتوے چہ معنی دارد؟
میں سمجھتا ہوں کہ میں درحقیقت اسی ”پیغمبری پیشے“ کا ایک ادنیٰ اور گناہگار طالب علم ہوں جسے ”صحافت“ کہا جاتا ہے, مگر زرد صحافت نہیں، بلکہ ”صحافتِ حق“۔
ایک سچا محقق کیا کرتا ہے؟
وہ بکھرے ہوئے موتیوں کو جمع کرتا ہے، معلومات کے ماخذ تک رسائی حاصل کرتا ہے، ان کی تفتیش اور تصدیق کرتا ہے، اور پھر اسے ایک قابلِ فہم تجزیے کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کر دیتا ہے۔
میں بھی یہی کر رہا ہوں!
میں کائنات کے بکھرے ہوئے علم, سائنس، مذہب، فلسفہ، بشریات وغیرہ کو اکٹھا کرتا ہوں اور ان کے درمیان وہ ”گمشدہ کڑی“ (Missing Link) تلاش کرتا ہوں جو انہیں ایک لڑی میں پرو دے۔
یہاں ایک اور اہم وضاحت ضروری ہے۔
اکثر دوست شکایت کرتے ہیں کہ
” صاحب! آپ کا لب و لہجہ اور اسلوب بہت حتمی اور پر یقین ہوتا ہے، جیسے آپ پتھر پر لکیر کھینچ رہے ہیں، حالانکہ سائنس میں حتمیت اور قطیعت نہیں ہوتی۔“
میں اس تنقید کو سر آنکھوں پر رکھتا ہوں۔
میری تحریر میں جو جوش اور یقین نظر آتا ہے، وہ دراصل اس ”حقیقت“ پر میرے ایمان کا پرتو ہے جو مجھے نظر آ رہی ہوتی ہے، لیکن تکنیکی طور پر میں صرف ”ہائپو تھیسز“ (Hypothesis) اور ”امکنات“ (Probabilities) پر روشنی ڈال رہا ہوتا ہوں۔
میرا مقصد اپنی علمی و تحقیقی دھاک بٹھانا یا خود کو ”عقلِ کل“ ثابت کرنا ہرگز نہیں، بلکہ میرا مقصد ”سیکھنا“ اور ”سیکھتے سیکھتے بتانا“ ہے۔
میں بلند آواز میں سوچتا ہوں (Thinking Aloud)۔
میرے لیے میرا ہر قاری، ہر معترض اور ہر مبصر انتہائی اہم اور قابلِ احترام ہے۔
میں ان احباب کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں جو میری علمی غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہیں، کیونکہ اصلاح ہی ارتقاء کا زینہ ہے۔
اور وہ دوست جو مخلصانہ تشویش رکھتے ہیں کہ میں قرآن اور سائنس کو مکس کر رہا ہوں، انہیں میں یقین دلاتا ہوں کہ میں ارادتاً یا بدنیتی سے ایسا نہیں کرتا۔ میں بھی بشر ہوں، انسان ہوں، سہواً قلم ادھر ادھر نکل جاتا ہے، جذبات میں بہک سکتا ہوں۔ (اور میں اس عادت پر قابو پانے کی سعی کررہا ہوں, امید ہے کہ مستقبل میں یہ نہ دہراؤں!) لہذا آپ کی تصحیح میرے لیے مشعلِ راہ ہے۔
میں تنقید کو خندہ پیشانی سے سنتا ہوں، برداشت کرتا ہوں اور اس سے سیکھتا ہوں۔
ہاں! مگر ایک سرخ لکیر (Red Line) ہے۔
وہ ہے ”ذاتیات پر حملہ“ اور ”دشنام طرازی“۔
جب دلیل ختم ہو جائے اور گالی شروع ہو جائے، تو وہاں میرا جواب صرف ”خاموشی“ ہوتا ہے۔ ایک مکمل اور باوقار خاموشی۔ کیونکہ میں دلائل کا جواب دے سکتا ہوں، جہالت کا نہیں۔
میرا ایجنڈا، میرا مشن اور میرا اوڑھنا بچھونا صرف ایک ہی نظریہ ہے:
قرآن اللہ کا ”قول“ (Word) ہے اور یہ کائنات اللہ کا ”فعل“ (Work) ہے۔
یہ ناممکنات میں سے ہے کہ ایک ہی مصنف کے قول اور فعل میں تضاد ہو۔ اگر ہمیں تضاد نظر آتا ہے تو وہ حقیقت میں نہیں، ہماری ”کم فہمی“ میں ہے۔
ردِ الحاد کے محاذ پر کھڑے مجاہدین کو یہ بات پلے باندھ لینی چاہیے کہ اب پرانے ہتھیار کام نہیں آئیں گے۔
آج کے دور میں اگر اللہ کے دین کی سربلندی کرنی ہے تو ہمیں ”علومِ دینیہ“ اور ”علومِ دنیا“ دونوں کا ماہر ہونا پڑے گا۔
ہمیں وہ ”تطبیق“ (Synthesis) کرنی ہوگی جہاں بگ بینگ قرآن کی آیت کی تفسیر لگے اور ڈی این اے (DNA) اللہ کی قدرت کا قصیدہ نظر آئے۔
جب ہم تحقیق اور تطبیق سے اللہ کے قول اور فعل میں یہ ہم آہنگی ثابت کر دیں گے اور اسے عام کر دیں گے، تو میں یقین سے کہتا ہوں کہ الحاد اپنی موت آپ مر جائے گا۔
کیونکہ الحاد ہمیشہ مذہب اور سائنس کے درمیان موجود ”خلا“ (Gap) میں پلتا ہے۔
جب یہ خلا ہی پر ہو جائے گا، جب مذہب ہی سب سے بڑا سائنسدان اور سائنس ہی سب سے بڑی موحد بن جائے گی، تو ملحد کے پاس چھپنے کی کوئی جگہ نہیں رہے گی۔
میں یہ کثیر الجہتی (Multi-dimensional) کام کسی نام، نمود و نمائش یا سستی شہرت کے لیے نہیں کر رہا۔
اللہ نے اپنے فضل سے مجھے اس سے بے نیاز کر رکھا ہے۔ میرا مقصد ایک ”لگیسی“ (Legacy) چھوڑنا ہے، ایک ایسا ٹریک (Track) سیٹ کرنا ہے جس پر آنے والے کل کے ڈگری ہولڈر اسکالرز، مفتیانِ کرام اور سائنس و دین کے طالبعلم چل سکیں اور اصل کام کر سکیں۔
میں تو صرف جھاڑیاں صاف کر کے راستہ بنا رہا ہوں، تاکہ بعد میں آنے والے اس شاہراہ پر علم کا سفر جاری رکھ سکیں۔
گالیاں، طنز اور فتوے اس راستے کے کانٹے ہیں، اور ان کانٹوں کو چننا ہی شاید میرا اصل جہاد ہے۔