Inheritance of Sin, Biological Resonance, and Divine Justice: Is the Father's Crime the Chain of the Son? A Scientific and Theological Perspective Explained!
وراثتِ گناہ، حیاتیاتی گونج اور عدلِ الٰہی: کیا باپ کا جرم بیٹے کی زنجیر ہے؟ ایک سائنسی و الہیاتی موقف پر وضاحت!
گزشتہ کچھ عرصے سے جب میں نے انسانی رویوں، بالخصوص جنسی بے راہ روی (زنا) اور اس کے اگلی نسلوں پر پڑنے والے حیاتیاتی اور نفسیاتی اثرات پر قلم اٹھایا اور جدید سائنس کی شاخ ”ایپی جینیٹکس“ (Epigenetics) کے تناظر میں یہ دعویٰ پیش کیا کہ گناہ صرف نامہِ اعمال میں نہیں لکھے جاتے بلکہ ہمارے ”جینیاتی کوڈ“ میں بھی کندہ ہوتے ہیں، تو علمی و غیر علمی حلقوں میں ایک بھونچال سا آ گیا۔
یہ ردعمل فطری تھا، کیونکہ ہم صدیوں سے مذہب کو صرف ”اخلاقیات“ کی کتاب سمجھتے آئے ہیں اور سائنس کو ”مادے“ کی تشریح۔ جب ان دونوں کو ملایا جائے تو وہ ذہن جو خانوں میں بٹے ہوئے ہیں، الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں۔
میرے محترم قارئین کی طرف سے چند انتہائی سنجیدہ اور وزنی اعتراضات سامنے آئے ہیں۔
یہ اعتراضات نہ صرف قرآن کی آیات کے حوالے سے ہیں بلکہ انبیاء کی تاریخ اور سائنسی توجیہات پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔
آج میں ان تمام سوالات کا جواب جذبات سے نہیں، بلکہ ”ہارڈ سائنس“، ”فلسفہِ اخلاق“ اور ”قرآنی بصیرت“ کے اس سنگم پر کھڑے ہو کر دینا چاہتا ہوں جہاں حقیقت اپنے نقاب الٹ دیتی ہے۔
سب سے پہلا اور سب سے توانا اعتراض جو بار بار دہرایا گیا وہ قرآن مجید کی اس بنیادی آیت کا ہے کہ
”وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ“
(کوئی بوجھ اٹھانے والی جان کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی)۔
سوال یہ اٹھایا گیا کہ اگر باپ زنا کرتا ہے اور اس کے اثرات (جینز کے ذریعے) بیٹے میں منتقل ہوتے ہیں تو یہ تو بیٹے کے ساتھ زیادتی ہے، اسلام تو کہتا ہے کہ باپ کے گناہ کی سزا بیٹے کو نہیں ملے گی، تو پھر میری تحقیق اسلام سے کیسے میل کھاتی ہے؟
اس کنفیوژن کی بنیاد دراصل ”عدالتی سزا“ (Judicial Punishment) اور ”تکوینی نتیجے“ (Biological Consequence) کے درمیان فرق نہ کرنے پر ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ قرآن جب ”بوجھ“ (وزْر) کی بات کرتا ہے تو اس سے مراد ”آخرت کا مواخذہ“ اور ”شرعی سزا“ ہے۔
یعنی ایسا نہیں ہو سکتا کہ زنا باپ کرے اور جہنم میں بیٹا ڈالا جائے، یا کوڑے بیٹے کو مارے جائیں۔
عدلِ الٰہی کا تقاضا ہے کہ ہر شخص اپنے کیے کا جوابدہ ہے۔ لیکن، اور یہ بہت بڑا ”لیکن“ ہے، اس دنیا کا نظام ”علت و معلول“ (Cause and Effect) پر چلتا ہے۔
اگر باپ شراب پی کر گاڑی چلاتا ہے اور ایکسیڈنٹ کرتا ہے، تو اس حادثے میں پچھلی سیٹ پر بیٹھا معصوم بچہ بھی معذور ہو سکتا ہے۔
