The Sun, the Blind, And the Lamb: A Declaration of Intellectual Revolt میں سورج کو چراغ دکھانے کا مجرم کیوں بنوں؟ الحاد کے ’نفسیاتی دنگل‘ اور میری ’غیرتِ ایمانی‘ کا حتمی اعلان!

The Sun, the Blind, And the Lamb: A Declaration of Intellectual Revolt

میں سورج کو چراغ دکھانے کا مجرم کیوں بنوں؟ الحاد کے ’نفسیاتی دنگل‘ اور میری ’غیرتِ ایمانی‘ کا حتمی اعلان!

میں آج ایک بہت بھاری دل اور ایک سلگتے ہوئے دماغ کے ساتھ یہ تحریر لکھ رہا ہوں۔ 

برسوں کی خاک چھاننے، کتابوں کے انبار الٹنے، اور درجنوں مناظروں کی نالائق اور بے ہودہ محفلیں دیکھنے کے بعد، میں جس حتمی نتیجے پر پہنچا ہوں، وہ شاید آپ کو چونکا دے، شاید آپ کو تلخ لگے، لیکن سچ ہمیشہ تلخ ہی ہوتا ہے۔

میرا یہ نتیجہ، میرا یہ فتویٰ، میرے اپنے ضمیر اور میری عقل کا فیصلہ ہے، اور میں اسے آج ڈنکے کی چوٹ پر بیان کر رہا ہوں۔

میرا فیصلہ یہ ہے کہ ایک موحد (مونوتھیسٹ)، ایک اللہ کو ماننے والا، ایک صاحبِ بصیرت انسان۔۔۔ کسی بھی صورت، کسی بھی حال میں، کسی ملحد (ایتھیسٹ) کے ساتھ "خدا کے وجود" پر مناظرہ نہ کرے۔

یہ میں کیوں کہہ رہا ہوں؟ 

کیا میں ڈر گیا ہوں؟ 

کیا میرے پاس دلائل ختم ہو گئے ہیں؟

نہیں! 

خدا کی قسم نہیں!

میں یہ اس لیے کہہ رہا ہوں کہ میں نے "پاگل پن" اور "علم" کا فرق جان لیا ہے۔

میں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ دوپہر کے وقت، جب سورج سوا نیزے پر چمک رہا ہو اور اس کی تپش سے صحرا کی ریت ابل رہی ہو، اگر تب کوئی شخص اپنی آنکھیں بند کر کے، کسی تاریک غار میں بیٹھ کر چیخ رہا ہو کہ "سورج کا کوئی وجود نہیں"، تو اس کے پاس جا کر، اسٹیج سجا کر، دلائل دینا "علم" نہیں، "جہالت" ہے۔ 

اگر میں اس اندھے کے سامنے چراغ جلا کر کہوں کہ "دیکھو! وہ سورج ہے"، تو اس منظر میں وہ اندھا بیوقوف نہیں ہے، میں بیوقوف ہوں۔

کیوں؟ 

کیونکہ میں نے ایک "بدیہی حقیقت" (انشیوایٹو یا سیلف ایویڈنٹ ٹروتھ) کو ایک "متنازعہ مسئلہ" (ڈیبیٹ ایبل) بنا دیا۔ 

میں نے سورج کی توہین کی ہے۔

آج میں آپ کے سامنے اپنے اس مقدمے کی چار مضبوط ترین دیواریں کھڑی کر رہا ہوں، جو فلسفے، نفسیات، منطق اور روحانیت کے گارے سے بنی ہیں۔

1۔ میرا فلسفیانہ مقدمہ: 

"بدیہیات" پر بحث، عقل کی خودکشی ہے!

میں جب فلسفے کی تاریخ پڑھتا ہوں تو مجھے ارسطو سے لے کر ڈیکارٹ تک، سب کے ہاں ایک ہی اصول ملتا ہے: "ایکزیوم" (مسلمات/بدیہیات) پر بحث نہیں ہوتی۔

آپ مجھ سے اس پر بحث کر سکتے ہیں کہ "سمندر کا پانی نمکین کیوں ہے"، لیکن اگر آپ مجھ سے اس پر بحث کرنا چاہیں کہ "پانی گیلا ہے یا نہیں"، تو میں آپ کے ساتھ بحث نہیں کروں گا، میں آپ کو ڈاکٹر کے پاس لے جاؤں گا۔

میرے نزدیک، اور ہر اس انسان کے نزدیک جس کی عقل سلامت ہے، اللہ کا وجود کائنات کا سب سے بڑا "ایکزیوم" ہے۔

