Denial of God or escape from oneself? خدا کا انکار یا خود سے فرار؟

Denial of God or escape from oneself?

خدا کا انکار یا خود سے فرار؟

میرے دوستو!

اگر آپ ایک کمرے میں داخل ہوں اور وہاں ایک میز پر گرم چائے کا کپ رکھا ہو جس سے بھاپ نکل رہی ہو، تو آپ کا دماغ فوراً کیا نتیجہ اخذ کرے گا؟

کیا آپ یہ سوچیں گے کہ یہ چائے خود بخود ہوا کے مالیکیولز کے ٹکرانے سے بنی، کیتلی خود گرم ہوئی اور کپ میز پر آ گیا؟ 

یا آپ فوراً سمجھ جائیں گے کہ "ابھی کچھ لمحے پہلے یہاں کوئی موجود تھا"؟

یقیناً دوسرا آپشن۔

لیکن عجیب بات ہے کہ جب یہی انسان اس کائنات کی کھڑکی سے باہر جھانکتا ہے، جہاں اربوں کہکشائیں ایک باریک ترین ریاضیاتی توازن (Fine-Tuning) کے ساتھ رقص کر رہی ہیں، تو وہ کہتا ہے: 

"یہاں کوئی نہیں ہے... یہ سب حادثہ ہے۔"

آج ہم اس "حادثے" کے نظریے، یعنی "الحاد" (Atheism) کا آپریشن کریں گے۔ ہم جذبات سے نہیں، بلکہ اس زبان میں بات کریں گے جسے آج کا ملحد اپنا خدا مانتا ہے، یعنی "سائنس اور منطق"۔

تاریخی طور پر الحاد کوئی "سائنسی دریافت" نہیں تھی، بلکہ یہ ایک "سماجی ردعمل" (Social Reaction) تھا۔ 

18ویں صدی میں جب یورپ میں چرچ نے سائنس کا گلا گھونٹا، تو ردعمل میں جو تحریک اٹھی اسے "روشن خیالی" (Enlightenment) کہا گیا۔ 

لیکن بدقسمتی سے، انہوں نے نہانے کے پانی کے ساتھ بچے کو بھی بہا دیا۔ انہوں نے "چرچ کے خدا" کا انکار کرتے کرتے "کائنات کے خالق" کا انکار کر دیا۔

مشہور ماہر نفسیات پال وٹز (Paul Vitz) اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ مشہور ملحدین (مثلاً نطشے، فرائیڈ، سارتر) کی زندگیوں میں "باپ کا سایہ" نہیں تھا یا ان کے والد سے تعلقات خراب تھے۔ انہوں نے اپنے والد کی نفرت کو خدا پر پروجیکٹ کر دیا۔

 (Paul Vitz, Faith of the Fatherless, 1999)

تو پہلا نقطہ یہ ہے کہ الحاد اکثر "دلیل" کا نتیجہ نہیں ہوتا، بلکہ "خواہش" کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ایک ایسی خواہش جہاں انسان خود کو "خدا" بنانا چاہتا ہے تاکہ اسے کسی اخلاقی قانون کی پابندی نہ کرنی پڑے۔

ملحدین کا سب سے بڑا دعویٰ یہ ہے کہ "صرف مادہ (Matter) ہی حقیقت ہے"۔ لیکن آئیے دیکھتے ہیں کہ 21ویں صدی کی کوانٹم فزکس کیا کہتی ہے۔

1-آبزرور ایفیکٹ (The Observer Effect):

کوانٹم مکینکس کا مشہور ترین تجربہ "Double Slit Experiment" ہمیں یہ دکھاتا ہے کہ الیکٹران (مادے کا بنیادی ذرہ) اس وقت تک اپنی جگہ متعین نہیں کرتا جب تک اسے "دیکھا" نہ جائے۔ یعنی "مشاہدہ کرنے والا" (Observer) مادے سے پہلے ضروری ہے۔

مشہور نوبل انعام یافتہ فزکس دان میکس پلانک (Max Planck)، جو کوانٹم تھیوری کے بانی ہیں، کہتے ہیں:

"مادہ بذاتِ خود کوئی چیز نہیں ہے۔ تمام مادہ ایک ایسی قوت کی وجہ سے قائم ہے جو ایٹم کے ذرات کو جوڑے رکھتی ہے۔ ہمیں اس قوت کے پیچھے ایک باشعور اور ذہین دماغ (Conscious and Intelligent Mind) کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ یہ دماغ ہی تمام مادے کی بنیاد ہے۔" 

(Max Planck, Das Wesen der Materie, 1944)

اگر کائنات کے آغاز میں کوئی "انسانی آنکھ" نہیں تھی، تو وہ کون سا "مشاہدہ کرنے والا" (Universal Observer) تھا جس نے اس کائنات کی لہروں (Waves) کو مادے (Particles) میں تبدیل کیا؟ 

کوانٹم فزکس یہاں چیخ چیخ کر "الشہید" (ہر چیز کا مشاہدہ کرنے والا) کی گواہی دے رہی ہے۔