اب کیا ہم یہاں یہ کہیں گے کہ اللہ نے بچے پر ظلم کیا؟
یا یہ کہیں گے کہ باپ کی غلطی کا ”خمیازہ“ (Consequence) بچے کو بھگتنا پڑا؟
بچہ باپ کے گناہ کا ”مجرم“ (Culprit) نہیں ہے، لیکن وہ باپ کے گناہ کا ”متاثرہ/وکٹم“ (Victim) ضرور ہے۔
بالکل اسی طرح، جب ایک شخص زنا یا جنسی آوارگی میں مبتلا ہوتا ہے، تو جدید نیورو سائنس بتاتی ہے کہ اس کا دماغی ڈھانچہ بدل جاتا ہے۔
ڈوپامائن ریسیپٹرز (Dopamine Receptors) اور آکسیٹوسن (Oxytocin) کے نظام میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔
ایپی جینیٹکس ہمیں بتاتی ہے کہ یہ بگاڑ ”سپرم“ (Sperm) کے ذریعے اگلی نسل میں منتقل ہوتا ہے۔ اب جو بچہ پیدا ہوگا، وہ پیدائشی طور پر ”ہائپر سیکشوئیلٹی“ (Hyper-sexuality) یا ”کمزور قوتِ مدافعت“ (Weak Impulse Control) کا شکار ہو سکتا ہے۔
یہ اس بچے پر اللہ کا عذاب نہیں، بلکہ باپ کے عمل کا ”حیاتیاتی نتیجہ“ ہے۔
یہاں میرا وہ بنیادی نکتہ آتا ہے جسے سمجھنے کی اشد ضرورت ہے:
"باپ دادا کا گناہ اولاد کو ”مجرم“ (Culprit) نہیں بناتا، بلکہ ”متاثرہ“ (Victim) بناتا ہے۔
باپ نے گناہ کر کے اپنی نسل کی ”فری ول“ (Free Will) کے لیے میدان کو مشکل بنا دیا۔
جو لڑائی ایک عام انسان زمین پر کھڑے ہو کر لڑتا ہے، اس بچے کو وہ لڑائی ایک ڈھلوان پر کھڑے ہو کر لڑنی پڑ رہی ہے۔ یہ ”امتحان کی سختی“ ہے، سزا نہیں۔"
دوسرا اہم اعتراض انبیاء اور نیکوکار لوگوں کی اولادوں کے بارے میں اٹھایا گیا, جس کا جواب میں پہلے بھی دو تین بار دے چکا ہوں لیکن آج پھر نئے معترضین کی تسلی طبع کی خاطر جواب دیتا ہوں تاکہ کنفیوژن دور ہوسکے۔
ہمیشہ کی طرح حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا اور دیگر مثالیں دی گئیں کہ اگر جینز ہی سب کچھ ہیں تو نیک باپ کا بیٹا برا کیوں؟
اور برے کا بیٹا (جیسے فرعون کے گھر حضرت آسیہ یا ولید بن مغیرہ کا بیٹا خالد بن ولید) نیک کیسے؟
یہ سوال اس لیے پیدا ہوتا ہے کیونکہ ہم جینیات کو ”پتھر پر لکیر“ (Determinism) سمجھ لیتے ہیں۔
میری ذاتی تحقیق یا عالمی تحقیقات اور سٹڈیز یہ ہرگز ہرگز نہیں کہتی کہ جینز انسان کو ”روبوٹ“ بنا دیتے ہیں۔
جینز صرف ”رجحان“ (Predisposition) پیدا کرتے ہیں، ”فیصلہ“ نہیں۔
سائنس کہتی ہے کہ جینز بندوق میں گولی بھرتے ہیں (Genetics loads the gun)، لیکن ماحول اور انسان کا اختیار اس کا ٹریگر دباتا ہے (Environment and Free Will pulls the trigger)۔
حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کے پاس بہترین جینیاتی ورثہ تھا، لیکن اس نے اپنی ”آزاد مرضی“ یا اختیار (Free Will) کا استعمال غلط کیا۔ جینز نیکی کی طرف مائل کر رہے تھے، لیکن اس کا ”اختیار“ بغاوت پر آمادہ تھا۔