میں پوچھتا ہوں، آپ "وجود" (ایگزسٹنس) کو کیسے ثابت کریں گے؟ 

کیا آپ ثابت کر سکتے ہیں کہ آپ ابھی زندہ ہیں؟ 

یا یہ سب خواب ہے؟ 

آپ نہیں کر سکتے۔ آپ کو "ماننا" پڑتا ہے کہ آپ ہیں۔

اسی طرح، اللہ دلیل کا محتاج نہیں۔ 

اللہ دلیلوں سے ثابت نہیں ہوتا، بلکہ دلیلیں اللہ سے ثابت ہوتی ہیں۔

جیسے آنکھ سب کچھ دیکھتی ہے مگر خود کو نہیں دیکھ سکتی، کیونکہ وہ "دیکھنے کا ذریعہ" ہے، اسی طرح اللہ وہ "نور" ہے جس کی وجہ سے کائنات نظر آتی ہے۔ آپ ٹارچ جلا کر ٹارچ کو نہیں ڈھونڈتے۔

جب میں کسی ملحد کے ساتھ 

"کیا خدا ہے؟" 

کے ٹائٹل پر ڈیبیٹ ایکسیپٹ (قبول) کرتا ہوں، تو میں اسی لمحے ہار جاتا ہوں۔ 

کیوں؟ 

کیونکہ میں نے لاشعوری طور پر یہ تسلیم کر لیا کہ (نعوذ باللہ) میرا رب ایک "مشکوک شے" ہے جسے وکیل کی ضرورت ہے۔

میرا ایمان یہ ہے کہ ثبوت "ہونے" کا نہیں، "نہ ہونے" کا چاہیے۔

جو شخص کہتا ہے کہ خدا نہیں ہے، وہ کائنات کے حیرت انگیز نظم (فائن ٹیوننگ)، انسانی شعور (کانشسنس)، ڈی این اے کی پیچیدگی (جینیٹک کمپلیکسی سٹی) اور فطرت کی گواہی کے خلاف دعویٰ کر رہا ہے۔ 

وہ اربوں کہکشاؤں کے اس پرفیکٹ نظام کو "حادثہ" کہہ رہا ہے۔

یہ دعویٰ بذاتِ خود اتنا مضحکہ خیز ہے کہ اس پر بحث کرنا اپنی عقل کی توہین ہے۔

2۔ میرا نفسیاتی مقدمہ: 

الحاد "رائے" نہیں، "ذہنی خلل" ہے!

میں نے درجنوں ملحدین کا نفسیاتی تجزیہ (سائیکواینالسز) کیا ہے۔ 

میرا یہ پختہ یقین ہے کہ الحاد کوئی "علمی پوزیشن" (انٹلیکچوئیل پوزیشن) نہیں ہے، یہ ایک "نفسیاتی بیماری" (سائیکلوجیکل ڈس آرڈر) ہے۔

جدید سائنس (نیورو سائنسز) چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ انسانی دماغ کی ساخت (وائرنگ) ایسی ہے کہ وہ "خالق" کو ماننے پر مجبور ہے۔ 

"دی گاڈ جین" کا تصور ہو یا بچوں کی نفسیات پر ہونے والی تحقیق، سب بتاتے ہیں کہ بچہ "موحد" پیدا ہوتا ہے۔

تو پھر یہ ملحد کون ہیں؟

میری نظر میں یہ وہ لوگ ہیں جو "باپ" (اتھاریٹی) سے بغاوت کے نفسیاتی عارضے (اوڈیپس کمپلیکس آف سپریچوئیلٹی) کا شکار ہیں۔ 

یہ خدا کا انکار دلیل کی بنیاد پر نہیں کرتے، بلکہ اپنی "خواہشات کی آزادی" کے لیے کرتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ اگر خدا کو مان لیا تو اخلاقی پابندیاں ماننی پڑیں گی۔

میں ایسے لوگوں کو "ذہنی مریض" سمجھتا ہوں۔

اور میرا ضمیر مجھے اجازت نہیں دیتا کہ میں کسی مریض کو "اسکالر" سمجھ کر اس سے مناظرہ کروں۔ 

مریض کا علاج کیا جاتا ہے، اس کے واہیات سوالوں کو "علمی اعتراض" نہیں سمجھا جاتا۔

یہ لوگ جو خود کو "بندر کی اولاد" مان کر فخر محسوس کرتے ہیں، اور جن کے نزدیک کائنات ایک "اندھا، بہرہ اور گونگا حادثہ" ہے، ان کے پاس "سچ" اور "جھوٹ" کا پیمانہ ہی کیا ہے؟

جو اپنے وجود کو حادثہ سمجھتا ہو، اس کی بات کا کیا وزن؟

3۔ میرا سماجی مقدمہ: 

مناظرہ نہیں، یہ "شیطانی دنگل" ہے!

