Three perspectives, one reality: A psychological and scientific analysis of the monotheist, polytheist, and atheist! تین زاویے، ایک حقیقت: موحد، مشرک اور ملحد کا نفسیاتی و سائنسی تجزیہ!

Three perspectives, one reality: A psychological and scientific analysis of the monotheist, polytheist, and atheist!

تین زاویے، ایک حقیقت: موحد، مشرک اور ملحد کا نفسیاتی و سائنسی تجزیہ!

انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو انسان نے کائنات کو سمجھنے کے لیے بنیادی طور پر تین ہی عینکیں استعمال کی ہیں۔ 

یا تو اس نے ہر طاقتور شے کو خدا مانا (شرک)، یا اس نے خدا کا انکار کر کے خود کو محور مان لیا (الحاد)، اور یا پھر اس نے کثرت کے پیچھے چھپی وحدت کو تلاش کر لیا (توحید)۔

آج کے جدید دور میں، جب ہم سائنس، نفسیات (سائیکالوجی)، عمرانیات (سوشل سائنسز) اور فنون (آرٹس) کی ترقی یافتہ منزل پر کھڑے ہیں، یہ سوال انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ انسان کا کون سا "نظریہ حیات" (ورلڈ ویو) سب سے زیادہ پائیدار (سسٹین ایبل)، منطقی (لاجیکل) اور صحت مند ہے؟

آئیے ان تینوں مکاتبِ فکر کا ایک غیر جانبدارانہ پوسٹ مارٹم کرتے ہیں۔

1- نفسیات (سائیکالوجی): ذہنی سکون اور انسانی شعور

نفسیات کا بنیادی اصول ہے کہ انسانی ذہن اسی وقت بہترین کارکردگی دکھاتا ہے جب اس کا "مرکز اور محور" (فوکس) ایک ہو۔

پولی تھیسٹ (مشرک) کا ذہنی انتشار: 

شرک، نفسیاتی طور پر ایک "منقسم شخصیت" (سپلٹ پرسنالٹی) کی کیفیت کا نام ہے۔ 

مشرک کا ذہن خوف اور امید کی درجنوں سمتوں میں بٹا ہوتا ہے۔ 

اسے دولت کے لیے الگ دیوتا کو راضی کرنا ہے، صحت کے لیے الگ، اور موت سے بچنے کے لیے الگ۔ 

یہ کیفیت انسان کو دائمی "تشویش" (اینگزائٹی) اور توہمات (سپر سٹیشنز) میں مبتلا رکھتی ہے۔ 

ایسا انسان کبھی بھی مکمل ذہنی آزادی محسوس نہیں کر سکتا کیونکہ وہ ہر وقت کسی نہ کسی نادیدہ ناراضگی کے خوف میں مبتلا رہتا ہے۔

ایتھیسٹ (ملحد) کا وجودی خلا:

بظاہر الحاد انسان کو خدا کے خوف سے آزاد کرتا ہے، لیکن یہ اسے ایک اس سے بھی بڑے اور خوفناک بوجھ تلے دبا دیتا ہے، اور وہ بوجھ ہے "لا یعنیت" (نہل ازم)۔ 

مشہور ماہرِ نفسیات کارل ینگ اور وکٹر فرینکل کے مطابق انسان کی سب سے بڑی نفسیاتی ضرورت "معنی" (میننگ) کی تلاش ہے۔ 

الحاد کے پاس زندگی کا کوئی معروضی مقصد (آبجیکٹو پرپز) نہیں ہے۔ ملحد کے لیے انسان محض ایک "کیمیکل حادثہ" ہے۔ 

یہ سوچ جدید معاشروں میں ڈپریشن اور خودکشی (سوسائڈ) کے رجحان میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ ہے، کیونکہ جب انسان خود کو محض ایک ذہین جانور سمجھ لے، تو اس کی اندرونی بے چینی اسے کھا جاتی ہے۔

مونو تھیسٹ (موحد) کا ذہنی ارتکاز:

اس کے برعکس، توحید انسانی نفسیات کو "مرکزیت" (سنٹرلائزیشن) عطا کرتی ہے۔ 

موحد کا ذہن بکھرا ہوا نہیں ہوتا۔ وہ جانتا ہے کہ نفع اور نقصان کا مالک صرف ایک "ذات" ہے۔ 

یہ یقین اسے توہمات کے خوف سے آزاد کرتا ہے اور اسے "عزتِ نفس" (سیلف سٹیم) کی بلندیوں پر لے جاتا ہے۔ 

