The Account of Unity: The Negation of the Self, the Addition of the Other, and the Punishment of Division!
حسابِ وحدت: انا کی نفی، غیر کی جمع، اور تقسیم کا عذاب!
قلم اٹھاتا ہوں تو الفاظ محض روشنائی نہیں، بلکہ لہو مانگتے ہیں۔ سچ لکھنے کی قیمت بہت بھاری ہے، اور حق کہنے کا تاوان اس سے بھی زیادہ۔
مگر جب دماغ کی شریانوں میں سوچ کا لاوا ابل رہا ہو اور سماج کی رگوں میں "نفاق" کا زہر دوڑتا نظر آئے، تو خاموشی ایک جرم بن جاتی ہے, ایک ایسا جرم جس کی سزا آنے والی نسلیں بھگتتی ہیں۔
آج کا موضوع ریاضی کا نہیں، مگر اس کا تعلق حساب سے ہے۔ یہ وہ حساب ہے جو کاتبِ تقدیر نے کائنات کے پہلے دن ہی طے کر دیا تھا۔ یہ وجود کا حساب ہے۔ یہ "وحدت" کا فلسفہ اور "تقسیم" کا عذاب ہے۔
ہماری تاریخ، ہمارا حال، اور ہمارا مستقبل... سب ایک ہی لفظ کے گرد گھومتا ہے: "تقسیم"!
یہ صرف سرحدوں کی لکیریں نہیں ہیں جو زمین کو بانٹتی ہیں؛ یہ وہ لکیریں ہیں جو ذہنوں میں کھینچی جاتی ہیں، دلوں کو کاٹتی ہیں، اور روحوں کو منقسم کرتی ہیں۔
اور میرا یہ کہنا کہ
"تقسیم نفاق اور عذاب کا استعارہ ہے"،
ایک ایسا سچ ہے جو کڑوا بھی ہے اور ناگزیر بھی۔
نفاق، جس کی جڑ "نفق" (سرنگ) سے ہے, یعنی وہ چھپا ہوا راستہ جو آپ کی بنیادوں کو کھوکھلا کرتا ہے۔
تقسیم، وہ سرنگ ہے جو اجتماعیت کی عمارت کو اندر سے کھا جاتی ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اس عذاب سے بچا کیسے جائے؟
اس کا جواب اس گہرے اور دقیق فارمولے میں پوشیدہ ہے:
"کچھ من چاہی چیزیں نفی کرنی پڑیں۔ ۔ ۔ کچھ ان چاہی چیزیں جمع کرنی پڑیں اور کچھ کو صفر سے ضرب دینی پڑے۔"
یہ کوئی سیاسی منشور نہیں ہے؛ یہ بقائے باہمی کا کائناتی کلیہ ہے۔
آئیے، اس "حسابِ وحدت" کی ایک ایک پرت کو کھولتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ہمارے چودہ طبق کیسے روشن ہوتے ہیں۔
"کچھ من چاہی چیزیں نفی کرنی پڑیں۔۔۔"
انسان کی سب سے "من چاہی" چیز کیا ہے؟
دولت؟
شہرت؟
اقتدار؟
نہیں... یہ سب ثانوی ہیں۔
انسان کی سب سے پیاری، سب سے من چاہی، اور سب سے ہلاکت خیز شے اس کی "انا" (Ego) ہے۔
"میں"۔
یہ ایک لفظ کائنات کا سب سے بڑا بت ہے۔ ہر تقسیم اسی بت کی پوجا سے شروع ہوتی ہے۔
"میرا قبیلہ"،
"میری نسل"،
"میرا عقیدہ"،
"میری سوچ"۔
جب "میں" کا یہ بت فربہ ہونے لگتا ہے، تو "ہم" کا وجود سکڑ جاتا ہے۔ وحدت کا پہلا اصول "انا" کی قربانی ہے۔
یہ وہ فلسفہ ہے جسے میں نے "فنا فی سبیل اللہ" کہتا ہوں۔
یہ وہ مقام ہے جہاں قطرہ (Individual) خود کو "نفی" کرتا ہے تاکہ قلزم (The Absolute) کا حصہ بن سکے۔ جب تک قطرہ خود کو "قطرہ" سمجھتا رہے گا، وہ سمندر سے الگ رہے گا، اس کی بقا عارضی ہوگی، اور اس کا وجود محدود۔ جیسے ہی وہ اپنی "قطریت" کو نفی کرتا ہے، وہ خود سمندر بن جاتا ہے۔
تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں۔
جب بھی کسی قوم نے اجتماعیت کی معراج کو چھوا، اس کی بنیاد میں لاکھوں "اناؤں" کی قربانی تھی۔
میثاقِ مدینہ کیا تھا؟
یہ اوس اور خزرج کی صدیوں پرانی "من چاہی" دشمنیوں کی "نفی" تھی۔
یہ مہاجرین کے "من چاہے" تشخص (قریشیت) اور انصار کی "من چاہی" سرداری (مقامی برتری) کی "نفی" تھی۔
اس نفی کے بغیر وہ "امت" تشکیل نہیں پا سکتی تھی جس نے تاریخ کا دھارا موڑ دیا۔
جب رومی سلطنت اپنے عروج پر تھی، تو "Civis Romanus Sum" (میں روم کا شہری ہوں) کا نعرہ ہر گال (Gaul)، ہر یونانی (Greek)، اور ہر شامی (Syrian) کی "من چاہی" نسلی شناخت پر حاوی تھا۔
جس دن یہ "نفی" ختم ہوئی اور قبائلی و علاقائی "میں" دوبارہ زندہ ہو گئی، سلطنت تقسیم در تقسیم ہو کر تاریخ کا حصہ بن گئی۔
یہ "نفی" آسان نہیں۔ یہ ابراہیم (ع) کا اپنے "من چاہے" بیٹے کی گردن پر چھری چلانے کا عزم ہے۔
یہ حسین (ع) کا کربلا میں اپنے "من چاہے" خاندان کو قربان کر کے "انا" کے یزیدی بت کو "نفی" کرنا ہے۔
جب تک ہم اپنی سب سے پیاری، سب سے پوجی جانے والی "میں" کو قربان نہیں کریں گے، "ہم" کا ظہور ناممکن ہے۔
وحدت کی قیمت بھاری ہے, اس کی پہلی قسط "انا" کی نفی ہے۔
"کچھ ان چاہی چیزیں جمع کرنی پڑیں۔۔۔"
اگر "نفی" کا تعلق "انا" سے ہے، تو "جمع" کا تعلق "غیر" (The Other) سے ہے۔
وہ "غیر" جو ہمیں "ان چاہا" لگتا ہے۔ وہ، جو ہم جیسا نہیں ہے۔ وہ، جس کا رنگ، نسل، زبان، یا عقیدہ ہم سے مختلف ہے۔
یہ "جمع" کا کلیہ دراصل "رواداری" (Tolerance) سے ایک قدم آگے "قبولیت" (Acceptance) کا فلسفہ ہے۔ رواداری میں پھر بھی ایک تکبر پنہاں ہے کہ
"میں تم سے برتر ہوں، مگر چلو تمہیں برداشت کر لیتا ہوں۔"
جبکہ "جمع" کا یہ کلیہ کہتا ہے کہ "تم" (وہ ان چاہا وجود) بھی اس کائناتی مساوات (Equation) کا اتنا ہی اہم حصہ ہو جتنا "میں" ہوں۔
یہ وہ مقام ہے جہاں فکری اختلاف (Ikhtilaf) کو رحمت سمجھا جاتا ہے، نہ کہ تفرقہ (Tafarraqa)۔
امام شافعیؒ کا وہ قول یاد کیجئے جو فلسفۂ اجتماعیت کا عطر ہے:
"میری رائے درست ہے، مگر اس میں غلطی کا امکان ہے۔ اور مخالف کی رائے غلط ہے، مگر اس میں درستگی کا امکان ہے۔"
یہ "درستگی کا امکان" ہی وہ "ان چاہی" چیز ہے جسے ہم اپنی فکری مساوات میں "جمع" کرنے سے کتراتے ہیں۔
ہم ایک ایسے باغ کی خواہش کرتے ہیں جس میں صرف ہماری پسند کے پھول کھلیں۔
لیکن کائنات کا حسن "کثرت" (Plurality) میں ہے۔ ایک ہی رنگ کا باغ آنکھوں کو بھلا نہیں لگتا؛ یہ مختلف رنگوں کا امتزاج ہے جو "گلستان" تخلیق کرتا ہے۔
تاریخی طور پر، جس تہذیب نے اس "جمع" کے فارمولے کو اپنایا، وہ علم و حکمت کا گہوارہ بن گئی۔
