I Want Divorce مجھے طلاق چایئے

I Want Divorce
مجھے طلاق چایئے

ایک دوپہر کا وقت تھا۔

ایک خاتون اپنے دو چھوٹے چھوٹے، معصوم بچوں کے ساتھ وکیل کے دفتر میں داخل ہوئی۔

آنکھوں میں فیصلہ تھا، اور لہجے میں تھکن۔

خاتون: وکیل صاحب، میں خلع لینا چاہتی ہوں۔

وکیل نے ایک لمحے کو نگاہ اٹھائی —

خاتون خوش لباس تھی، صاف ستھری، پڑھی لکھی لگ رہی تھی۔

ساتھ آئے بچے چٹے گورے، صحت مند، پیارے پیارے معصومیت لئے ہوئے تھے۔۔

وکیل کے دل میں خیال آیا: یہ کہانی سیدھی نہیں لگتی، اس میں بہت کچھ ہے جو جاننا اہم ہے۔۔

وکیل: بی بی، اپ کیوں خلع لینا چاہتی ہیں کوئی وجہ تو ہوگی؟۔۔

کیا شوہر ظلم کرتا ہے؟

خاتون: نہیں۔

وکیل: خرچہ نہیں دیتا؟

خاتون: نہیں، خرچہ دیتا ہے۔

وکیل: مار پیٹ کرتا ہے؟۔۔

خاتون: نہیں۔

وکیل: کماتا نہیں؟۔۔

خاتون: نہیں، آن لائن کام کرتا ہے۔ دو سے ڈھائی لاکھ مہینہ کماتا ہے۔

وکیل: تو پھر وقت نہیں دیتا ہوگا؟۔۔

خاتون: نہیں، وہ تو گھر سے ہی آن لائن کام کرتا ہے۔ ہر وقت گھر پر ہوتا ہے۔

وکیل: اچھا... تو گھر میں سہولتیں نہیں؟۔۔ بچے آرام میں نہیں؟۔۔

خاتون: نہیں، سب کچھ ہے۔ اے سی، آرام دہ کمرے، سب ہے۔۔

وکیل نے قلم رکھا، کرسی سے ٹیک لگائی۔

چہرے پہ مسکراہٹ، مگر آواز میں حیرت تھی۔۔

وکیل: تو پھر بتائیے بی بی، آپ خلع لینا کیوں چاہتی ہیں؟۔۔

خاتون کا لہجہ اچانک تلخ ہوگیا۔

خاتون: کیونکہ مجھے ان لوگوں نے گھر میں نوکرانی بنا رکھا ہے!

سارا دن ان کے ماں باپ کے نخرے اٹھاؤ، بچوں کی پوٹیاں صاف کرو، کھانے پکاؤ، اور سنو باتیں!

ان کے اماں ابا کو جب دل چاہے چائے چاہیے ہوتی ہے — دن ہو یا رات — “چائے بنا دو!”۔آرڈر کر دیتے ہیں۔۔

بس میں تنگ آ گئی ہوں۔۔

وکیل: اچھا، کپڑے کون دھوتا ہے؟۔۔

خاتون: ایک ماسی آتی ہے، وہ دھو دیتی ہے۔

وکیل: اور صفائی؟۔۔

خاتون: وہ بھی ماسی کرتی ہے۔ مگر باقی سب کچھ میں کرتی ہوں!

وکیل: (سوچ میں) ٹھیک ہے... خلع دائر کر دیتے ہیں۔

لیکن خلع کے بعد کہاں جائیں گی؟۔۔

خاتون: اپنے ماں باپ کے گھر۔ اللہ کا شکر ہے وہ زندہ ہیں، بچپن سے پال کر بڑا کیا اب بھی مجھے پال لیں گے ۔۔

وکیل: بی بی، آپ کے ماں باپ نے آپ کو بڑی محبت اور چاہ سے رخصت کیا۔

کیا انہیں اچھا لگے گا آپ پھر واپس جا کر ان پر بوجھ بنیں؟۔۔

کیا آپ کے ماں باپ کی اور بھی اولاد ہے؟۔

خاتون: جی، ہم پانچ بہن بھائی ہیں۔

وکیل: والد کیا کرتے ہیں؟۔

خاتون: ٹیچر ہیں، ستر، اسی ہزار کماتے ہیں۔

وکیل: تو ان کے گھر میں کام کون کرتا ہے؟۔

خاتون: میری امی... وہ سارا گھر سنبھالتی ہیں۔

وکیل: آپ کی امی کے گھر میں کوئی ماسی نہیں؟۔۔

خاتون: نہیں۔ وہ سارا کام خود ہی کرتی ہیں۔۔

وکیل: اے سی؟۔۔

خاتون: نہیں۔۔

وکیل: آپ کی امی اپنے شوہر، بچوں، آنے جانے والوں، سب کے لیے کھانا پکاتی ہیں — جھگڑے ہوتے ہیں کبھی؟۔۔

خاتون: جی، کبھی کبھار۔

وکیل کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔

اب بات صاف ہو چکی تھی۔۔

وکیل سیدھا ہو کر بیٹھ گیا، گہری سانس لی اور نرم لہجے میں بولا:

وکیل: بیٹی... اب ہم دو خلع کے کیس دائر کریں گے۔

خاتون (چونک کر): دو؟ دوسرا کس کا؟۔

وکیل: ایک آپ کا آپ کے شوہر سے... اور دوسرا آپ کی والدہ کا آپ کے والد سے۔

خاتون (حیران): میری امی کا کیوں؟۔

وکیل: کیونکہ اگر مظلومیت کا پیمانہ وہی ہے جو آپ نے بتایا —

تو آپ کی والدہ تو آپ سے زیادہ مظلوم ہیں۔

وہ بھی تو روز روٹیاں پکاتی ہیں، شوہر کی خدمت کرتی ہیں، بچوں کو سنبھالتی ہیں،

مگر ان کے پاس نہ اے سی ہے، نہ ماسی۔

ان کی کمائی بھی کم ہے، اور آرام بھی کم۔

وکیل کا لہجہ اب بھاری تھا۔

وکیل: بیٹی، خلع لینے سے پہلے ذرا سوچ لو۔

گھر سے نکلنا آسان ہے، دوبارہ گھر بنانا مشکل۔

واپس جاتے ہوئے اگر کسی تندور کے پاس سے گزرو،

تو ذرا اس تندورچی کو دیکھ لینا۔

جون جولائی کی جھلسا دینے والی گرمی میں وہ دس گھنٹے تندور پہ کھڑے ہوکر 1000،1200 روٹی لگاتا ہے اور وہ بھی ہنستے مسکراتے۔۔ اس کے ماتھے پہ شکن تک نہیں آتے۔۔ کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ اس کی ذمہ داری ہے۔۔

صرف اس لیے کہ اس کی بیوی، بچے، اور ماں باپ عزت سے جی سکیں۔۔

اور تمہیں دو وقت کی روٹی پکانا عذاب لگتا ہے؟

I Want Divorce مجھے طلاق چایئے
I Want Divorce مجھے طلاق چایئے

Post a Comment

Previous Post Next Post