Prayer from the spirit of scienceدعا سائنس کی روح سے
دنیاوی زندگی میں انسان کی خواہشات اس کی زندگی پر ایک گہری چھاپ مرتب کرتی ہیں۔ ان خواہشات کی تکمیل کیلیے انسان کئی ذرائع اختیار کرتا ہے۔ اسلام نے اس کا بہترین حل دعا کی سورت میں پیش کیا ہے جس کے ذریعے انسان مالک الکائنات کے سامنے اپنی خواہشات رکھتا ہے۔ ہر ذی شعور مسلمان کا اس بات پہ پختہ یقین ہے کہ اگر دعا پورے یقین کے ساتھ مانگی جائے تو وہ ضرور قبول ہوتی ہے۔ اکثر ہمارے ذہن میں آتا ہے کہ یہ کس طرح ممکن ہے۔
اس کو سمجھنے کیلیے پہلے ہمیں اسلام میں ہی دعا کے تصور کو سمجھنا ہوگا۔ دعا مانگنے کیلیے ضروری ہے کہ انسان کو کامل یقین ہونا چاہیے کہ کوئی ذات اس کی دعائوں کو سن رہی ہے اور وہ اس کی یہ پریشانی یا خواہش ضرور پوری ہو جائے گی۔ اگر دعا سے یقین نکال لیا جائے تو وہ پوری نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بہت کم لوگوں کی دعا قبول ہوتی ہے۔ حالانکہ رب تو وہی ہے جس نے حضرت ابراہیمؑ کو آگ میں بھی محفوظ رکھا جس نے حضرت یونسؑ کو مچھلی کے پیٹ میں زندہ رکھا۔ ان کی دعا اور ہماری دعا میں صرف ایک یقین کا فرق تھا۔
اگر اس چیز کو سائنس کے مطابق دیکھا جائے تو آپ کو Conscious اور Subconscious مائنڈ کے تصور کو سمجھنا ہوگا۔ اگر اس کو عام الفاظ میں بیان کیا جائے تو ہمارے دماغ کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے کانشیس اور سب کانشیس مائنڈ میں۔ جب بھی آپ کوئی کام اپنی مرضی اے کرتے ہیں جیسا کہ سوچتے ہیں تو وہ کانشیش مائنڈ کنٹرول کرتا ہے اور وہ کام جو آپ کے ہاتھ میں نہیں ہوتے ان کو سب کانشیس مائنڈ کنٹرول کرتا ہے جیسا کہ کسی کے متعلق جذبات۔ سائنس کے مطابق کانشیس مائنڈ سب کانشیس مائنڈ کا دروازہ ہے۔ آپ جو سوچتے ہیں وہی آپ کے سب کانشیس کا حصہ بن کر آپ کی زندگی کو کنٹرول کرتا ہے۔ اگر آپ کسی بھی چیز کے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہیں تو وہ ہونے لگتا ہے۔ اب آپ جب دعا کرتے ہیں اس یقین کے ساتھ کہ یہ لازمی ہوگا تو وہ آپ کے سب کانشیس مائنڈ کا حصہ بن جاتا ہے اور پھر آپ کا سب کانشیس مائنڈ ایسی انرجی ویوز خارج کرتا ہے جو قدرت کے نظام کو آپ کا مطابق چلانے لگتا ہے۔ مثلا اگر آپ سوچتے ہیں کہ آپ بیمار ہیں تو کچھ دن بعد آپ واقع بیمار ہو جاتے ہیں۔ اور اگر آپ حد درجہ بیماری میں یہ سوچتے ہیں کہ آپ تندرست ہین تو آپ کی طبیعت تندرستی کی طرف مائل ہو جاتی ہے۔
لا آف اٹریکشن اس چیز کو بڑے واضح الفاظ میں بیان کرتا ہے:
"Whatever we direct our powerful focus upon within the invisible realm of our thoughts, beliefs and emotions eventually manifests into outer form,” claims Whitman
لا آف اٹریکشن کے مطابق اگر آپ کسی بھی چیز کو حاصل کرنے پر پکا یقین رکھتے ہیں تو قدرت آپ کی مدد کرنے لگ جاتی ہے اور آپ کیلیے ایسے مواقع پیدا کرتی ہے کہ آپ آخر کار اس کو پا لیتے ہیں۔
![]() |
| Prayer from the spirit of science دعا سائنس کی روح سے |