اسلامی تہذیب کا سنہری دور (Golden Age) کیا تھا؟
یہ بغداد کے "بیت الحکمت" میں یونانی (ان چاہے) فلسفے، ہندوستانی (ان چاہے) علمِ ہندسہ، اور فارسی (ان چاہی) دانش کو عربی فکر کے ساتھ "جمع" کرنے کا نتیجہ تھا۔
اس "جمع" نے الجبرا، طب، اور فلکیات کے وہ باب روشن کیے جن سے آج کی جدید سائنس بھی روشنی لیتی ہے۔
اس کے برعکس، سقوطِ غرناطہ (Fall of Granada) سے پہلے اسپین میں کیا ہوا؟
وہاں "جمع" کا عمل الٹ گیا تھا۔ "نفی" کا عمل شروع ہوا۔ مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں نے ایک دوسرے کو "جمع" کرنے کے بجائے ایک دوسرے کو "ان چاہا" قرار دے کر تفریق کرنا شروع کر دیا۔
نتیجہ؟
وہ تہذیب جو یورپ کے لیے روشنی کا مینار تھی، وہ جہالت، تعصب اور خانہ جنگی کی آگ میں جل کر راکھ ہو گئی۔
اجتماعیت کا تقاضا ہے کہ آپ اپنے فکری دائرے کو اتنا وسیع کریں کہ وہ "غیر" جو آپ کو "ان چاہا" لگتا ہے، وہ بھی اس میں سما سکے۔ یہ ایک "جبر" ہے, اپنے نفس پر جبر، اپنی سوچ پر جبر, مگر اس "جمع" کے بغیر وحدت کا حساب ادھورا ہے۔
"اور کچھ کو صفر سے ضرب دینی پڑے۔۔۔"
یہ اس کلیے کا سب سے طاقتور، سب سے انقلابی، اور سب سے فیصلہ کن حصہ ہے۔
ریاضی میں کسی بھی عدد کو، چاہے وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، جب "صفر" سے ضرب دی جاتی ہے، تو نتیجہ "صفر" ہی آتا ہے۔
یہ "صفر" کیا ہے؟
یہ وہ مقام ہے جہاں کوئی رعایت نہیں، کوئی سمجھوتہ نہیں، کوئی درمیانی راستہ نہیں۔
اگر "نفی" کا تعلق "انا" سے تھا اور "جمع" کا تعلق "غیر" سے، تو "ضربِ صفر" کا تعلق ان نظریات اور افعال سے ہے جو "وحدت" کی ضد ہیں۔
وہ "کچھ" چیزیں جنہیں صفر سے ضرب دینا لازمی ہے، وہ یہ ہیں:
تکبر (Arrogance): وہ سوچ کہ "صرف میں حق پر ہوں"۔
تعصب (Bigotry): وہ جذبہ کہ "دوسرا باطل پر ہے"۔
نفرت (Hatred): وہ عمل جو "غیر" کو مٹانے پر اکسائے۔
تکفیر (Excommunication): وہ فتویٰ جو "جمع" کے ہر امکان کو رد کر دے۔
فکری جمود (Intellectual Stagnation): وہ ہٹ دھرمی جو وقت کے تقاضوں کو سمجھنے سے انکاری ہو۔
یہ وہ وائرس ہیں جنہیں آپ "جمع" نہیں کر سکتے۔ ان کے ساتھ رواداری نہیں برتی جا سکتی۔ ان کو "نفی" کرنا بھی کافی نہیں ہے۔ انہیں مکمل طور پر "صفر" کرنا ہوگا۔
تاریخ کا سب سے بڑا سبق "خوارج" (Kharijites) کا ہے۔
یہ وہ گروہ تھا جس نے "انا" کو نفی نہیں کیا (وہ خود کو سب سے متقی سمجھتے تھے)۔ انہوں نے "غیر" کو جمع نہیں کیا (انہوں نے حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ دونوں کو دائرۂ اسلام سے خارج سمجھا)۔
ان کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے "تکفیر" اور "نفرت" کے نظریات کو "صفر" سے ضرب دینے کے بجائے انہیں "ایک" (Absolute) مان لیا۔
