The scientific miracle of ‘non-contact’ and the quantum reality of imaginary adultery: Is masturbation simply a sin or ‘neurological suicide’?
’لا تقربوا‘ کا سائنسی اعجاز اور تصوراتی زنا کی کوانٹم حقیقت: کیا مشت زنی محض گناہ ہے یا ’نیورولوجیکل خودکشی‘؟
اکیسویں صدی کے اس پرفتن دور میں، جہاں "آزادی" کے نام پر عریانیت کو کلچر بنا دیا گیا ہے، وہاں اسلام کا ایک حکم آج بھی ہمارے لیے حیرت اور تحقیق کا مرکز بنا ہوا ہے۔
قرآن نے یہ نہیں کہا کہ
"زنا مت کرو"،
بلکہ قرآن نے ایک عجیب و غریب اصطلاح استعمال کی:
"وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ" (اور زنا کے قریب بھی مت جاؤ) [الاسراء: 32]۔
ایک عام ذہن یہ سوچتا ہے کہ "قریب جانے" اور "کرنے" میں کیا فرق ہے؟
اگر میں آگ کے قریب کھڑا ہوں اور اس میں کود نہیں رہا، تو میں محفوظ ہوں۔
لیکن جدید "نیورو بائیولوجی" (Neurobiology) نے اس خوش فہمی کے پرخچے اڑا دیے ہیں۔
سائنس نے ثابت کر دیا ہے کہ انسانی دماغ کا "اسٹارٹ اپ میکانزم" عمل (Action) سے نہیں، بلکہ "محرک" (Cue) سے شروع ہوتا ہے۔
آج ہم ثابت کریں گے کہ "قریب جانا" (یعنی فحش بینی، مشت زنی، یا تصوراتی زنا) بذاتِ خود ایک مکمل تباہی ہے، جو بعض صورتوں میں جسمانی زنا سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے۔
اور ہم اس راز سے بھی پردہ اٹھائیں گے کہ جب آپ کسی نامحرم کا تصور کر کے خود لذتی کرتے ہیں، تو آپ کوانٹم لیول پر اس معصوم وجود کے ساتھ کیا کھلواڑ کر رہے ہوتے ہیں۔
سب سے پہلے اس "قربت" (Nearness) کی سائنس کو سمجھتے ہیں۔
جب اللہ کہتا ہے کہ قریب مت جاؤ، تو وہ دراصل آپ کے دماغ کے "Limbic System" (جذباتی دماغ) کی بات کر رہا ہے۔
یونیورسٹی آف کیمبرج کی مشہور نیورو سائنٹسٹ ڈاکٹر ویلری وون نے اپنی تحقیق میں ثابت کیا کہ جب انسان کسی "جنسی محرک" (Sexual Cue) یعنی تصویر، ویڈیو یا نامحرم کو دیکھتا ہے، تو اس کے دماغ کا "Ventral Striatum" اسی وقت ایکٹیویٹ ہو جاتا ہے اور ڈوپامائن (Dopamine) کا اخراج شروع کر دیتا ہے، چاہے اس نے ابھی عمل شروع بھی نہ کیا ہو
(Reference: Voon V, et al. (2014). Neural Correlates of Sexual Cue Reactivity in Individuals with and without Compulsive Sexual Behaviours. PLOS ONE).
یہ "پیشگی ڈوپامائن" (Anticipatory Dopamine) دماغ کے Prefrontal Cortex (عقل اور فیصلے کا مرکز) کو فوراً شٹ ڈاؤن (Shut down) کر دیتا ہے۔ یعنی "قریب جانے" کا مطلب ہے کہ آپ نے اپنی عقل کا سوئچ آف کر دیا ہے۔
اسلام نے "نظر جھکانے" (غضِ بصر) کا حکم اس لیے دیا تاکہ یہ "نیورولوجیکل ہائی جیکنگ" شروع ہی نہ ہو سکے۔
اب آتے ہیں اس تلخ حقیقت کی طرف جسے لوگ "چھوٹا گناہ" یا "سیف سیکس" سمجھتے ہیں، یعنی مشت زنی (Masturbation)۔
بظاہر یہ لگتا ہے کہ اس میں کسی دوسرے کا نقصان نہیں، لیکن سائنسی اعتبار سے یہ عمل نارمل مباشرت سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔
کیوں؟
کیونکہ مباشرت (Intercourse) میں جسم ایک قدرتی سائیکل (Arousal to Resolution) سے گزرتا ہے جس میں Oxytocin اور Prolactin کا ایک توازن رہتا ہے۔
لیکن مشت زنی، خاص طور پر فحش مواد (Pornography) کے ساتھ، ایک "Supernormal Stimulus" (غیر فطری تیز محرک) ہے۔
تحقیق بتاتی ہے کہ مشت زنی کے بعد مرد کے جسم میں Prolactin ہارمون کی سطح قدرتی سیکس کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر زیادہ اور دیرپا ہوتی ہے
(Reference: Brody S, Krüger THC. (2006). The post-orgasmic prolactin rise following intercourse is greater than following masturbation and suggests greater satiety. Biological Psychology).
یہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ مشت زنی کے بعد جسم میں جو "کیمیکل تبدیلی" آتی ہے وہ "اطمینان" (Satiety) والی نہیں ہوتی، بلکہ وہ جسم کو ایک "کمی" (Deprivation) کے احساس میں چھوڑ دیتی ہے۔
ہائی پرولیکٹن لیول مردوں میں Testosterone (مردانہ ہارمون) کو دباتا ہے، جس سے سستی، ذہنی دھند (Brain Fog) اور قوتِ ارادی کی کمی واقع ہوتی ہے۔
یہ عمل انسان کو "نامردی" کے راستے پر ڈال دیتا ہے جسے سائنس PIED (Porn-Induced Erectile Dysfunction) کہتی ہے۔
(Reference: Park et al. (2016). A Global Survey of Pornography Use and Sexual Dysfunction... Journal of Sexual Medicine)
اب ذرا اس سے بھی گہرے اور خوفناک پہلو کو دیکھیں۔ جب کوئی شخص تنہائی میں بیٹھ کر کسی خاص لڑکی یا عورت (جسے اس نے بازار یا کالج میں دیکھا ہو) کا "تصور" (Fantasy) کر کے مشت زنی کرتا ہے، تو کیا اس لڑکی پر کوئی اثر پڑتا ہے؟
مادیت پرست کہیں گے "نہیں"، لیکن کوانٹم فزکس کہتی ہے,
"ہاں!"
کوانٹم میکانکس کا اصول ہے "Quantum Entanglement" (کوانٹم الجھاؤ)۔
یہ اصول کہتا ہے کہ جب دو ذرات یا شعور (Consciousness) ایک بار آپس میں رابطہ کر لیں، تو وہ فاصلے کے باوجود ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں
(Reference: Einstein, Podolsky, Rosen (EPR Paradox) & Aspect et al. (1982). Experimental Test of Bell's Inequalities using Time-Varying Analyzers. Physical Review Letters)
جب آپ پوری "توجہ" (Focus) اور "شدید جذبات" (Emotion) کے ساتھ کسی کے بارے میں سوچتے ہیں، تو آپ اپنے دماغ سے Electromagnetic Waves خارج کر رہے ہوتے ہیں۔
سائنسدان Dr. Michael Persinger نے اپنی تحقیق میں "ٹیلی پیتھی" اور "دماغی لہروں کی منتقلی" کے امکانات پر بات کی ہے۔
جب آپ کسی پاک دامن عورت کا تصور کر کے اپنی غلیظ خواہش پوری کرتے ہیں، تو آپ دراصل ایک "Psychic Attack" (نفسیاتی حملہ) کر رہے ہوتے ہیں۔
آپ کی بھیجی ہوئی یہ "منفی انرجی" اس عورت کے لاشعور (Subconscious) کو ٹکراتی ہے۔ اسے اچانک گھٹن، بے چینی یا بھاری پن محسوس ہو سکتا ہے، حالانکہ اسے وجہ معلوم نہیں ہوتی۔ یہ "روحانی زنا" ہے۔ اسلام نے بد نظری سے اسی لیے روکا کہ یہ صرف آپ کا گناہ نہیں، یہ دوسرے کی "روحانی پرائیویسی" کی خلاف ورزی ہے۔
اسی تناظر میں حدیثِ مبارکہ کو دیکھیں:
"جو عورت خوشبو لگا کر مردوں کی مجلس سے گزرے تاکہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں، وہ ایسی اور ایسی ہے (یعنی زانیہ ہے)۔" (سنن نسائی: 5126، سنن ترمذی: 2786)۔
لبرل طبقہ اسے "عورت پر پابندی" کہتا ہے، لیکن آئیے اسے "Endocrinology" (ہارمونز کی سائنس) سے پرکھتے ہیں۔
انسان کی ناک (Olfactory System) براہِ راست دماغ کے Limbic System (جذبات کے مرکز) سے جڑی ہوتی ہے۔