میں آج کل کے یوٹیوب اور سوشل میڈیا کے مناظروں کو دیکھتا ہوں تو مجھے گھن آتی ہے۔

یہ "حق کی تلاش" ہے؟ ہرگز نہیں!

یہ "دنگل" (ریسلنگ میچ) ہے۔ یہ ایک تماشا ہے۔

ملحدین مجھے اور آپ کو چیلنج اس لیے نہیں دیتے کہ وہ سچ سننا چاہتے ہیں۔ 

وہ چیلنج اس لیے دیتے ہیں کیونکہ انہیں "تماشائی" چاہییں۔ 

انہیں اپنی ریٹنگز بڑھانی ہیں۔ 

انہیں مومنین کے جذبات مجروح کر کے لطف آتا ہے۔

یہ "سیڈسٹکس پلیژر" ہے۔

اگر میں ان کے ساتھ مائیک لگا کر بیٹھتا ہوں، تو میں ان کے اس "شیطانی ایجنڈے" کا حصہ بن جاتا ہوں۔ 

میں انہیں وہ "عزت" اور "برابری" دے دیتا ہوں جس کے وہ ہرگز مستحق نہیں۔

میں نے دیکھا ہے کہ ان مباحثوں میں منطق نہیں ہوتی، صرف "جملے بازی"، "طنز"، "ہوٹنگ" اور "تضحیک" ہوتی ہے۔

کیا میں اپنے رب کے نام، اس ذاتِ باری تعالیٰ کے تقدس کو، ان مسخروں کے حوالے کر دوں؟

کیا میری غیرتِ ایمانی یہ گوارا کر سکتی ہے کہ ایک طرف اللہ کا نام لیا جا رہا ہو اور دوسری طرف کوئی بدبخت اس پر قہقہہ لگا رہا ہو، اور میں وہاں بیٹھ کر "باری" کا انتظار کروں؟

نہیں! 

واللہ نہیں!

میرا ماننا ہے کہ ایسے "ساک شات شیطانوں" کے ساتھ بیٹھنا بھی گناہ ہے۔ 

یہ وہ مجالس ہیں جن کے بارے میں قرآن نے کہا ہے کہ 

"وہاں سے اٹھ جاؤ۔"

یہ مکالمہ نہیں، یہ "روحانی وائرس" پھیلانے کا سینٹر ہے۔

4۔ میرا منطقی مقدمہ: 

"ثبوت کا بوجھ" اور ان کا دھوکہ!

مجھے ان ملحدین کی چالاکی پر ہنسی آتی ہے جب یہ سینہ تان کر کہتے ہیں: 

"تم کہتے ہو خدا ہے، تو تم ثابت کرو۔"

میں ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتا ہوں: جھوٹ بولتے ہو تم!

ثبوت تم پر واجب ہے، مجھ پر نہیں۔

سائنس کا اصول ہے: 

"Extraordinary claims require extraordinary evidence".

میں تو وہی کہہ رہا ہوں جو پوری انسانی تاریخ، 124,000 انبیاء، اور اربوں انسانوں کا مشاہدہ ہے۔

میں "نارمل" بات کر رہا ہوں۔

"غیر معمولی دعویٰ" تو تم کر رہے ہو!

تمہارا دعویٰ ہے کہ:

مردہ مادے (ڈیڈ میٹر) سے اچانک زندگی پھوٹ پڑی (ایب او جینیسس)۔

بغیر کسی مقصد کے آنکھ بن گئی جو دیکھتی ہے۔

بغیر کسی ڈیزائنر کے ڈی این اے کا کوڈ لکھ دیا گیا۔

بغیر کسی ارادے کے یہ کائنات وجود میں آگئی۔

یہ ہیں وہ "معجزات" جن پر ایک ملحد ایمان لاتا ہے۔ 

میں تو صرف ایک خدا کو مانتا ہوں، یہ ملحد تو اربوں "ناممکنات" (امپوسیبلیٹیز) کو مانتے ہیں۔