2- اینٹروپی اور تھرمو ڈائنامکس:

تھرمو ڈائنامکس کا دوسرا قانون کہتا ہے کہ کائنات مسلسل "نظم" سے "بے ترتیبی" (Disorder) کی طرف جا رہی ہے۔ اگر کائنات ہمیشہ سے ہوتی (Eternal Universe)، تو اب تک اس کی انرجی ختم ہو چکی ہوتی (Heat Death)۔ چونکہ کائنات چل رہی ہے، اس کا مطلب ہے کہ اسے کسی نے "چابی بھری ہے"۔ اسے کسی نے "Start" کیا ہے۔ اور جو چیز شروع ہوتی ہے، اس کا کوئی شروع کرنے والا (Cause) لازمی ہوتا ہے۔

اب ذرا اپنی ذات کے اندر جھانکیں۔

حیاتیات (Biology) میں ڈارون کے زمانے سے اب تک زمین آسمان کا فرق آ چکا ہے۔

1- ڈی این اے: کائنات کا سافٹ ویئر:

آپ کے جسم کے ہر خلیے میں DNA موجود ہے۔ یہ محض ایک کیمیکل نہیں ہے، یہ ایک "انفارمیشن کوڈ" ہے۔

بل گیٹس (Bill Gates) کہتے ہیں: 

"ڈی این اے DNA ایک کمپیوٹر پروگرام کی طرح ہے، لیکن یہ آج تک انسان کے بنائے گئے کسی بھی سافٹ ویئر سے کروڑوں گنا زیادہ پیچیدہ ہے۔" 

(Bill Gates, The Road Ahead, 1995)

سوال یہ ہے: کیا آپ نے کبھی ایسا کمپیوٹر کوڈ دیکھا ہے جو بغیر کسی پروگرامر کے خود بخود ٹائپ ہو گیا ہو؟

اگر میں کہوں کہ میں نے کی بورڈ پر کافی گرائی اور اس سے "ونڈوز 11" بن گئی، تو آپ مجھے پاگل خانے بھیج دیں گے۔ 

تو پھر آپ یہ کیسے مان لیتے ہیں کہ زمین پر امینو ایسڈز (Amino Acids) کے حادثاتی ملاپ سے 3 بلین حروف پر مبنی DNA کا کوڈ خود بخود ترتیب پا گیا؟

انفارمیشن تھیوری (Information Theory) کا بنیادی اصول ہے کہ "معلومات" (Information) ہمیشہ "ذہانت" (Intelligence) سے جنم لیتی ہے، مادے سے نہیں۔

2- ناقابلِ تخفیف پیچیدگی (Irreducible Complexity):

مائیکل بیہی (Michael Behe) نے "بیکٹیریل فلیجلم" (Bacterial Flagellum) کی مثال دی ہے، جو ایک خلیے کے اندر موجود چھوٹی سی موٹر ہے۔ اس کے 40 مختلف پرزے ہیں۔ اگر ایک پرزہ بھی نکال دیں تو موٹر کام نہیں کرتی۔ 

ڈارون کا نظریہ (تدریجی ارتقاء) یہاں فیل ہو جاتا ہے کیونکہ یہ موٹر "آہستہ آہستہ" نہیں بن سکتی تھی، اسے پہلے دن سے ہی مکمل حالت میں ہونا ضروری تھا تاکہ یہ کام کر سکے۔ یہ "ڈیزائن" کی دلیل ہے۔ 

(Michael Behe, Darwin's Black Box, 1996)

اگر ہم سائنس سے ہٹ کر سماجیات (Sociology) اور بشریات (Anthropology) کی بات کریں تو الحاد یہاں سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے۔

1- معروضی اخلاقیات (Objective Morality) کا خاتمہ:

اگر خدا نہیں ہے، تو "اچھائی" اور "برائی" کا کوئی پیمانہ نہیں۔ پھر قتل کرنا "غلط" نہیں، صرف "ناپسندیدہ" ہے۔

مشہور ملحد رچرڈ ڈاکنز (Richard Dawkins) خود اعتراف کرتے ہیں: 

"ایک ایسی کائنات میں جہاں صرف اندھی طبیعیاتی قوتیں ہوں، وہاں نہ کوئی اچھائی ہے نہ برائی، نہ انصاف ہے نہ ظلم، وہاں صرف اندھی بے حسی ہے۔" 

(Richard Dawkins, River Out of Eden, 1995)

اگر الحاد سچ ہے، تو ہٹلر اور مدر ٹریسا میں کوئی فرق نہیں۔ دونوں بس "ایٹمز کی ترتیب" ہیں۔ 

یہ وہ خوفناک سماجی خلا ہے جس نے بیسویں صدی میں کمیونزم اور نازی ازم کو جنم دیا، جنہوں نے خدا کو ہٹا کر ریاست کو خدا بنایا اور 10 کروڑ انسانوں کا قتل عام کیا۔ 

(R.J. Rummel, Death by Government, 1994)