خوشبو (Scent/Pheromones) وہ واحد حس ہے جو "عقل کے فلٹر" (Thalamus) سے گزرے بغیر سیدھی دماغ کو ہٹ کرتی ہے۔
(Reference: Sobel N, et al. (1999). Impairment of olfactory circuitry in congenital prosopagnosia. Nature Neuroscience - General principle of Olfactory pathway)
جب ایک مرد کسی عورت کی تیز خوشبو سونگھتا ہے، تو اس کے جسم میں غیر ارادی طور پر Testosterone اور Sexual Arousal کا اسپائک (Spike) آتا ہے۔
جدید تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ عورت کی خوشبو مرد کے ٹیسٹوسٹیرون لیول کو بڑھا دیتی ہے۔
(Reference: Miller SL, Maner JK. (2010). Scent of a Woman: Men’s Testosterone Responses to Olfactory Ovulation Cues. Psychological Science)
یہ حدیث دراصل ایک "بائیولوجیکل وارننگ" ہے۔ وہ عورت جو خوشبو لگا کر نکلی، اس نے درجنوں مردوں کے "ہارمونل سسٹم" کو چھیڑ دیا، ان کے اندر ہیجان پیدا کیا، اور اس ہیجان کے نتیجے میں اگر وہ گناہ (بد نظری یا مشت زنی) کی طرف گئے، تو اس کا "سبب" (Trigger) وہ عورت بنی۔ اس لیے اسلام نے اسے اس عمل میں شریک قرار دیا۔
اب سمجھیں کہ "پردہ" اور "غضِ بصر" کیوں ضروری ہیں؟
جدید نیورو امیجنگ سٹڈیز (fMRI) بتاتی ہیں کہ مرد کا دماغ "بصری محرکات" (Visual Stimuli) کے لیے انتہائی حساس ہوتا ہے۔
جب مرد کسی عورت کے جسمانی خدوخال دیکھتا ہے، تو اس کا Amygdala (جذباتی مرکز) عورتوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے اور شدت سے ری ایکٹ کرتا ہے۔
(Reference: Hamann S, et al. (2004). Men and women differ in amygdala response to visual sexual stimuli. Nature Neuroscience)
مرد کی یہ "حیاتیاتی کمزوری" ہے کہ وہ بصری ہے۔ اسلام نے عورت کو "حجاب" کا حکم دے کر دراصل مرد کے اس "بائیولوجیکل ٹریگر" کے آگے ایک "Firewall" کھڑی کی ہے۔
یہ عورت کی قید نہیں، یہ معاشرے کی "Neuro-chemical Stability" (اعصابی کیمیائی استحکام) کا ضامن ہے۔ جب عورت پردہ کرتی ہے اور مرد نظر جھکاتا ہے، تو دونوں کے دماغ "Dopamine Loop" میں پھنسنے سے بچ جاتے ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ زنا صرف "عمل" کا نام نہیں، یہ ایک پورا "مکینزم" ہے جو نظر سے شروع ہوتا ہے، دماغ میں طوفان اٹھاتا ہے، اور جینز کی تباہی پر ختم ہوتا ہے۔
اللہ کا یہ کہنا کہ
"قریب مت جاؤ"،
دراصل ایک "Pre-emptive Strike" (پیشگی حفاظتی تدبیر) ہے۔
جو شخص مشت زنی یا فحش بینی کے ذریعے "قریب" جاتا ہے، وہ اپنے دماغی سرکٹس جلا لیتا ہے، اپنے ہارمونز کا توازن بگاڑ لیتا ہے، اور کوانٹم لیول پر معاشرے میں "روحانی آلودگی" پھیلاتا ہے۔
یہ پابندیاں نہیں، یہ انسانیت کی بقا کے "Safety Protocols" ہیں جنہیں آج کی سائنس نے مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے۔