The DNA of Betrayal and the Legacy of Adultery: Is Your Parents' Sin Running in Your Blood?
خیانت کا ڈی این اے اور زنا کی وراثت: کیا آپ کے والدین کا گناہ آپ کے خون میں دوڑ رہا ہے؟
یہ ایک ایسا موضوع ہے جو شاید بہت سے لوگوں کے لیے "شاکنگ" (Shocking) ہو، لیکن سائنس کے لیبارٹری کوٹ اور مذہب کی کالی چادر کے پیچھے چھپی یہ وہ حقیقت ہے جسے اب مزید جھٹلایا نہیں جا سکتا۔
آج ہم اس بحث کو اس مقام پر لے جا رہے ہیں جہاں "اخلاقیات" اور "جینیات" (Genetics) ایک دوسرے میں ضم ہو جاتے ہیں۔
ہم صدیوں سے اپنے بزرگوں سے ایک جملہ سنتے آ رہے ہیں:
"یہ خاندانی ہے" یا "اس کا خون ہی گندا ہے۔"
لبرل دانشور اور جدیدیت کے علمبردار ہمیشہ ان جملوں کو "دقیانوسی سوچ" اور "تعصب" کہہ کر رد کرتے رہے ہیں۔
ان کا ماننا تھا کہ انسان ایک "کوری سلیٹ" (Blank Slate) کی طرح پیدا ہوتا ہے اور صرف ماحول اسے اچھا یا برا بناتا ہے۔
وہ کہتے تھے کہ "باپ اگر چور یا زانی ہے، تو ضروری نہیں کہ بیٹا بھی وہی ہو، ہر انسان کا اپنا اختیار ہے۔" بظاہر یہ بات بڑی منطقی اور انصاف پسند لگتی ہے۔
لیکن اکیسویں صدی کی جینیات (Genetics) اور رویوں کی سائنس (Behavioral Science) نے اس "خوش فہمی" کے پرخچے اڑا دیے ہیں۔
آج سائنس ایک خوفناک انکشاف کر رہی ہے۔ وہ کہہ رہی ہے کہ اگر آپ کے والدین نے رشتہ ازدواج میں ہوتے ہوئے "خیانت" (Cheating) کی ہے، اگر انہوں نے اپنی جوانی میں جنسی آوارگی (Promiscuity) دکھائی ہے، تو اس بات کے 40 سے 60 فیصد امکانات موجود ہیں کہ یہ "بے وفائی کا وائرس" آپ کے ڈی این اے میں منتقل ہو چکا ہے، اور آپ بھی اپنی بیوی یا شوہر کے ہوتے ہوئے کسی اور کے بستر کی زینت بنیں گے۔
یہ میں نہیں کہہ رہا، یہ وہ ڈیٹا کہہ رہا ہے جو ہزاروں جوڑوں اور جڑواں بچوں پر کی گئی تحقیقات سے کشید کیا گیا ہے۔
آج ہم اسی "جینیاتی خیانت" کا پوسٹ مارٹم کریں گے اور ان تمام "نیم خواندہ نقادوں" کو بھی جواب دیں گے جو پرانی نصابی کتابیں بغل میں دبائے پھرتے ہیں۔
اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے سائنسدانوں نے قدرت کے سب سے دلچسپ نمونوں یعنی "جڑواں بچوں" (Twins) کا مطالعہ کیا۔
تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ "دھوکہ دہی" (Infidelity) ماحول (Nurture) کی وجہ سے ہوتی ہے یا جینز (Nature) کی وجہ سے؟
سائنسدانوں نے دو طرح کے جڑواں بچوں کا ڈیٹا لیا:
مونو زائیگوٹ ٹوئنز Monozygotic Twins (ہم شکل جڑواں): ان کا ڈی این اے 100% ایک جیسا ہوتا ہے۔
ڈی زائیگوٹ ٹوئنز Dizygotic Twins (مختلف شکلوں والے جڑواں): ان کا ڈی این اے عام بہن بھائیوں کی طرح صرف 50% ملتا ہے۔
یونیورسٹی آف کوئینز لینڈ (University of Queensland) کے ماہرین نفسیات اور جینیات دان Brendan Zietsch نے 7,000 سے زائد جڑواں بچوں کا مطالعہ کیا۔ نتائج نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔
تحقیق نے ثابت کیا کہ ہم شکل جڑواں (Monozygotic) میں دھوکہ دینے کا رجحان حیران کن حد تک ایک جیسا تھا۔
اگر ایک بھائی نے اپنی بیوی کو دھوکہ دیا، تو قوی امکان تھا کہ دوسرے بھائی نے بھی ایسا ہی کیا، حالانکہ ان کی پرورش مختلف ماحول میں بھی ہوئی ہو۔