2- گاڈ جین (The God Gene) اور بشریات:

دنیا کی تمام قدیم تہذیبوں (Incas, Mayans, Egyptians) میں، چاہے ان کا آپس میں کوئی رابطہ نہیں تھا، "خدا" یا "مقدس طاقت" کا تصور ہمیشہ موجود رہا ہے۔ آکسفورڈ کی ایک تحقیق (Justin Barrett, Born Believers, 2012) ثابت کرتی ہے کہ بچے پیدائشی طور پر "مذہبی ذہن" رکھتے ہیں۔ الحاد "فطری" (Natural) نہیں ہے، یہ "سکھایا" جاتا ہے۔ انسان کی ساخت (Hardware) میں خدا کی تلاش پروگرامڈ ہے۔

اب ہم اس بحث کو سمیٹتے ہوئے قرآن کے اس منطقی وار (Logical Blow) کی طرف آتے ہیں جس کا جواب آج تک کوئی فلاسفر نہیں دے سکا۔

سورۃ الطور، آیت 35 میں اللہ تین انتہائی منطقی امکانات رکھتا ہے:

"أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ"

(کیا وہ بغیر کسی چیز کے (خود بخود) پیدا ہو گئے؟ یا وہ خود اپنے خالق ہیں؟)

یہاں تین ہی منطقی امکانات (Logical Possibilities) ہیں:

کائنات "عدم" (Nothing) سے بنی:

یہ ناممکن ہے۔ صفر جمع صفر ہمیشہ صفر ہوتا ہے (0+0=0)۔ "کچھ نہیں" (Nothingness) سے "کچھ" (Something) برآمد نہیں ہو سکتا۔سائنس کا اصول ہے Ex nihilo nihil fit (Nothing comes from nothing).

کائنات نے "خود" کو پیدا کیا:

یہ منطقی تضاد (Logical Fallacy) ہے۔ کسی چیز کو تخلیق کرنے کے لیے اس کا "پہلے سے موجود" ہونا ضروری ہے۔ اگر کائنات پہلے سے موجود تھی تو اسے پیدا ہونے کی ضرورت نہیں تھی، اور اگر نہیں تھی تو وہ خود کو کیسے پیدا کر سکتی تھی؟ (Self-creation is impossible).

تیسرا اور آخری امکان:

اسے کسی ایسی ہستی نے پیدا کیا جو "کائنات سے باہر" ہو، جو مادہ نہ ہو، جو وقت (Time) اور مکان (Space) کی قید سے آزاد ہو، اور جو ہمیشہ سے ہو۔

فلسفے کی زبان میں اسے "واجب الوجود" (Necessary Being) کہتے ہیں۔ اور مذہب کی زبان میں اسے "اللہ" کہتے ہیں۔

سورۃ الاخلاص اور جدید کاسمولوجی:

اللہ فرماتا ہے: 

"لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ" (نہ اس سے کوئی نکلا، نہ وہ کسی سے نکلا)۔

یہ بگ بینگ کے بعد کی "Cause and Effect" کی زنجیر کو توڑنے والی واحد منطقی تشریح ہے۔ ہر چیز کی کوئی وجہ (Cause) ہے، لیکن یہ سلسلہ کہیں رکنا چاہیے۔ وہ "First Cause" اللہ ہے۔

میرے دوستو! 

الحاد کوئی "انٹیلیکچوئل پوزیشن" نہیں ہے، یہ ایک "روحانی بیماری" اور "تکبر" ہے۔

سائنسدان جتنا کائنات کی گہرائی میں جا رہے ہیں، انہیں وہاں خدا کے انگوٹھے کے نشان (Fingerprints) مل رہے ہیں۔

کوانٹم فزکس کہتی ہے کہ حقیقت "مادی" نہیں "ذہنی" (Conscious) ہے۔

جینیات کہتی ہے کہ زندگی "حادثہ" نہیں "کوڈ" (Code) ہے۔

اور ہمارا دل... ہمارا دل کہتا ہے کہ اس دنیا میں ہمیں جو "نامکمل پن" کا احساس ہوتا ہے، وہ اس لیے ہے کہ ہم کسی اور دنیا کے لیے بنائے گئے ہیں۔

جیسا کہ رومیؒ نے کہا تھا: 

"مچھلی کو پانی کی دلیل نہیں چاہیے ہوتی، اسے صرف پیاس لگتی ہے۔"

اپنی فطرت کی آواز سنیں، وہ "لا الہ" کے بعد رکتی نہیں، بلکہ "الا اللہ" پر جا کر ہی سکون پاتی ہے۔

فیصلہ اب آپ کا ہے۔ 

کیا آپ ایک "سمجھدار حادثہ" بننا چاہتے ہیں؟ 

یا ایک "با مقصد تخلیق"؟

Denial of God or escape from oneself? خدا کا انکار یا خود سے فرار؟
Denial of God or escape from oneself? خدا کا انکار یا خود سے فرار؟

Post a Comment

Previous Post Next Post