The Universe's Dance of Blessings: When Physics Reads 'Poetry' and Poetry Solves 'Equations'!
کائنات کا رقصِ بسمل: جب فزکس ’شعر‘ پڑھتی ہے اور شاعری ’مساواتیں‘ حل کرتی ہے!
مجھے اکثر دوست، اور خاص طور پر وہ ناقدین جن کی دنیا صرف "ڈیٹا شیٹس" اور "لیبارٹری کی چار دیواری" تک محدود ہے، یہ طعنہ دیتے ہیں کہ میری تحریریں سائنس کم اور "فلسفیانہ شاعری" یا "مذہبی داستان" زیادہ لگتی ہیں۔
وہ کہتے ہیں،
"صاحب! یہ فکشن ہے، یہ آرٹ ہے، یہ سائنس نہیں ہے۔"
آج میں ان تمام دوستوں کو ایک دعوتِ فکر دینا چاہتا ہوں، اور شاید ایک چیلنج بھی۔
میرے دوستو!
آپ نے سائنس کو ویسا سمجھا ہی نہیں جیسا اس کو سمجھنے کا حق ہے۔ آپ نے سائنس کو محض خشک اعداد و شمار، بے روح فارمولوں اور ٹیسٹ ٹیوبز کا مجموعہ سمجھ لیا ہے۔
آپ کے نزدیک آئن سٹائن کی مساوات (Equation) اور غالب کے شعر میں تضاد ہے۔ مگر میری نظر میں۔۔۔ یہ دونوں ایک ہی حقیقت کی تفسیر ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ سائنس اپنی انتہا پر پہنچ کر "آرٹ" بن جاتی ہے، اور آرٹ اپنی گہرائی میں اتر کر "سائنس" بن جاتا ہے۔
ذرا کائنات کے کینوس پر نظر ڈالیں۔
کیا بگ بینگ (Big Bang) محض ایک دھماکہ تھا؟
یا یہ وجود کا سب سے بڑا "ڈرامہ" تھا؟
جب ایک سنگولیریٹی (Singularity) پھٹی اور اس سے کہکشاؤں کے رنگ بکھرے، تو کیا وہ منظر کسی مصور کے شاہکار سے کم تھا؟
اگر آپ اسے صرف "تھرمو ڈائنامکس" کی نظر سے دیکھتے ہیں تو آپ اندھے ہیں، اور اگر آپ اسے خالق کے "کن" کا فنی اظہار سمجھتے ہیں تو آپ بینا ہیں۔
سائنس دان جب DNA کا ڈبل ہیلکس (Double Helix) دیکھتا ہے، تو اسے کیا نظر آتا ہے؟
محض کیمیکلز؟
نہیں۔
اسے ایک "زبان" نظر آتی ہے،
ایک "کوڈ" نظر آتا ہے،
ایک ایسی "نظم" نظر آتی ہے جو چار حروف (A, C, T, G) پر مشتمل ہے اور جس نے زندگی کا پورا افسانہ لکھ دیا ہے۔
کیا یہ شاعری نہیں ہے؟
کیا یہ ادب نہیں ہے؟
فرق صرف اتنا ہے کہ شاعر الفاظ سے مصرعے بناتا ہے اور نیچر (فطرت) ایٹموں سے مصرعے جوڑتی ہے۔ دونوں کا مقصد "اظہار" (Expression) ہے۔
اور لوگ کہتے ہیں کہ میں سائنس میں "مذہب" لے آتا ہوں؟
خدا کے لیے!