اسی طرح، اگر کسی بدکار شخص کا بیٹا نیک بن جاتا ہے، تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انسان اپنے ”حیاتیاتی رجحانات“ (Biological Urges) کے خلاف لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسے ہی تو ”مجاہدہ“ کہتے ہیں۔
دراصل، جس بچے کو وراثت میں غصہ یا شہوت ملی ہو، اور وہ اس پر قابو پا کر نیک بن جائے، تو اس کا اجر اس شخص سے کہیں زیادہ ہے جسے یہ بری خصلتیں وراثت میں ملی ہی نہ ہوں۔ وللہ عالم بلصواب
لہٰذا، انبیاء کی اولاد کا بگڑنا میرے نظریے کی نفی نہیں کرتا، بلکہ یہ ثابت کرتا ہے کہ حیاتیاتی دباؤ کے باوجود ”انسانی اختیار“ حتمی فیصلہ کن طاقت ہے۔
تیسرا اعتراض انتہائی علمی نوعیت کا ہے کہ
”عادات اور خصائل وراثت میں نہیں ملتے، صرف جسمانی بیماریاں ملتی ہیں۔“
اور یہ کہ ”زنا کے جینز“ کا تصور بکواس ہے۔
یہ اعتراض جدید جینیات سے لا علمی کا نتیجہ ہے۔
آئیے ذرا ”جڑواں بچوں“ (Twin Studies) کی مستند ترین تحقیقات کا جائزہ پھر لیتے ہیں۔
امریکہ کی ریاست مینیسوٹا میں ہونے والی مشہورِ زمانہ تحقیق
"Minnesota Study of Twins Reared Apart" (1979-1999)
نے نفسیات کی دنیا ہلا کر رکھ دی تھی۔ اس تحقیق میں ایسے جڑواں بچوں کا مطالعہ کیا گیا جو پیدائش کے فوراً بعد الگ کر دیے گئے اور بالکل مختلف ماحول میں پلے بڑھے۔
نتائج حیران کن تھے۔
سائنسدانوں نے دیکھا کہ الگ الگ ماحول میں پلنے کے باوجود، ان جڑواں بھائیوں کی نہ صرف عادات، پسند ناپسند، بلکہ ”مذہبی رجحانات“، ”جنسی رویے“ اور ”اخلاقی اقدار“ میں 50 فیصد سے زائد مماثلت تھی۔
اگر عادات صرف ماحول سے بنتیں، تو الگ ماحول میں پلنے والے جڑواں بچوں کی عادات مختلف ہونی چاہیے تھیں۔
مگر ایسا نہیں ہوا۔
اس سے ثابت ہوا کہ ہماری عادات کا ایک بڑا حصہ ہمارے جینز (DNA) میں لکھا ہوتا ہے۔
جہاں تک ”زنا کے جینز“ کا تعلق ہے، تو سائنسدانوں نے DRD4-7R (جسے ’رسک ٹیکنگ جین‘ کہا جاتا ہے) اور AVPR1A (جسے ’بے وفائی کا جین‘ یا Infidelity Gene کہا جاتا ہے) دریافت کیے ہیں۔
تحقیق بتاتی ہے کہ جن لوگوں میں ان جینز کی مخصوص اقسام (Variants) پائی جاتی ہیں، ان میں جنسی بے راہ روی، ایک سے زیادہ پارٹنرز رکھنے کی خواہش، اور دھوکہ دہی کا رجحان دوسروں کی نسبت نمایاں طور پر زیادہ ہوتا ہے۔
یہ کوئی ”بکواس“ نہیں بلکہ پیر ریویوڈ (Peer-reviewed) سائنسی حقیقت ہے۔
جب ہم کہتے ہیں کہ زنا وراثت میں منتقل ہوتا ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ بچہ زانی پیدا ہوتا ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس بچے میں Impulse Control (خواہش پر قابو پانے) کا نظام کمزور ہوتا ہے اور Sensation Seeking (لطف اندوزی) کی طلب شدید ہوتی ہے۔
یہ وہ ”بارود“ ہے جو باپ نے بیٹے کو منتقل کیا، اب اگر بیٹے کو غلط ماحول کی چنگاری ملے گی، تو وہ فوراً پھٹ پڑے گا۔