اس کے مقابلے میں Dizygotic Twins میں یہ مماثلت بہت کم تھی۔
محققین نے حتمی نتیجہ نکالا کہ:
> "جنسی رشتے میں دھوکہ دینے کے پیچھے 40% سے 60% کردار ہماری جینیات (Genetics) کا ہے۔"
یہ وہ مقام ہے جہاں مذہب کا وہ قدیم اصول سچ ثابت ہوتا ہے کہ "زنا کا بیج" نسلوں میں فساد پیدا کرتا ہے۔ اگر آپ کے خون میں "بے وفائی" کوڈ ہو چکی ہے، تو آپ کو نیک رہنے کے لیے عام انسان سے سو گنا زیادہ جدوجہد کرنی پڑے گی۔
سوال یہ ہے کہ یہ "خیانت" ڈی این اے میں کہاں چھپی ہوتی ہے؟
سائنس نے اس کا جواب DRD4 Gene (Dopamine Receptor D4) میں ڈھونڈا ہے۔ اسے عرفِ عام میں "Thrill-Seeking Gene" کہا جاتا ہے۔
جن لوگوں میں اس جین کی ایک خاص قسم (Polymorphism) ہوتی ہے، ان کا دماغ "ڈوپامائن" (لذت کا کیمیکل) کا بھوکا ہوتا ہے۔
ایک عام انسان کو گھر کے سکون، بیوی کی محبت اور بچوں کی مسکراہٹ سے مطلوبہ ڈوپامائن مل جاتا ہے۔
لیکن جس کے اندر یہ "جینیاتی خرابی" (جو والدین کی آوارگی سے منتقل ہوئی) موجود ہو، اسے یہ سکون کافی نہیں لگتا۔ اسے "نئی لذت"، "خطرہ" اور "چھپ کر گناہ کرنے کا سنسنی خیز احساس" چاہیے۔
جب والدین زنا کرتے ہیں، تو وہ اپنے دماغ کو High Dopamine کا عادی بناتے ہیں۔ ایپی جینیٹکس کے ذریعے یہ "ہائی تھریش ہولڈ" (High Threshold) بچوں میں منتقل ہوتا ہے۔
نتیجہ؟
وہ بچہ پیدا ہی اس "طلب" کے ساتھ ہوتا ہے کہ اسے ایک عورت یا ایک مرد کافی نہیں لگتا۔
اسے Multiple Partners چاہییں۔
یہ "ہوس" نہیں، یہ اب اس کی "جینیاتی مجبوری" بن چکی ہے۔
اب آتے ہیں ان "لبرل سائنسدانوں" کی طرف جو میری پچھلی تحریروں پر چیخ رہے تھے کہ "جسمانی اعمال (Somatic) کا اثر اسپرم (Germline) پر نہیں ہوتا۔
" انہوں نے کہا کہ "زنا دماغ (Soma) کا فعل ہے، اس سے جینز کیسے خراب ہوں گے؟"
میں نے انہیں Extracellular Vesicles (EVs) اور Exosomes کا حوالہ دیا تھا، جس پر انہوں نے کہا کہ ثبوت لاؤ۔
تو جناب!
یہ لیجیے وہ ممکنہ ثبوت جو میں نے پچھلی بحث میں بھی پیش کیا اور اب اس سیاق و سباق میں دوبارہ دہرا رہا ہوں تاکہ کوئی شک باقی نہ رہے۔
PubMed Study: 24992257
تحقیق کا عنوان: Soma-to-germline transmission of RNA...
اس تحقیق میں سائنسدانوں نے چوہوں کے جسم میں انسانی کینسر سیلز ڈالے۔ یہ سیلز جسم (Somatic) میں تھے۔ لیکن ان کا RNA چوہوں کے اسپرم (Germline) کے اندر پایا گیا۔
یہ کیسے ہوا؟
یہ انہی Exosomes کے ذریعے ہوا جو خون کے راستے سفر کرتے ہوئے "ایپی ڈیڈیمس" (Epididymis) تک پہنچے اور باپ کے جسم کا ڈیٹا اسپرم میں لوڈ کر دیا۔
اس کا اطلاق زنا پر:
جب ایک شخص زنا کرتا ہے، تو اس کے جسم میں Stress Hormones، Oxidative Stress اور Altered Neurotransmitters کا طوفان ہوتا ہے۔
یہ "بائیولوجیکل ڈیٹا" Exosomes کے پیکٹس میں بند ہو کر اس کے اسپرم میں چلا جاتا ہے۔
لہٰذا، وہ بچہ جو اس اسپرم سے پیدا ہوگا (چاہے وہ حلال نکاح سے ہی کیوں نہ ہو)، اس کے پاس وہ "سافٹ ویئر" پہنچ چکا ہے جس میں لکھا ہے:
"وفاداری مشکل ہے، دھوکہ دہی میں لذت ہے، اور سکون ایک جگہ نہیں ملتا۔"
یہ ہے وہ 60 فیصد جینیاتی منتقلی جس کا ذکر اوپر کیا گیا۔