نتیجہ؟
امت کی تاریخ کا پہلا اور سب سے گہرا نفاق، جس کا عذاب آج تک کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے۔
جدید دور میں دیکھ لیں۔
نسل پرستی (Racism) ایک ایسا ہی نظریہ ہے۔ آپ نسل پرستی کے ساتھ "جمع" کا فارمولا نہیں لگا سکتے۔
آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ
"آدھی نسل پرستی قبول کر لیتے ہیں"۔
نہیں۔
اسے "صفر" سے ضرب دینا ہوگی۔ اسے مکمل طور پر کالعدم کرنا ہوگا۔
انتہاپسندی (Extremism) کو "صفر" کرنا ہوگا۔
اس خیال کو "صفر" کرنا ہوگا کہ اختلافِ رائے رکھنے والے کا وجود ہی ناقابلِ برداشت ہے۔
یہ "ضربِ صفر" دراصل "Reset" کا بٹن ہے۔
یہ پرانی رنجشوں، تاریخی غلط فہمیوں، اور ان زخموں کو "صفر" کرنے کا نام ہے جو ہمیں آگے بڑھنے نہیں دیتے۔
جب تک ہم ماضی کے ان بتوں کو "صفر" سے ضرب دے کر انہیں "null and void" قرار نہیں دیں گے، ہم مستقبل کا "ایک" (The One) تعمیر نہیں کر سکتے۔
میرا قلم صرف سوال نہیں اٹھاتا؛ وہ جواب کی طرف اشارہ بھی کرتا ہے۔
ہم ایک منقسم دور میں جی رہے ہیں۔ ہماری وفاداریاں بٹی ہوئی ہیں، ہمارے ذہن منتشر ہیں، اور ہماری روحیں زخمی ہیں۔ ہم سب "تقسیم" کے اس عذاب میں مبتلا ہیں۔
ہم سب اس عذاب سے نکلنا بھی چاہتے ہیں، مگر ہم قیمت چکانے کو تیار نہیں۔
ہم "وحدت" چاہتے ہیں، مگر "انا" کی نفی نہیں کرنا چاہتے۔
ہم "اجتماعیت" چاہتے ہیں، مگر "غیر" کو جمع نہیں کرنا چاہتے۔
ہم "امن" چاہتے ہیں، مگر "نفرت" کو صفر سے ضرب دینے کی ہمت نہیں رکھتے۔
یہ حساب بہت سادہ ہے، مگر اس پر عمل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔
اپنی "من چاہی" شناختوں، اپنے فکری بتوں، اور اپنی نرگسیت کو "نفی" کیجئے۔۔۔ تاکہ "ہم" کی اکائی وجود میں آسکے۔
ان "ان چاہے" نظریات، ان مختلف انسانوں، اور ان فکری زاویوں کو "جمع" کیجئے۔۔۔ تاکہ کثرت میں وحدت کا رنگ پیدا ہو۔
اور ہر اس نظریے، ہر اس تعصب، اور ہر اس نفرت کو جو انسان کو انسان سے جدا کرتی ہے، بلا جھجھک "صفر سے ضرب" دیجئے۔۔۔ تاکہ مساوات کا توازن قائم رہے۔
یہی وہ "حسابِ وحدت" ہے جو اگر آج ہم نے حل نہ کیا، تو تاریخ ہمیں کسی گمنام باب میں "تقسیم" کر کے "نفی" کر دے گی، اور ہمارا حاصلِ جمع "صفر" رہ جائے گا۔
فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ اپنے دماغ کے بند دریچوں کو نہیں، اپنی روح کے آئینے کو صاف کیجئے... آپ کو چودہ طبق اسی ایک نکتے میں روشن نظر آئیں گے۔
| The Account of Unity: The Negation of the Self, the Addition of the Other, and the Punishment of Division! حسابِ وحدت: انا کی نفی، غیر کی جمع، اور تقسیم کا عذاب! |