سائنس "مذہب" کے بغیر اندھی ہے۔
سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ "کیسے" (How) ہوا، مذہب بتاتا ہے کہ "کیوں" (Why) ہوا۔
نیوٹن جب گریویٹی کے قوانین لکھ رہا تھا، تو وہ خدا کی "عادت" کو دریافت کر رہا تھا۔
آئن سٹائن جب "کائناتی مستقل" (Cosmological Constant) پر غور کر رہا تھا، تو وہ دراصل اس "توازن" کو ڈھونڈ رہا تھا جسے قرآن "میزان" کہتا ہے۔
جب میں کہتا ہوں کہ الیکٹران کا نیوکلئس کے گرد گھومنا "طواف" ہے، تو میں سائنس کی نفی نہیں کر رہا، میں سائنس کو اس کا "روحانی مقام" دے رہا ہوں۔ یہ جو ایٹموں کے اندر رقص ہے، یہ وہی رقص ہے جو رومی کی شاعری میں ہے۔
مسئلہ سائنس کا نہیں، مسئلہ آپ کے "خانوں" (Boxes) میں بٹے ہوئے ذہنوں کا ہے۔
مغرب نے آپ کو سکھا دیا کہ لیبارٹری الگ ہے اور مسجد الگ۔
آرٹ گیلری الگ ہے اور ریسرچ سینٹر الگ۔
میں اس تقسیم کا شدید ناقد اور منکر ہوں۔
میرے نزدیک ’febonacci Sequence‘ (گولڈن ریشو) بیک وقت ریاضی کا فارمولا بھی ہے، سورج مکھی کے پھول کا آرٹ بھی ہے، اور خالق کے حسین ڈیزائن کی آیت بھی ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ تاریخ کے سب سے بڑے سائنسدان سب سے بڑے "آرٹسٹ" اور "مفکر" بھی تھے؟
لیونارڈو ڈا ونچی کو دیکھیے۔ اس کی پینٹنگز میں اناٹومی (سائنس) تھی اور اس کی مشینری کے خاکوں میں آرٹ تھا۔
عمر خیام کو دیکھیے، وہ بیک وقت ریاضی دان بھی تھا اور ایسا شاعر بھی جس کی رباعیاں آج بھی دلوں کو تڑپاتی ہیں۔ وہ "الجبرا" حل کرتے کرتے "خدا" تک پہنچتے تھے۔
آج کا ٹیکنوکریٹ سمجھتا ہے کہ اگر تحریر میں "جذبہ" آ گیا تو وہ "غیر سائنسی" ہو گئی۔
یہ جہالت ہے۔
جذبہ ہی تو وہ ایندھن ہے جو انسان کو مریخ تک لے جانے کی سوچ دیتا ہے۔
اگر ایلون مسک کے اندر "خیال کا جنون" (شاعرانہ پاگل پن) نہ ہوتا، تو وہ راکٹ کبھی نہ بنا پاتا۔ ہر بڑی دریافت کے پیچھے ایک "خواب" ہوتا ہے، اور خواب دیکھنا "آرٹ" ہے۔
لہٰذا، جب میں بلیک ہولز کے بارے میں لکھتے ہوئے "فنا اور بقا" کا ذکر کروں، یا کوانٹم اینٹینگلمنٹ (Quantum Entanglement) کو "روحوں کے رابطے" سے تشبیہ دوں، تو یہ مت سمجھیے کہ میں سائنس سے دور جا رہا ہوں۔
میں دراصل سائنس کو اس کی معراج پر لے جا رہا ہوں جہاں فزکس اور میٹافزکس گلے ملتے ہیں۔
یہ کائنات ایک "مشین" نہیں ہے، میرے دوستو! یہ ایک "نظم" ہے۔
اس کے قوانین اس کے "بحر و اوزان" ہیں۔
اور سائنسدان اس نظم کی "تشریح" کرنے والا نقاد ہے۔
آئندہ میری تحریر میں "فکشن" کا الزام لگانے سے پہلے سوچیے گا کہ کیا "حقیقت" خود کسی افسانے سے کم حیران کن ہے؟
میں لکیریں مٹانے آیا ہوں، کھینچنے نہیں۔
میری تحریر میں دلیل، دل اور دین ساتھ ساتھ چلیں گے۔
جو انہیں الگ الگ دیکھنا چاہتا ہے، وہ اپنی عینک بدلے، میرا قلم نہیں۔
| The Universe's Dance of Blessings: When Physics Reads 'Poetry' and Poetry Solves 'Equations'! کائنات کا رقصِ بسمل: جب فزکس ’شعر‘ پڑھتی ہے اور شاعری ’مساواتیں‘ حل کرتی ہے! |