ایک اور اعتراض جو بار بار دہرایا گیا کہ
"مغرب میں رضامندی ہے، وہاں گلٹ (Guilt) نہیں ہے، تو نقصان کیسے ہوگا؟"
میرے دوستو! "DRD4 جین" اور "Vasopressin Receptor" (وفاداری کا جین) آپ کے "سوشل کنٹریکٹ" یا "رضامندی" کو نہیں پہچانتے۔
اگر آپ نے "کثیر پارٹنرز" (Multiple Partners) کے ساتھ تعلق رکھا، تو آپ نے بائیولوجیکلی اپنے Vasopressin Receptors کو جلا دیا۔
ویسوپریسن Vasopressin وہ ہارمون ہے جو ایک مرد کو اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ "جذباتی طور پر" باندھتا ہے۔
جو مرد "پلے بوائے" (Playboy) ہوتے ہیں، ان کے اندر یہ جین "Silenced" (خاموش) ہو جاتا ہے۔
اور سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ یہ "خاموش شدہ جین" (Epigenetically Silenced Gene) بیٹے میں منتقل ہوتا ہے۔ یعنی باپ نے عیاشی کی، اور بیٹا "حیاتیاتی طور پر نااہل" پیدا ہوا کہ وہ اپنی بیوی سے وفاداری کر سکے۔
وہ چاہے گا بھی تو وفادار نہیں رہ سکے گا کیونکہ اس کے پاس وہ "کیمیکل ٹول" ہی نہیں ہے جو رشتے کو جوڑتا ہے۔ کیا یہ ظلم نہیں ہے؟
کیا یہ نسل کشی نہیں ہے؟
اب سمجھ آیا کہ اسلام نے "زنا" پر اتنی سخت سزائیں کیوں رکھیں؟
اسلام نے زنا کو "فاحشہ" (بے حیائی) اور "سآء سبیلا" (برا راستہ) کیوں کہا؟
کیونکہ یہ صرف ایک رات کا گناہ نہیں ہے؛ یہ ایک "جینیاتی ٹائم بم" ہے جو نسلوں تک پھٹتا رہتا ہے۔
جب اسلام کہتا ہے کہ
"پاک دامن عورتیں پاک دامن مردوں کے لیے ہیں" (النور: 26)،
تو یہ صرف اخلاقی حکم نہیں ہے، یہ "جینیاتی مطابقت" (Genetic Compatibility) کا اصول ہے۔
اگر ایک پاک دامن عورت کی شادی ایک ایسے مرد سے ہو جائے جس کا ڈی این اے اس کی "زناکاری" کی وجہ سے کرپٹ ہو چکا ہے، تو وہ عورت اپنی نسل کو ایک "بیمار باپ" کا ڈی این اے دے رہی ہے۔ وہ بچے "جذباتی یتیم" اور "اخلاقی بیمار" پیدا ہوں گے۔
تو کیا جس کے والدین نے غلطی کی، وہ برباد ہو گیا؟
کیا وہ 60 فیصد امکانات کا قیدی ہے؟
یہیں پر "تدبیر" اور "توبہ" آتی ہے۔
سائنس کہتی ہے کہ جینز "پتھر پر لکیر" نہیں ہیں۔ وہ "سوئچ" ہیں۔
اگر آپ کو ورثے میں "چیٹنگ جین" ملا ہے، تو آپ کے لیے امتحان سخت ہے، لیکن آپ اسے "Switch Off" کر سکتے ہیں۔
کیسے؟
شدید تقویٰ اور ضبطِ نفس: یہ دماغ کی Neuroplasticity کو متحرک کرتا ہے اور پرانے راستے توڑتا ہے۔
ماحول کی تبدیلی: ان محرکات (Triggers) سے دور رہنا جو اس جین کو ایکٹیویٹ کرتے ہیں۔
سچی توبہ: وہ ندامت جو آنسو بن کر بہہ جائے، وہ نیورو کیمیکل لیول پر اتنی بڑی تبدیلی لاتی ہے کہ وہ باپ کی طرف سے ملے ہوئے "منفی ٹیگز" کو دھو سکتی ہے۔
یہ جنگ اب آپ کو لڑنی ہے۔ آپ کے خون میں آپ کے باپ دادا کی غلطیاں دوڑ رہی ہیں، (اگر انہوں نے کی تھیں تو) لیکن آپ کے پاس "اختیار" کا وہ اسٹیئرنگ موجود ہے جسے اللہ نے آپ کے ہاتھ میں دیا ہے۔
آپ اس 60 فیصد امکان کو شکست دے کر وہ "پہلی کڑی" بن سکتے ہیں جو اپنی نسل کو پاکیزگی کی طرف واپس موڑ دے۔
| The DNA of Betrayal and the Legacy of Adultery: Is Your Parents' Sin Running in Your Blood? خیانت کا ڈی این اے اور زنا کی وراثت: کیا آپ کے والدین کا گناہ آپ کے خون میں دوڑ رہا ہے؟ |