تو پھر ثابت کسے کرنا چاہیے؟ 

مجھے یا انہیں؟

میں چیلنج کرتا ہوں کہ ایک سوئی (نیڈل) بھی بغیر بنانے والے کے بنا کر دکھا دو۔ جب تم ایک سوئی "خود بخود" بننے کا ثبوت نہیں دے سکتے، تو پوری کائنات کے خود بخود بننے کا دعویٰ کس منہ سے کرتے ہو؟

اور پھر ان کا یہ مطالبہ کہ 

"خدا کو لیبارٹری میں لاؤ"۔

یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی تھرمامیٹر سے کہے کہ مجھے "خوبصورتی" ناپ کر دکھاؤ۔

میں ایسے احمقوں سے کیا بات کروں جو آلے (انسٹرومنٹ) کی حدود کو حقیقت کی حدود سمجھتے ہیں؟ 

جو اپنی عینک کے شیشے کو کائنات کی وسعت سمجھتے ہیں؟

میرا حتمی اعلان اور لائحہ عمل

میرے دوستو! 

میرے بھائیو!

میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اللہ کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں، اللہ "نظر" آتا ہے۔

پھول کے کھلنے میں، 

کہکشاں کے گھومنے میں، 

سمندر کی لہروں میں، 

اور خود اس ملحد کے دل کی دھڑکن میں جس پر اس کا اپنا کوئی اختیار نہیں۔

یہ دو متضاد قوتیں ہیں۔

ایک طرف "نور" ہے، جو مثبت (پوزیٹو) ہے۔

دوسری طرف "ظلمت" (الحاد) ہے، جو محض "روشنی کا نہ ہونا" (ابسینس آف لائٹ) ہے۔

اندھیرے کا اپنا کوئی وجود نہیں ہوتا۔

میں اندھیرے سے لڑ نہیں سکتا، میں اس سے مناظرہ نہیں کر سکتا، میں اس سے بحث نہیں کر سکتا۔

میں صرف ایک کام کر سکتا ہوں: 

میں چراغ جلا سکتا ہوں۔

میں ان "پاگلوں" کو، جنہیں نامعلوم وجوہات کی بنا پر پاگل خانے سے باہر گھومنے کی آزادی مل گئی ہے، ان کے حال پر چھوڑتا ہوں۔ 

میں ان کے ساتھ الجھ کر اپنا وقت، اپنی توانائیاں اور اپنا سکون برباد نہیں کروں گا۔

میرا مشن "منوانا" نہیں، "پہنچانا" ہے۔

جو "تلاش" میں آئے گا، میں اس کے لیے پلکیں بچھا دوں گا، دل چیر کر رکھ دوں گا۔

لیکن جو "دنگل" سجانے آئے گا، جو میرے رب کا مذاق اڑانے آئے گا، جو اپنی ہٹ دھرمی اور انا کی تسکین کے لیے آئے گا۔۔۔ 

اس کے لیے میرے پاس دلیل نہیں، صرف وہ "خاموشی" ہے جو سب سے بڑا طمانچہ ہے۔

میرا راستہ "قرآن" کا راستہ ہے:

"وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا"

(اور جب جاہل ان سے مخاطب ہوتے ہیں تو وہ کہتے ہیں: سلام!)

یہ سلام بزدلی کا نہیں، یہ "علمی وقار" کا سلام ہے۔ 

یہ ایک عاقل کا جہلا کو جواب ہے کہ 

"تم لگے رہو، میں اپنا سفر جاری رکھوں گا۔"

میں اپنا ایمان بچاؤں گا، میں اپنی نسلوں کو بچاؤں گا، اور میں ان "ذہنی مریضوں" کے لیے صرف ہدایت کی دعا کروں گا, یا پھر انہیں ان کے اپنے اندھیروں میں گل سڑ جانے کے لیے چھوڑ دوں گا۔

یہی میرا فیصلہ ہے، اور یہی میرا جہاد ہے۔

The Sun, the Blind, And the Lamb: A Declaration of Intellectual Revolt میں سورج کو چراغ دکھانے کا مجرم کیوں بنوں؟ الحاد کے ’نفسیاتی دنگل‘ اور میری ’غیرتِ ایمانی‘ کا حتمی اعلان!
The Sun, the Blind, And the Lamb: A Declaration of Intellectual Revolt میں سورج کو چراغ دکھانے کا مجرم کیوں بنوں؟ الحاد کے ’نفسیاتی دنگل‘ اور میری ’غیرتِ ایمانی‘ کا حتمی اعلان!

Post a Comment

Previous Post Next Post