Towers of logic and floods of emotions: The problem of good and evil and a psychological post-mortem of public atheism! منطق کے مینار اور جذبات کا سیلاب: مسئلہ خیر و شر اور عوامی الحاد کا نفسیاتی پوسٹ مارٹم!

Towers of logic and floods of emotions: The problem of good and evil and a psychological post-mortem of public atheism!

منطق کے مینار اور جذبات کا سیلاب: مسئلہ خیر و شر اور عوامی الحاد کا نفسیاتی پوسٹ مارٹم!

ہندوستان کی سرزمین پر ہونے والا یہ ’عظیم مکالمہ‘ دراصل دو افراد کے درمیان نہیں، بلکہ دو مختلف ”علمیاتی سطحوں“ (Epistemological Levels) کے درمیان تھا۔ 

ایک سطح وہ تھی جہاں ”خالص عقل“ (Pure Reason) اور فلسفیانہ اصطلاحات کی حکمرانی تھی، اور دوسری سطح وہ تھی جہاں ”عوامی جذبات“ (Popular Sentiment) اور ”حالاتِ حاضرہ“ (Current Affairs) کا شور تھا۔ 

جب یہ دونوں سطحیں آپس میں ٹکرائیں تو دیکھنے والوں کو ایک عجیب تضاد نظر آیا: 

منطق جیت گئی، مگر جذبات تشنہ رہ گئے!

احباب کا یہ مشاہدہ اور تجزیہ بالکل درست ہے کہ مفتی شمائل ندوی صاحب نے اکیڈمک اور فلسفیانہ محاذ پر فتح حاصل کی، لیکن جہاں معاملہ ”مسئلہ خیر و شر“ (Problem of Evil) اور بالخصوص غزہ جیسے سلگتے ہوئے زمینی حقائق کا آیا، وہاں ایک ”کمیونی کیشن گیپ“ محسوس ہوا۔ یہ گیپ علم کا نہیں، بلکہ ”علم کی ترسیل“ (Articulation) کا تھا۔ 

مفتی صاحب کا جواب ”لائبریری“ کے لیے تو صد فیصد درست تھا، مگر ”اسٹریٹ“ (Street) کے لیے شاید ادھورا رہ گیا۔

آئیے! اس گتھی کو سائنس، فلسفہ اور نفسیات کی روشنی میں سلجھاتے ہیں کہ اصل میں ہوا کیا اور اس خلا کو کیسے پُر کیا جا سکتا تھا یا کیا جاسکتا ہے۔

1۔ مسئلہ خیر و شر: خدا کی خاموشی یا انسان کا امتحان؟:

جاوید اختر اور سامعین کا غزہ یا دنیا کے ظلم پر سوال کرنا دراصل ”خدا کی قدرت“ پر نہیں، بلکہ ”خدا کی رحمت“ پر اعتراض تھا۔

عوامی ذہن (Public Mindset) خدا کو ایک ”سپر نیچرل سوشل ورکر“ کے طور پر دیکھتا ہے جس کا کام یہ ہونا چاہیے کہ جہاں آگ لگے، فوراً بجھا دے۔ جب ایسا نہیں ہوتا، تو عوامی ملحد خدا کا انکار کر دیتا ہے۔

مفتی صاحب نے اس کا جواب ”فری ول“ (Free Will) کے فلسفیانہ اصول سے دیا۔ 

یہ جواب منطقی طور پر بالکل ٹھیک ہے، لیکن عوامی ذہن کو یہ سمجھانے کی ضرورت تھی کہ:

”مداخلت“ (Intervention) اور ”امتحان“ (Test) ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔

یہ ہے وہ نکتہ جس کو بہت کم ایڈریس کیا جاتا ہے یا کیا ہی نہیں جاتا۔

اگر خدا غزہ میں ہر گرنے والے بم کو ہوا میں روک لے، یا ہر ظالم کا ہاتھ پکڑ لے، تو پھر دنیا ”دارالعمل“ نہیں رہے گی، بلکہ ”جنت“ بن جائے گی۔

سائنس کی زبان میں اسے ”System Integrity“ کہتے ہیں۔ 

مطلب اگر ایک سسٹم (دنیا) کو اس لیے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اس میں موجود ایجنٹس (انسان) اپنی مرضی (Choice) استعمال کریں، تو سسٹم کے ڈیزائنر (خدا) کا ہر لمحہ مداخلت کرنا اس سسٹم کے بنیادی مقصد (Purpose) کو فوت کر دے گا۔