اب آتے ہیں میرے نکتہِ نظر کی گہرائی اور اس ”وکٹم اور کلپرٹ“ (Victim vs Culprit) کے فلسفے کی طرف جو اس ساری بحث کا خلاصہ ہے۔
میرا مقدمہ یہ ہے کہ جب ایک شخص زنا کرتا ہے، تو وہ صرف ایک سماجی یا شرعی جرم نہیں کر رہا، وہ اپنے جسم کے ہر خلیے میں ایک ”کیمیائی تبدیلی“ لا رہا ہے۔
گناہ کا زہر اس کے ایپی جینوم (Epigenome) پر ایسے مارکرز لگا دیتا ہے جو اس کے جینز کو ”سوئچ آف“ یا ”سوئچ آن“ کر دیتے ہیں۔
جب یہ شخص اولاد پیدا کرتا ہے، تو وہ اولاد ایک ”جینیاتی وکٹم“ (Genetic Victim) ہوتی ہے۔
وہ ایک ایسے بوجھ تلے دبی ہوئی پیدا ہوتی ہے جو اس نے نہیں کمایا۔ اس کی شہوت کی آگ دوسروں سے زیادہ تیز ہوتی ہے، اس کا صبر دوسروں سے کم ہوتا ہے۔
یہاں اسلام اور سائنس کا حسین امتزاج دیکھیے۔
اسلام کہتا ہے کہ ”توبہ“ کرو۔ سائنس کہتی ہے کہ ماحول اور رویہ بدلنے سے ایپی جینیٹک مارکرز بدل جاتے ہیں (Reversibility)۔
اگر باپ گناہ کے بعد سچی توبہ کر لے، اور اپنی اصلاح کر لے، تو عین ممکن ہے کہ وہ اپنی آنے والی نسل کو اس زہریلے اثر سے بچا لے۔
اور اگر اولاد (جو کہ وکٹم ہے) شعور کی عمر کو پہنچ کر یہ محسوس کرے کہ اس کے اندر گناہ کی شدید ترغیب موجود ہے، اور وہ اللہ کے خوف اور اپنی ”فری ول“ کو استعمال کر کے اس طوفان کا رخ موڑ دے، تو وہ ”کلپرٹ“ بننے سے بچ جائے گی اور اللہ کی نظر میں ”مجاہد“ قرار پائے گی۔
لیکن، اگر وہ اولاد بھی باپ کی طرح اسی غلیظ ماحول میں رہے، توبہ نہ کرے، اور اپنی جینیاتی کمزوری کے بہاؤ میں بہہ جائے، تو اب وہ ”وکٹم“ سے ترقی کر کے ”کلپرٹ“ بن جائے گی۔
اب وہ سزا کی حقدار ہوگی کیونکہ اس نے اپنے اختیار کو استعمال نہیں کیا۔
خلاصہ یہ کہ میری تحقیق اسلام کے قانونِ عدل کے خلاف نہیں بلکہ اس کی گہرائی کی تفسیر ہے۔
اسلام نسلوں کی پاکیزگی (حفظِ نسب) پر اتنا زور کیوں دیتا ہے؟
کیوں زنا کو ”فاحشہ“ (بے حیائی) اور ”برا راستہ“ کہا گیا؟
کیونکہ اللہ جانتا ہے کہ یہ گناہ صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا، یہ نسلوں کے ڈی این اے کو آلودہ کر دیتا ہے۔
یہ تحقیق ہمیں مایوس کرنے کے لیے نہیں، بلکہ ”خبردار“ کرنے کے لیے ہے۔
یہ بتانے کے لیے کہ اے انسان! تیرے ایک لمحے کی لذت، تیری آنے والی کئی نسلوں کو ”اخلاقی معذور“ بنا سکتی ہے۔
ہم سائنس اور اسلام کو خلط ملط نہیں کر رہے، ہم صرف یہ دکھا رہے ہیں کہ اللہ کی کتاب (قرآن) اور اللہ کا کام (سائنس/فطرت) کبھی متصادم نہیں ہو سکتے۔
جو قرآن نے 1400 سال پہلے اشاروں میں کہا، آج لیبارٹری اسے ثابت کر رہی ہے۔
پس، باپ دادا کا گناہ اولاد کو قصور وار نہیں بناتا، مگر امتحان میں ضرور ڈالتا ہے۔ اور دانشمند وہ ہے جو اس امتحان کی سختی کو سمجھے اور اپنی نسلوں کو اس آگ سے بچائے۔