نفسیاتی طور پر، ایک موحد انسان سب سے زیادہ مضبوط اعصاب کا مالک ہوتا ہے کیونکہ اس کا سہارا (اینکر) وہ ذات ہوتی ہے جو کبھی فنا نہیں ہوتی۔

2- سائنس اور کونیات (کاسمولوجی): کائنات کی تفہیم

سائنس کا سفر دراصل "کثرت میں وحدت" تلاش کرنے کا سفر ہے۔

شرک اور سائنس کا تصادم:

تاریخی طور پر شرک سائنسی ترقی کی راہ میں رکاوٹ رہا ہے۔ جب انسان سورج، چاند، دریا اور درختوں کو "مقدس دیوتا" مان لے، تو وہ ان پر تحقیق (ریسرچ) کرنے کی جسارت نہیں کر سکتا۔ 

آپ خدا کا آپریشن نہیں کر سکتے، آپ خدا پر ڈیم نہیں بنا سکتے۔ 

شرک نے انسان کو مظاہرِ فطرت (نیچر) کا غلام بنا کر رکھا۔

الحاد کی منطقی خامی:

ملحد سائنسدان "کیسے" (ہاؤ) کا جواب تو دے سکتا ہے، لیکن "کیوں" (وائے) پر آ کر لاجواب ہو جاتا ہے۔ 

الحاد کا دعویٰ ہے کہ کائنات ایک حادثہ ہے۔ لیکن سائنس کہتی ہے کہ کائنات سخت ترین "قوانین" (لاز) کی پابند ہے۔

حادثات کبھی بھی "نظم" (آرڈر) پیدا نہیں کرتے۔ ایک بگ بینگ سے اربوں کہکشاؤں کا ریاضیاتی توازن (فائن ٹیوننگ) کے ساتھ وجود میں آ جانا، اور پھر اس میں زندگی کا پنپنا، ریاضیاتی طور پر ناممکن (امپاسیبل) ہے۔ 

ملحد کائنات کے "ڈیزائن" کو تو تسلیم کرتا ہے لیکن "ڈیزائنر" کا انکار کرتا ہے، جو کہ ایک منطقی تضاد (لاجیکل فیلیسی) ہے۔

توحید بطور سائنسی بنیاد:

اسلامی توحید نے آ کر دو انقلابی کام کیے۔ 

اول، اس نے فطرت سے "تقدس" چھین لیا اور بتایا کہ یہ سورج چاند خدا نہیں بلکہ خدا کی مخلوق ہیں، لہٰذا ان پر تحقیق کرو۔ 

دوم، اس نے یہ تصور دیا کہ چونکہ خالق "ایک" ہے، اس لیے پوری کائنات میں "ایک ہی قانون" (یونیفائیڈ لاء) جاری ہوگا۔ 

مشہور مؤرخین سائنس تسلیم کرتے ہیں کہ جدید سائنسی طریقہ کار (سائنٹیفک میتھڈ) کی بنیاد اسی توحیدی سوچ نے رکھی کہ کائنات ایک "انٹیلیجنٹ ڈیزائن" ہے جسے انسانی عقل سمجھ سکتی ہے۔

3- عمرانیات اور بشریات (سوشل سائنسز): سماجی انصاف کا ماڈل

معاشرے کی تشکیل میں عقیدہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

مشرکانہ معاشرہ اور طبقاتی تقسیم:

شرک ہمیشہ طبقاتی تقسیم (کاسٹ سسٹم) کو جنم دیتا ہے۔ 

جیسے دیوتاؤں میں درجہ بندی ہوتی ہے (بڑے اور چھوٹے دیوتا)، ویسے ہی انسانوں میں بھی اونچ نیچ پیدا ہو جاتی ہے۔ 

قدیم ہندوازم اور یونانی معاشروں میں انسانوں کو غلام اور آقا میں تقسیم کرنا ان کے مذہبی عقائد کا حصہ تھا۔ 

شرک سماجی مساوات (سوشل ایکویلٹی) کا سب سے بڑا دشمن ہے۔

ملحدانہ معاشرہ اور اخلاقیات کا فقدان:

الحاد میں "اخلاقیات" (موریلیٹی) کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہوتی۔ یہاں قانون "جس کی لاٹھی اس کی بھینس" (سرواِئیول آف دی فٹیسٹ) کا ہوتا ہے۔ 

