*A Unique Historical Order __!!*
*ایک انوکھا تاریخی حکم __!!*
رنجیت سنگھ کے زمانے میں ، پنجاب پر سکھوں کی حکومت تھی، رنجیت سنگھ جنگجو طبعیت کا مالک تھا، ایک آنکھ سے دیکھنے والا بہادر شخص تھا۔ یہ واقعہ رنجیت سنگھ کے زمانے کا ہے۔
سکھ اکٹھے ہوکر رنجیت سنگھ کے دربار میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ مسلمان جو صبح کو اذان دیتے ہیں، اس سے ہمارے برتن ناپاک ہوتے ہیں، مسلمانوں کو ایسا کرنے سے روکا جائے۔
رنجیت سنگھ نے ایک انوکھا تاریخی حکم دیا کہ مسلمانوں کو ایسا کرنے سے روکا جاتا ہے اور جتنے سکھ یہ شکایت لے کر آئے ہیں ان کی ڈیوٹی لگائی جاتی ہے کہ وہ صبح جس وقت اذان ہوتی ہے، اس سے پہلے ہر مسلمان کے گھر جائیں اور اسے بتائیں کہ نماز کا وقت ہوگیا ہے۔
(تاکہ اذان نہ دینی پڑے)
سکھوں پہ تو جیسے قیامٹ ٹوٹ پڑی روزانہ ان کو مشقت کرنی پڑتی، نمازیوں کی تعداد مساجد میں بہت زیادہ ہوگئی۔ کچھ دنوں بعد ان سکھوں نے ہاتھ جوڑ لیے، رنجیت سنگھ سے کہا کہ آپ اپنا حکم واپس لیں، مسلمانوں کو اذان دینے دیں، اب ہمارے برتن ناپاک نہیں ہونگے۔
حاصل کلام:-
فجر میں اٹھنا مؤمن کیلئے بابرکت ہے اور مشرکین کیلئے با زحمت، اور اذان سے فرق صرف شیطان ہی کو پڑتا ہے کسی مؤمن کو نہیں جیسا کہ اس حدیث مبارکہ میں وارد ہے:-
{نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان پادتا ہوا بڑی تیزی کے ساتھ پیٹھ موڑ کر بھاگتا ہے۔ تاکہ اذان کی آواز نہ سن سکے اور جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو پھر واپس آ جاتا ہے۔ لیکن جوں ہی تکبیر شروع ہوئی وہ پھر پیٹھ موڑ کر بھاگتا ہے۔ جب تکبیر بھی ختم ہوجاتی ہے تو شیطان دوبارہ آ جاتا ہے اور نمازی کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے۔ کہتا ہے کہ فلاں بات یاد کر فلاں بات یاد کر ۔ ان باتوں کی شیطان یاد دہانی کراتا ہے جن کا اسے خیال بھی نہ تھا اور اس طرح اس شخص کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں۔
(صحیح بخاری-608)
| *A Unique Historical Order __!!* *ایک انوکھا تاریخی حکم __!!* |