غزہ میں جو ہو رہا ہے، وہ خدا کی ”رضا“ (Will) نہیں، بلکہ خدا کی دی ہوئی ”اجازت“ (Permission) کے تحت انسان کا ”اختیار“ ہے۔ اور اجازت اس لیے ہے تاکہ ”جزا و سزا“ کا دن معنی خیز ہو سکے۔ 

اگر پرچے میں مشکل سوال کی اجازت نہ ہو، تو پاس اور فیل کا تصور ختم ہو جاتا ہے۔ 

مفتی صاحب کو جاوید اختر کو انہی کی انڈسٹری کی مثال دینی چاہیے تھی کہ اگر ڈائریکٹر فلم کے ولن کو ہیرو پر ظلم کرنے سے روک دے، تو کہانی (Story) ہی ختم ہو جائے گی۔ 

غزہ خدا کی بے بسی نہیں (معاذ اللہ) ، انسان کے امتحان کی انتہا ہے۔

2۔ جاوید اختر: ”عوامی الحاد“ (Pop-Atheism) کا نمائندہ:

یہ مشاہدہ بہت گہرا ہے کہ جاوید اختر فلسفہ و منطق کے آدمی نہیں ہیں۔ وہ ایک ”پاپولسٹ ایتھیسٹ“ ہیں۔ 

جدید دور کا المیہ یہ ہے کہ الحاد اب رسل (Russell) یا نطشے (Nietzsche) کی کتابوں سے نہیں، بلکہ ”اخبار کی سرخیوں“ سے جنم لے رہا ہے۔

جاوید اختر کی گفتگو میں جو ”سطحیت“ (Shallowness) تھی، وہ دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا الحاد ”علمی“ (Intellectual) نہیں، ”ردِعمل“ (Reactionary) ہے۔ 

انہیں فلسفیانہ اصطلاحات (Ontology, Cosmological Argument) اس لیے سمجھ نہیں آئیں کیونکہ انہوں نے خدا کو عقل سے نہیں، جذبات سے پرکھا ہے۔

مفتی صاحب کی گفتگو ان کے ”سر“ کے اوپر سے گزر گئی کیونکہ مفتی صاحب ”کائنات کے خالق“ (Cosmic Creator) کی بات کر رہے تھے اور جاوید اختر ”محلے کے تھانیدار“ (Local Policeman) کو ڈھونڈ رہے تھے۔ 

یہ ”کیٹیگری مسٹیک“ (Category Mistake) تھی۔

مستقبل میں علماء کو یہ ہنر سیکھنا ہوگا کہ ”فلسفے کی گولی“ کو ”عوامی مثالوں کے شربت“ میں گھول کر کیسے پلایا جائے۔

3۔ مدارس کا نصاب اور ”منطقِ جدید“ کی ضرورت:

اس مکالمے نے مدارس کے نصاب پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے، جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔ 

صدیوں سے ہمارے مدارس میں منطق (Logic) کو یونانی فلسفے کی فرسودہ شکل میں پڑھایا جا رہا ہے یا پھر اسے سرے سے نصاب سے خارج کر دیا گیا ہے۔

آج کا الحاد ارسطو کی منطق سے نہیں، بلکہ ”کوانٹم فزکس“، ”ایوولوشنری بائیولوجی“ اور ”نیورو سائنس“ کے دلائل سے لیس ہے۔

مفتی شمائل ندوی کی کامیابی یہ تھی کہ وہ مغرب کے جدید علمی ماحول سے واقف تھے، لیکن یہ ایک فرد کی کامیابی ہے۔ ہمیں اسے ”ادارے کی کامیابی“ بنانا ہوگا۔ (اور الحمدللہ میں اسی پر اپنی ادنی حیثیت میں جتنا ممکن ہے اور جتنی اللہ نے توفیق اور استقامت دی ہے اس میں رہتے ہوئے کام کررہا ہوں باوجود شدید قسم کی مخالفت اور تنقید و تضحیک کے)