اگر کوئی خدا نہیں، تو ہٹلر اور مدر ٹریسا میں کوئی فرق نہیں، دونوں مادی ذرات کا مجموعہ ہیں۔ ملحدانہ معاشروں (جیسے کمیونسٹ دور میں روس اور چین) نے تاریخ کے بدترین قتلِ عام دیکھے کیونکہ وہاں انسانی جان کی کوئی "مقدس حیثیت" (سینکٹیٹی) نہیں تھی۔ 

حقوق صرف "ریاست" طے کرتی تھی، اور ریاست جب چاہے حقوق چھین لیتی تھی۔

توحید اور انسانی مساوات:

عمرانیات کے تناظر میں، توحید انسانی حقوق کا سب سے بہترین چارٹر ہے۔ 

"لا الہ الا اللہ" کا مطلب ہی یہ ہے کہ کائنات میں کوئی انسان دوسرے انسان کا رب نہیں بن سکتا۔ 

سب ایک ہی خالق کا کنبہ ہیں۔ یہ عقیدہ نسل پرستی (ریسزم) اور بادشاہت کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔ 

انسانوں کے حقوق انسانوں نے نہیں بلکہ خدا نے طے کر دیے ہیں، اس لیے انہیں کوئی پارلیمنٹ یا ڈکٹیٹر چھین نہیں سکتا۔ 

ایک صحت مند اور عادلانہ معاشرہ صرف توحید کی بنیاد پر قائم ہو سکتا ہے۔

4- فن اور جمالیات (ایستھیٹکس): حسن کا معیار

آرٹ کسی بھی قوم کے اجتماعی شعور کا آئینہ ہوتا ہے۔

مشرک کا آرٹ مورتیاں تراشنے اور جسمانی خدوخال میں قید رہتا ہے۔ وہ لامحدود حقیقت کو محدود پتھروں میں قید کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔

ملحد کا آرٹ جدید دور میں "بیہودگی" (ایبسرڈزم) اور انتشار کا شکار ہے۔ یہ انسان کے اندرونی خالی پن اور مایوسی کی عکاسی کرتا ہے۔

موحد کا آرٹ (اسلامی آرٹ) جیومیٹری، کیلی گرافی اور لامتناہی نقش و نگار (عربیسک) پر مبنی ہے۔ یہ آرٹ ناظر کو "محدود" سے نکال کر "لامحدود" (انفینیٹی) کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ کائنات میں ایک ایسا توازن اور حسن ہے جو کسی صورت گری کا محتاج نہیں۔

اس تمام علمی، سائنسی اور سماجی جائزے کا نتیجہ بالکل واضح ہے۔

شرک ایک قدیم اور فرسودہ نظام ہے جو انسانی عقل اور وقار کے منافی ہے۔

الحاد ایک جذباتی ردعمل (ری ایکشن) ہے جو انسان کو مایوسی اور بے مقصدیت کے اندھیرے میں دھکیل دیتا ہے۔

جبکہ توحید ہی وہ واحد راستہ ہے جو انسانی عقل کو مطمئن کرتا ہے (سائنس)، دل کو سکون دیتا ہے (نفسیات)، اور معاشرے کو عدل فراہم کرتا ہے (عمرانیات)۔

فلسفیانہ طور پر بھی، اگر ہم "پاسکل کی شرط" (پاسکلز ویجر) کو دیکھیں، تو توحید کا راستہ ہی سب سے محفوظ اور دانشمندانہ ہے۔ 

اگر آخرت برحق ہے (جیسا کہ ہر دلیل اشارہ کر رہی ہے)، تو موحد "ابدی کامیابی" (اٹرنل سکسیس) کا حقدار ہوگا، جبکہ منکرین کے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہ ہوگا۔

عقلِ سلیم کا تقاضا یہی ہے کہ انسان اس کائنات کو ایک حادثہ سمجھنے کی بجائے اسے ایک بامقصد تخلیق سمجھے اور اپنے "اصل" (اوریجن) سے جڑ جائے۔ یہی فلاح کا راستہ ہے۔

Three perspectives, one reality: A psychological and scientific analysis of the monotheist, polytheist, and atheist! تین زاویے، ایک حقیقت: موحد، مشرک اور ملحد کا نفسیاتی و سائنسی تجزیہ!
Three perspectives, one reality: A psychological and scientific analysis of the monotheist, polytheist, and atheist! تین زاویے، ایک حقیقت: موحد، مشرک اور ملحد کا نفسیاتی و سائنسی تجزیہ!

Post a Comment

Previous Post Next Post