*There is an Incident once that an Elder was going. It was cold and raining. A husband and wife were coming from the front.*
*ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ ایک بزرگ ﷲ والے جا رہے تھے سردی کا موسم تھا بارش بھی تھی سامنے سے میاں بیوی آ رہے تھے* 🥹
ان بزرگوں کے جوتوں سے ایک دو چھینٹیں اُڑیں اور عورت کے کپڑوں پر جا گری شوہر نے جب دیکھا تو بڑا غصہ آیا کہنے لگا تو اندھا ہے تجھے نظر نہیں آتا تو نے میری بیوی کے کپڑے خراب کر ڈالے غصے میں آ کر اس نے ﷲ والے کو ایک تھپڑ لگا دیا۔ بیوی بڑی خوش ہوئی کہنے لگی تم نے میری طرف سے خوب بدلہ لیا خوشی خوشی دونوں گھر کو چل دیے۔
یہ ﷲ والے آگے چلے گئے تھوڑی دور آگے گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک حلوائی کی دوکان ہے حلوائی نے سوچا کہ آج سردی کا موسم ہے لہذا آج مجھے جو ﷲ کا بندہ سب سے پہلے نظر آئے گا تو میں اس کو ﷲ کے لیے گرم گرم دودھ کا پیالہ ضرور پلاؤں گا اب وہ انتظار میں تھا جب بزرگ پاس سے گزرے تو اس نے بلایا، بٹھایا اور گرم گرم دودھ کا پیالہ پیش کیا سردی تو تھی ہی انہوں نے دودھ پیا اور ﷲ کا شکر ادا کیا دوکان سے باہر نکل کر آسمان کی طرف دیکھا اور کہا۔
واہ ﷲ تیری شان کتنی عجیب ہے کہیں تو مجھے تھپڑ لگواتا ہے کہیں گرم دودھ کے پیالے پلواتا ہے اتنے میں وہ میاں بیوی (تھپڑ مارنے والا جوڑا) گھر کے قریب پہنچ چکے تھے خاوند سیڑھیاں چڑھ رہا تھا کہ اس کا پاؤں اٹکا اور وہ گردن کے بل گرا اور وہیں اس کی موت واقع ہو گئی۔
بیوی نے کہا کہ تھوڑی دیر پہلے ایک واقعہ پیش آیا تھا کہیں اس بزرگ نے تو اس کے لئے بدعا نہیں کر دی لوگ ان بزرگ کے پاس آئے اور کہنے لگے ایک تھپڑ ہی تو مارا تھا آپ اسے معاف کر دیتے آپ نے اس کے لیے بد دعا کر دی انہوں کہا نہیں میں نے کوئی بد دعا نہیں کی میں نے صبر کیا۔
بات درحقیقت یہ ہے کہ اس کو بیوی سے محبت تھی جب بیوی کو تکلیف پہنچی تو اس نے بدلہ لیا مجھ سے میرے پروردگار کو محبت تھی جب مجھے تکلیف پہنچی تو میرے پروردگار نے بدلہ لے لیا تو جب انسان صبر سے کام لیتے ہوئے معاملہ ﷲ تعالی کے سپرد کر دیتا ہے تو ﷲ تعالی بدلہ لے لیا کرتا ہے۔۔۔
*سبق:- جب کبھی کوئی ہماری دل شکنی کرتا ہے یا کسی بھی قسم کا نقصان پہنچاتا ہے تو فوری طور پر ہم بدلہ لینے کیلئے خود کو تیار کرلیتے ہیں اور جب ہم بدلہ لیتے ہیں (چاہے اسمیں کامیاب ہوں یا نہیں) تو اللّٰه تعالٰی کی طرف سے اس مسئلے میں کوئی مدد نہیں ملتی لیکن جب ہم صبر کا دامن تھام لیتے ہیں اور صرف اللّٰه پر اپنا معاملہ چھوڑ دیتے ہیں تو اللّٰه تعالٰی سے مدد یقینی طور آتی ہے۔*