A Wandering Merchant.
پھیری والے تاجر ۔۔۔
یہ پھیری والے پٹھان بھائی ہیں پاکستانی کلچر میں انکا نزول شائد ستر کی دہائی میں ہوا ہوگا ۔۔ یہ پیدائشی کاروباری ذہن رکھتے ہیں اور کوڑا چننے کو بھی کاروبار ہی سمجھتے ہیں کسی بھی کام کاروبار کو چھوٹا بڑا نہیں سمجھتے چاہے بوٹ پالش کرنے ہوں چاہے قہوہ بنا کے اتوار بازاروں میں سپلائی کرنا ہو ۔۔
پاکستان میں ان کی جگہ کیسے بنی ذرا پیچھے جھانکنا پڑے گا ستر کی دہائی سے پاکستانی لوگوں نے بیرون ملک کمائی کے لئے جانا شروع کیا تھا اور اپنے پردیس کاٹنے کے بدلے گھروں کو امپورٹڈ ( جاپانی ) مشینری سے بھر دیا یہاں رہنے والے ان جاپانی کپڑوں اور مشینری کو حسرت سے دیکھتے تھے یہ امپورٹڈ مشینری , ریشمی کپڑے اور کراکری ہاکستان میں ملنا ممکن نہیں تھی باڑا مارکیٹوں مین مل جاتی تھیں لیکن انتہائی مہنگے داموں اور چوری چھپے لینی پڑتی تھیں ورنہ یہ ہائی کوالٹی کی آئٹمز صرف باہر کے ملکوں میں کمائی کرنے والوں کے گھروں کی زینت تھیں جن کی عورتیں اپنے مردوں کی جدائی کی قیمت گولڈ لاد کے اور جاپانی ریشمی کپڑے پہن کے اور امپورٹڈ مشینری استعمال کر کے بھلاتی تھیں ۔
۔مقامی محروم طبقے کی وجہ سے ان پٹھانوں کی پاکستانی مارکیٹوں میں دھیرے دھیرے جگہ بن گئی امید افزا بات یہ تھی یہ ہر گھر اور ہر قریہ میں خود پہنچ جاتے تھے جیسے آجکل ہم آنلائین شاپنگ کرتے ہیں گھر بیٹھے چیز ہم تک پہنچ جاتی ہے بعینہٖ یہ بھائی ہر بازار ہر شہر ہر گاؤں بلکہ ہر گلی خود ہی پہنچ جاتے ۔ انکی دکان عموماً انکے کندھے پہ جمی ہوتی ہے اور یہ گروپ بنا کے چلتے ہیں پسِ منظر میں شائد کہیں روایتی تجارتی قافلوں کا تصور ہوتا ہے ۔ اسی بوجھ کے ساتھ یہ قریہ قریہ گھومتے ہیں عموماً انکے کسٹمر کم آمدنی والے غریب لوگ اور گھریلو خواتین ہوتی ہیں جو گھر کے خرچے سے چھوٹی چھوٹی رقوم بچا کے آڑے وقت کے لئے سینت سینت کے رکھتی ہیں یہ کم آمدنی والا طبقہ ان کا سب سے بڑا کسٹمر ہوتا ہے۔
جنہیں یہ بعض اوقات قسطوں میں بھی سامان دے کے چلے جاتے ڈیلنگ کا انداز ایسا ہوتا ہے جیسے تریا چلتری کر رہے ہیں آج کے بعد کبھی نہیں آئیں گے لیکن ہر مہینے قسط وصول بھی کرنے آتے تھے محاورتاً یہ لوگ سوئی سے لیکر ہوائی جہاز تک ہر چیز بیچتے ہیں اکثر اوقات تو اپنے تن کے کپڑے بھی بیچ جاتے ہیں پوری مارکیٹ میں جو چیز دو ہزار کی بک رہی ہوتی ہے یہ اسکی قیمت پندرہ ہزار بتاتے ہیں اور بارگیننگ کرتے ہنستے ہنستے دو سو کی دے کے چلے جاتے ہیں ۔۔
ان کا حلیہ بھی روایتی افغانوں یا پٹھانوں سے ہٹ کے مقامی ہوتا ہے۔ یہ خریداری تمام تر رسک ہے تمام اشیاء دس نمبری ہوتی ہیں کبھی کبھی قسمت سے چیز اچھی نکل آتی ہے اور ہلکی ہونے کے باوجود برسوں چل جاتی ہے کبھی اتنی بری کہ دو سو ضائع جانے کا دکھ نہیں جاتا ۔۔ چائنہ نے تو اب اب عشرہ دو عشرہ سے ہلکی چیزیں مارکیٹ میں پھینکی ہیں یہ اسّی کی دہائی سے اتنا ہلکا مال اور ہر طرح کا مال خدا جانے کہاں سے لا کے متعارف کرواتے تھے ۔ انکے چھوٹے بڑے تجارتی مراکز( فٹ پاتھ پہ جمی دکانیں ) پورے ملک میں موجود ہیں ۔
| A Wandering Merchant. پھیری والے تاجر ۔۔۔ |