Burp....!
ڈکارررررر.......!
ڈکار
ایک ایسا عمل ہے
جسے ناقابل علاج اور
ناقابل اصلاح سمجھا جاتا ہے
کچھ مہربان تو
سر عام گھر، بازار،
مساجد میں بھی
زور زور سے
ڈکارتے ہیں
جو دیکھنے والوں کو برا لگنے کے ساتھ ساتھ ہماری شخصیت کو بھی متاثر کرتا ہے
عام طور پر
کھانے کے بعد ڈکار کا آنا
فطری عمل سمجھا جاتا ہے
جبکہ ایسا نہیں ہے
ڈکار کیوں آتے ہیں
اس کی وجوہات
جان لیتے ہیں
جلدی جلدی کھانا
منہ کھول کر کھانا
بہت ٹھنڈا پانی پینا
کھانے کے دوران باتیں کرنا
کھانے کے درمیان پانی پینا
کھڑے ہوکر، ٹیک لگا کر کھانا
کولڈ ڈرنک پیپسی کوک
جنک فوڈ کھانا
سفید آٹے کی روٹی ، بیکری کے آئٹم
چیونگم چبانا
اسموکنگ کرنا
پتے اور لبلبہ کے امراض وغیرہ
اب آئیے اس کے
بیحد آسان علاج کی طرف
ہر کھانے سے پہلے
ایک گلاس نیم گرم پانی میں
ایک چمچ سوکھا پودینہ
مکس کر کے پی لیجئے
ان شاء اللہ
ڈکار نہیں آئیں گے
آخر میں
سب سے اہم بات
کیا ڈکار کی آواز کو روکا جاسکتا ہے....؟
جی ہاں
ڈکار آنے سے دو سیکنڈ پہلے اطلاع ضرور کرتا ہے جیسے ہی سگنل ملے
منہ کو بند کر کے
ٹینس بال کی طرح پھلا لیں
اور معدہ سے آنے والی ہوا کو منہ میں بھر کر روک لیں پھر آہستہ آہستہ خارج کر دیں
زرا سی کوشش اور پریکٹس سے اچھی خاصی شرمندگی سے بچ سکتے ہیں
خاص طور پر چھوٹے بچوں کو ابھی سے سکھا دیا جائے
اللہ کریم
ہمیں سیکھنے، سمجھنے، عمل کرنے پھر سکھانے والا بنا دے... آمین
| Burp....! ڈکارررررر.......! |