ہمارے فضلاء کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ”علم الکلام“ (Scholastic Theology) اب پرانی کتابوں میں نہیں، بلکہ جدید سائنسی اور فلسفیانہ جریدوں میں زندہ ہے۔ 

اگر ہمیں الحاد کے اس سیلاب کے آگے بند باندھنا ہے، تو ہمیں ”قال اللہ و قال الرسول“ کے ساتھ ساتھ ”استدلال و برہان“ کی زبان بھی سیکھنی ہوگی، کیونکہ مخاطب (Modern Mind) ایمان کی زبان نہیں سمجھتا، وہ دلیل کی زبان سمجھتا ہے۔

4۔ تزویراتی حکمتِ عملی: ہدف کا تعین:

یہ نقطہ انتہائی اہم ہے کہ مفتی صاحب کو اپنی عوامی موجودگی کا دائرہ کار فی الحال ”ردِ الحاد“ تک محدود رکھنا چاہیے۔ 

ہندوستان کے موجودہ سیاسی تناظر (Socio-Political Context) میں یہ ایک بہترین ”اسٹریٹجک موو“ ہے۔

سنگھ پریوار یا ہندو شدت پسندی اس وقت اسلام کو اپنا حریف سمجھتی ہے، لیکن ”الحاد“ ایک ایسا مشترکہ دشمن ہے جو مذہب کی بنیاد (خواہ وہ اسلام ہو یا ہندومت) کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ 

جب مسلمان دانشور الحاد پر ضرب لگاتا ہے، تو وہ بالواسطہ طور پر ہر مذہب پسند طبقے (بشمول ہندوؤں) کو اپنا ہمنوا بنا لیتا ہے۔

اگر مفتی صاحب فوراً ”احقاقِ حق“ یا ”مناظرہ بین المذاہب“ کی طرف گئے، تو وہ ”کامن گراؤنڈ“ کھو دیں گے اور سیاسی تعصب کی بھینٹ چڑھ جائیں گے۔

حکمت کا تقاضا یہی ہے کہ پہلے مرحلے میں ”خدا کے وجود“ کو منوایا جائے (Theism vs Atheism)، جب خدا مان لیا جائے، تو پھر ”کون سا خدا؟“ (Islam vs Others) کا مرحلہ بعد میں آتا ہے۔

 یاد رہے یہ اختتام نہیں، آغاز ہے, یہ مکالمہ ایک ٹرننگ پوائنٹ ہے۔ اس نے ثابت کر دیا کہ مسلمان کے پاس ”دلیل“ کی کمی نہیں، صرف ”اعتماد“ (کسی حد تک) اور ”ترسیل“ (Delivery) کی کمی تھی۔

جاوید اختر جیسے لوگ، جو مذہب کو فرسودہ سمجھتے تھے، جب منطق کے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھتے ہیں تو انہیں اپنی ”علمی برہنگی“ کا احساس ہوتا ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ، ہمارے علماء کے لیے بھی یہ لمحہِ فکریہ ہے۔ 

انہیں ”علمی جزیرے“ (Intellectual Islands) سے نکل کر عوام کے سمندر میں تیرنا سیکھنا ہوگا۔ 

انہیں غزہ کے درد کا جواب صرف ”فری ول“ کے خشک فلسفے سے نہیں، بلکہ ”الہیاتی حکمت“ (Divine Wisdom) اور ”ہمدردی“ (Empathy) کے امتزاج سے دینا ہوگا۔

یہ سفر ابھی شروع ہوا ہے۔ آنے والے دنوں میں میدان مزید گرم ہوگا، اور سوالات مزید تیکھے ہوں گے۔ 

جیت اسی کی ہوگی جس کے پاس ”دلیل کی طاقت“ کے ساتھ ساتھ ”پیش کرنے کا سلیقہ“ بھی ہوگا۔

Towers of logic and floods of emotions: The problem of good and evil and a psychological post-mortem of public atheism! منطق کے مینار اور جذبات کا سیلاب: مسئلہ خیر و شر اور عوامی الحاد کا نفسیاتی پوسٹ مارٹم!
Towers of logic and floods of emotions: The problem of good and evil and a psychological post-mortem of public atheism! منطق کے مینار اور جذبات کا سیلاب: مسئلہ خیر و شر اور عوامی الحاد کا نفسیاتی پوسٹ مارٹم!

Post a Comment

Previous Post Next Post